Inquilab Logo Happiest Places to Work

لبنان: ہزاروں عیسائیوں کا اسرائیل کے حکم پر گاؤں چھوڑنے سے انکار، پوپ کی حمایت

Updated: May 09, 2026, 10:08 PM IST | Beirut

لبنان میں ہزاروں عیسائیوں نے اسرائیل کا حکم ماننے سے انکار کردیااور اپنا گاؤں نہ چھوڑنے کا عزم کیا، انہیں پوپ لیو کا بھی ساتھ حاصل ہے،ان دسیوں ہزار عیسائیوں میں زیادہ تر مارونی مسیحی ہیں اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے باوجود وہاں ڈٹے ہوئے ہیں۔

A picture of the destruction caused by Israel in southern Lebanon. Photo: X
جنوبی لبنان میں اسرائیل کے ذریعے کی تباہی کی ایک تصویر۔ تصویر: ایکس

جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں کے باوجود، مسیحی آبادی والے دیہات کے تقریباً۱۰؍ ہزار باشندے نام نہاد ’’پیلی لکیر‘‘ کے اندر واقع اپنے علاقوں کو چھوڑنے سے انکار کر رہے ہیں۔ یہ دیہات، جن میں دیبل، عین ایبل، اور رمیش شامل ہیں، زیادہ تر مارونی مسیحی ہیں اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے باوجود وہاں ڈٹے ہوئے ہیں۔اسرائیلی حملوں میں اب تک کم از کم۲۷۵۹؍ افراد شہید ہو چکے ہیں، جبکہ ۸۵۱۲؍ افراد زخمی ہیں، اور۱۶؍ لاکھ ملین سے زیادہ بے گھر ہو چکے ہیں۔ اگرچہ ان دیہاتوں میں حزب اللہ کی کوئی سرگرمی نظر نہیں آتی، جس کی وجہ سے وہ براہ راست بمباری سے محفوظ ہیں، لیکن یہ لبنانی باشندےجنگ اور اپریل میں اعلان کردہ جنگ بندی کے دوران شدید انسانی مشکلات کا شکار ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: حزب اللہ کی ’رضوان فورس‘ کے کمانڈر کی اسرائیلی حملے میں موت

بعد ازاں پوپ لیو نے منگل کو جنوبی لبنان کے پادریوں کے ساتھ ویڈیو کال میں ان کی استقامت کی تعریف کی اور انہیں دعا دی۔ رمیش کے پادری فادر ناجب العامیل کے مطابق، پوپ نے انہیں یقین دلایا کہ وہ ان کے لیے دعا کر رہے ہیں اور ان سے دنیا بھر میں امن کے لیے دعا کرنے کی اپیل کی۔ اس اقدام نے مسیحی برادری کے حوصلے بلند کر دیے۔واضح رہے کہ تین ہفتوں تک یہ دیہات مکمل طور پر منقطع رہے، جہاں نہ کوئی داخل ہو سکا اور نہ باہر جا سکا۔۱۷؍ اپریل کی جنگ بندی کے بعد پہلے امدادی قافلے پہنچے، لیکن ابھی تک کوئی محفوظ راہداری موجود نہیں ہے۔ رمیش میں کینسر اور گردے کے مریضوں کو دوائیوں کی شدید قلت کا سامنا ہے، جبکہ قریبی اسپتال۷۰؍ کلومیٹر دور صیدون میں ہے۔
اسرائیل نے اپنے حملوں کے دوران مسیحی علامات پر بھی حملے کئے،دیبل میں اسرائیلی فوجیوں نے ماںمریم کے مجسمے کی بے حرمتی کی اور ان کے منہ میں سگریٹ رکھ دیا۔ اس سے قبل۱۹؍ اپریل کو ایک اسرائیلی فوجی نے حضرت عیسیٰ کا مجسمہ توڑتے ہوئے ویڈیو وائرل کی تھی، جس پر عالمی سطح پر مذمت کی گئی۔اس کے علاوہ دیبل کے میئر کے مطابق، قصبہ شدید محاصرے میں ہے اور کسی کو اندر آنے کی اجازت نہیں، سوائے ویٹیکن کے سفیر کے۔ اسرائیلی بلڈوزر نے قصبے میں سولر پینل تباہ کر دیے، جس سے بجلی کی مکمل بندش ہو گئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ: آبنائے ہرمز میں امریکی جنگی جہازوں اور ایرانی فورسیزکے درمیان فائرنگ

مزید برآں اسرائیلی محاصرے میں مریضوں کی مو ت بھی واقع ہو رہی ہے،رمیش میں ایک مریض  اس لیے فوت ہو گیا کہ اسرائیلی فوج نے اسےاسپتال منتقل کرنے سے روک دیا۔ اسی طرح دیبل میں ایک ذیابیطس کے مریض کی موت اس لیے ہوئی کہ اسرائیلیوں نے اسے علاج کے لیے نکلنے کی اجازت نہیں دی۔حالانکہ ۱۷؍ اپریل سے جنگ بندی نافذ ہے، تاہم اسرائیل روزانہ کی بنیاد پر اس کی خلاف ورزی کررہا ہے۔ساتھ ہی جنوبی لبنان کے درجنوں دیہاتوں میں ہزاروں گھروں کو مسمار کررہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK