• Sun, 04 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

وکلاء کی تنظیم نے ایس آئی آرکے اثرات کے جائزے کیلئے سابق ججوں کا پینل قائم کیا

Updated: October 03, 2026, 9:55 PM IST | New Delhi

وکلاء کے گروپ نے ایس آئی آر کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے سابق ججوں پر مشتمل پانچ رکنی پینل قائم کیا،یہ اعلان الیکشن کمیشن کے خلاف اس الزام پر بڑھتے ہوئے غم و غصے کے درمیان سامنے آیا ہے کہ انتخابی فہرستوں سے مسلم ووٹروں کے نام حذف کیے جا رہے ہیں اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

Parliamentarians protest against the SIR. Photo: INN
اراکین پارلیمان کا ایس آئی آر کے خلاف مظاہرہ۔ تصویر: آئی این این

لائرز ایسوسی ایشن فار کانسٹی ٹیوشن (LAFC) نے جمعہ،۲؍ اکتوبر کو سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے سابق ججوں پر مشتمل ایک آزاد کمیشن کی تشکیل کا اعلان کیا ہے تاکہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کی انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی (SIR) کے ڈیزائن، نفاذ اور نتائج پر شہریوں کی جانب سے اٹھائے گئے بڑھتے ہوئے خدشات کا جائزہ لیا جا سکے۔واضح رہے کہ یہ اعلان الیکشن کمیشن کے خلاف اس الزام پر بڑھتے ہوئے غم و غصے کے درمیان سامنے آیا ہے کہ انتخابی فہرستوں سے مسلم ووٹروں کے نام حذف کیے جا رہے ہیں اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔پانچ رکنی کمیشن کی صدارت سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس مدن بی لوکور کریں گے۔ اس کے دیگر اراکین میں سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس اے کے پٹنائک، جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس بدر دریز احمد، دہلی ہائی کورٹ کی سابق جج جسٹس ریکھا شرما اور پٹنہ ہائی کورٹ کی سابق جج جسٹس انجنا پرکاش شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ’وندے ماترم‘ کے تمام ۶؍ بند لازمی قرار دینے کے خلاف بدھ مت کارکن سپریم کورٹ پہنچ گئے


ایل اے ایف سی کے بیان کے مطابق، کمیشن ایس آئی آر مشق کی آئینی اور قانونی حیثیت، طریقہ کار اور اہل ووٹروں پر مجموعی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے مکمل خودمختاری کے ساتھ کام کرے گا۔ یہ تفتیش اس بات کا جائزہ لے گی کہ آیا اس مشق نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ ہر اہل شہری کو انتخابی فہرستوں میں برقرار رکھا گیا ہے جبکہ نااہل اندراجات کو مناسب طریقے سے خارج کیا گیا ہے۔مزید برآں انکوائری کے حصے کے طور پر، کمیشن کے مکمل اور علاقائی بنچ متاثرہ شہریوں، سول سوسائٹی گروپوں اور ماہرین سے براہ راست گواہی سننے کے لیے ملک بھر کا سفر کریں گے۔جبکہ ایک مخصوص تحقیقی ونگ ملک بھر میں ووٹرز کے اضافے اور حذف کرنے کے اعداد و شمار کو جمع اور تجزیہ کرے گا اور اپنے نتائج کمیشن کے سامنے پیش کرے گا۔ ایک قانونی سپورٹ ٹیم آئینی تحفظات کی تعمیل کا جائزہ لینے کے لیے متعلقہ قانون سازی، نوٹیفکیشن اور تصدیقی عمل کا جائزہ لے گی۔

یہ بھی پڑھئے: کرناٹک ایس آئی آر: مسلم ناموں کیخلاف فارم -۷؍ کے مزید انکشافات

مزید براں بیان میں کہا گیا ہے کہ سینئر قانونی ماہرین کپل سبل، پرشانت بھوشن، چندر ادے سنگھ، پرشانتو چندر سین، راجو رام چندرن، ریبیکا میمن جان، وریشہ فراست اور ورندا گروور اسٹریٹجک قانونی مشورے فراہم کریں گے۔ساتھ ہی ایل اے ایف سی میں موجود ایک رابطہ کمیٹی اور سیکرٹریٹ آپریشنل سپورٹ فراہم کرے گا۔ بیان میں کہا گیا،کمیشن اپنے حتمی نتائج اور سفارشات کی واحد ذمہ داری برقرار رکھے گا۔ نہ تو اسپانسر کرنے والی تنظیمیں اور نہ ہی معاون کمیٹیاں ججوں کے ٹھوس فیصلوں، نتائج یا سفارشات پر اثر انداز ہوں گی۔ جبکہ کمیشن کا مقصد اپنی انکوائری کو ایک انتہائی شیڈول پر مکمل کرنا اور دسمبر۲۰۲۶ء تک اپنی حتمی رپورٹ عوام کے لیے جاری کرنا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK