Updated: August 08, 2026, 7:03 PM IST
| Buenos Aires
۲۰۲۶ء کے فیفا ورلڈ کپ کے دوران لیونل میسی، کرسٹیانو رونالڈو، کئی دیگر کھلاڑیوں اور میچ آفیشلز کو ملنے والی سنگین دھمکیوں کی تفصیلات ایک افشا شدہ پولیس ڈوزیئر کے ذریعے سامنے آئی ہیں۔ خلیج ٹائمز کے مطابق اسپین کے اخبار ’انفارماسیون‘ نے پولیس دستاویز کے حوالے سے بتایا کہ ارجنٹائنا کے کپتان لیونل میسی کو ٹورنامنٹ کے دوران کم از کم ۲؍ سنگین حملوں کی دھمکیاں دی گئیں۔
لیونل میسی اور کرسٹیانو رونالڈو۔ تصویر: آئی این این
۲۰۲۶ء کے فیفا ورلڈ کپ کے اختتام کے بعد سامنے آنے والے ایک افشا شدہ پولیس ڈوزیئر نے ٹورنامنٹ کے دوران عالمی شہرت یافتہ فٹبالرز اور میچ آفیشلز کو درپیش سیکوریٹی خطرات کی سنگینی ظاہر کردی ہے۔ خلیج نیوز کی رپورٹ کے مطابق اسپین کے اخبار ’انفارماسیون‘ نے پولیس فائل کے حوالے سے بتایا کہ ارجنٹائنا کے کپتان لیونل میسی کو ٹورنامنٹ کے دوران متعدد مبینہ دہشت گردانہ حملوں اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ پرتگال کے اسٹار کرسٹیانو رونالڈو بھی سیکوریٹی سے متعلق ایک سے زیادہ واقعات میں نشانے پر رہے۔۲۰۲۶ء کا ورلڈ کپ امریکہ، میکسیکو اور کنیڈا نے مشترکہ طور پر منعقد کیا تھا اور ٹورنامنٹ کا فائنل ۱۹؍ جولائی کو ہوا، جس میں اسپین نے ارجنٹائنا کو شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا۔ تاہم اب سامنے آنے والی پولیس دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ ٹورنامنٹ کے دوران سیکوریٹی اداروں کو کھلاڑیوں، ٹیموں، ریفریز اور اسٹیڈیمز سے متعلق متعدد سنگین خطرات سے نمٹنا پڑا۔
یہ بھی پڑھئے: مخالفت کے باوجودشمالی کوریا کا ایک اور بیلسٹک میزائل تجربہ
پولیس ڈوزیئر میں درج سنگین واقعات میں سے ایک ارجنٹائنا اور اردن کے درمیان میچ سے قبل پیش آیا۔ رپورٹ کے مطابق ایک شخص نے مبینہ طور پر ڈلاس ایئرپورٹ سے فون کیا اور دعویٰ کیا کہ وہ اپنے ۲؍ ساتھیوں کے ساتھ اسٹیڈیم میں داخل ہونے والا ہے۔ اس شخص نے دعویٰ کیا کہ اس کے پاس دستی بم اور ایک رائفل موجود ہے۔مذکورہ شخص نے پولیس اہلکاروں اور دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی اور خاص طور پر لیونل میسی کا نام لیا۔ اس طرح مبینہ خطرہ صرف اسٹیڈیم پر عمومی حملے تک محدود نہیں تھا بلکہ میسی کو خصوصی طور پر نشانہ بنانے کی دھمکی بھی دی گئی تھی۔ تاہم دستیاب رپورٹ میں اس بات کی تصدیق نہیں کی گئی کہ دھمکی دینے والا شخص حقیقت میں اسٹیڈیم تک پہنچا یا کوئی حملہ کیا گیا۔
میسی کے خلاف ایک اور سنگین دھمکی ارجنٹائنا اور مصر کے میچ سے قبل سامنے آئی۔ خلیج نیوز کے مطابق ایک مشتبہ شخص نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر مبینہ طور پر لکھا: ’’میں اٹلانٹا اسٹیڈیم میں داخل ہونے والا ہوں اور اپنے جسم کے ساتھ بندھے ۴؍ بموں سے میسی کو اڑا دوں گا۔‘‘ اس دھمکی کے بعد سیکوریٹی اداروں نے صورتحال کو انتہائی سنجیدگی سے لیا۔ اسی میچ کے دوران پولیس کو ایک اور اطلاع موصول ہوئی کہ اسٹیڈیم کے تماشائیوں کے حصے میں موجود ۳؍ کچرے کے ڈبوں میں بم رکھے گئے ہیں۔ اطلاع ملنے کے بعد بم ناکارہ بنانے کے ماہرین اور تربیت یافتہ سراغ رساں کتوں کی مدد سے اسٹیڈیم کی وسیع پیمانے پر تلاشی لی گئی۔
یہ بھی پڑھئے: یورپ میں موسمیاتی بحران شدید، لندن کے باغات اور پارک ہریالی سے محروم
تاہم تلاشی کے دوران کسی دھماکا خیز مواد کی موجودگی نہیں ملی۔ یعنی پولیس کو بموں کی موجودگی کی اطلاع موصول ہوئی، جس کے بعد باقاعدہ تلاشی مہم چلائی گئی، لیکن رپورٹ کے مطابق کوئی بم برآمد نہیں ہوا۔ کرسٹیانو رونالڈو بھی ورلڈ کپ کے دوران سیکوریٹی خدشات سے محفوظ نہیں رہے۔ افشا شدہ پولیس فائل کے مطابق عالمی فٹبال تنظیم فیفا کے ایک ملازم نے حکام کو ایک مشتبہ شخص کے بارے میں اطلاع دی جو پرتگال کے اسٹار کھلاڑی کی ورلڈ کپ کے دوران رہائش سے متعلق معلومات حاصل کرنے کی کوشش کررہا تھا۔ ایک الگ واقعے میں ایک مداح مبینہ طور پر رونالڈو کے ہوٹل میں داخل ہوگیا اور ان کے ساتھ لفٹ میں جانے کی کوشش کی۔ پولیس کے مطابق اس شخص نے بعد میں کہا کہ وہ صرف رونالڈو کے ساتھ تصویر بنوانا چاہتا تھا۔ رپورٹ میں اس واقعے کو رونالڈو سے متعلق سیکوریٹی خدشات کے سلسلے کا ایک حصہ قرار دیا گیا ہے۔
پولیس فائل کے مطابق ٹورنامنٹ کے دوران صرف کھلاڑی ہی نہیں بلکہ میچ آفیشلز بھی آن لائن دھمکیوں کا سامنا کرتے رہے۔ فرانس کے ریفری فرانسوا لیتیکسیے کو ارجنٹائنا اور مصر کے میچ میں کیے گئے فیصلوں کے بعد مبینہ طور پر ۶؍ ہزار سے زائد دھمکی آمیز واٹس ایپ پیغامات موصول ہوئے۔ اسی طرح ویڈیو اسسٹنٹ ریفری ولی دلاجود کو بھی مصر کے ناراض شائقین کی جانب سے جان سے مارنے کی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ پولیس ریکارڈ میں درج ان واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ورلڈ کپ کے دوران فٹبال سے متعلق غصہ بعض مواقع پر شدید آن لائن ہراسانی اور براہ راست دھمکیوں تک پہنچ گیا تھا۔ پولیس ریکارڈ میں ان کھلاڑیوں کے خلاف دھمکیوں کا بھی ذکر ہے جن سے میچ کے اہم لمحات میں غلطیاں ہوئیں۔ ناروے کے اسٹرائیکر الیگزینڈر سورلوت اور ان کی اہلیہ کو مبینہ طور پر اس وقت جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں جب انہوں نے انگلینڈ کے خلاف کوارٹر فائنل میں ایرلنگ ہالینڈ کو گیند پاس نہیں کی۔
یہ بھی پڑھئے: ایران میں حکومت گرانے کا مبینہ منصوبہ ناکام، موساد سے دو سینئر افسر برطرف
اسی طرح کولمبیا کے وِنگر جون خمیِنٹون کیمپاز کو ایک اہم پنالٹی ضائع کرنے کے بعد دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ رپورٹ کے مطابق سیکوریٹی خدشات کے باعث وہ اپنی قومی ٹیم کے ساتھ وطن واپس بھی سفر نہیں کرسکے۔ ورلڈ کپ کے دوران فرانس کے اسٹار کھلاڑی کیلیان ایمباپے بھی آن لائن اور عوامی سطح پر شدید ردعمل کا سامنا کرنے والے کھلاڑیوں میں شامل رہے۔ رپورٹ کے مطابق فرانس اور پیراگوئے کے درمیان مقابلے کے بعد انہیں نسلی و قومیتی تعصب پر مبنی توہین آمیز رویے کا سامنا کرنا پڑا۔ پیراگوئے کے فرانس سے میچ ہارنے کے بعد شائقین نے ایمباپے سے منسوب ایک پتلا بھی جلایا۔ تاہم ان تمام واقعات میں میسی کے خلاف سامنے آنے والی مبینہ دھمکیاں خاص طور پر سنگین نوعیت کی تھیں، کیونکہ ان میں اسٹیڈیم میں داخل ہوکر خودکش بم حملہ کرنے اور براہ راست ارجنٹائنا کے کپتان کو نشانہ بنانے کے دعوے شامل تھے۔
دستیاب معلومات کی بنیاد پر ان واقعات کو مکمل شدہ دہشت گرد حملہ یا ناکام خودکش بم حملہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ سامنے آنے والی پولیس دستاویز میں مختلف دھمکیوں اور سیکوریٹی انتباہات کا ذکر ہے، جن میں بعض افراد کے دعوے، فون کالز اور سوشل میڈیا پوسٹس شامل ہیں۔ میسی کو نشانہ بنانے والی دھمکیوں کے بعد سیکوریٹی اداروں نے کارروائی کی اور اسٹیڈیم کی تلاشی بھی لی، تاہم کسی بم کی برآمدگی کی اطلاع نہیں ملی۔ اسی طرح رونالڈو کے معاملے میں ان کی رہائش سے متعلق معلومات حاصل کرنے کی مبینہ کوشش اور ایک مداح کے ہوٹل میں داخل ہونے کا واقعہ سامنے آیا، لیکن اسے کسی ثابت شدہ دہشت گرد حملے کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔ اس لیے پولیس ڈوزیئر میں درج ان واقعات کو مبینہ دھمکیوں، سیکوریٹی خدشات اور حملوں کے دعووں کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرت شروع ہوتے ہی بند
افشا شدہ پولیس فائل نے اس جانب توجہ ضرور دلائی ہے کہ ۲۰۲۶ء کے ورلڈ کپ جیسے عالمی کھیلوں کے سب سے بڑے مقابلے کے دوران سخت سیکوریٹی انتظامات کے باوجود عالمی شہرت رکھنے والے کھلاڑی، ریفریز اور دیگر اہلکار مختلف نوعیت کے حقیقی یا مبینہ خطرات کا سامنا کرتے رہے۔ میسی کے خلاف مبینہ بم دھماکے کی دھمکیوں سے لے کر رونالڈو کی رہائش سے متعلق معلومات حاصل کرنے کی کوشش، ریفریز کو ہزاروں دھمکی آمیز پیغامات اور دیگر کھلاڑیوں کو ملنے والی جان سے مارنے کی دھمکیوں تک، پولیس ریکارڈ نے ٹورنامنٹ کے ایک ایسے پہلو کو سامنے لایا ہے جو میدان میں ہونے والے مقابلوں سے بالکل مختلف تھا۔