Updated: October 21, 2026, 9:09 AM IST
| Beirut
نیشنل لائبریری میں لانچ کئے گئے اس پلیٹ فارم کا مقصد لبنان کے مادی اور غیر مادی ورثے کا عالمی آرکائیو تیار کرنا ہے، جس کے تحت اندرون اور بیرونِ ملک مقیم لبنانی شہریوں سے اس میں حصہ ڈالنے کی اپیل کی گئی ہے۔ ’الشرق الاوسط‘ سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ ثقافت غسان سلامہ نے کہا کہ حالیہ جنگ نے آثارِ قدیمہ کے مقامات، تاریخی بازاروں اور ثقافتی ورثے کو نقصان پہنچایا ہے، جس کے نقصانات کا تخمینہ لاکھوں ڈالر سے زیادہ ہے۔ انہوں نے جنگ کے اثرات کو ”ہماری انتہائی قریبی اور نجی تاریخ کی چوری“ قرار دیا۔
لبنان کی وزارتِ ثقافت نے ملک کی اجتماعی تاریخ کے حصے کے طور پر خاندانی تصاویر، گھریلو ویڈیوز، خطوط، انٹرویوز اور پرانے گانوں کو محفوظ کرنے کیلئے ”آرکائیونگ لبنانیز ہیریٹیج“ (لبنان کے ورثے کی دستاویز بندی) نامی ڈجیٹل آرکائیو کا آغاز کیا ہے۔ نیشنل لائبریری میں پیش کئے جانے والے اس پلیٹ فارم کا مقصد لبنان کے مادی اور غیر مادی ورثے کا عالمی آرکائیو تیار کرنا ہے، جس کے تحت اندرون اور بیرونِ ملک مقیم لبنانی شہریوں سے اس میں حصہ ڈالنے کی اپیل کی گئی ہے۔ اسے ’ہیریٹیج انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ‘ (HII) اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں کے اشتراک سے تیار کیا گیا ہے۔ اس کی نقاب کشائی لبنانی وزیرِ ثقافت غسان سلامہ، اطالوی سفیر فیبریزیو مارسیلی، ایچ آئی آئی کے صدر سرجیو ایوینو اور ڈائریکٹر جنرل برائے آثارِ قدیمہ سرکیس خوری کی موجودگی میں کی گئی۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ: فنڈز کی شدید کمی، ۵؍ لاکھ فلسطینیوں کی ماہانہ غذائی امداد بند کرنے کا فیصلہ
لبنانی ورثے پر اسرائیل جنگ کے اثرات
’الشرق الاوسط‘ سے گفتگو کرتے ہوئے سلامہ نے کہا کہ حالیہ جنگ نے آثارِ قدیمہ کے مقامات، تاریخی بازاروں اور ثقافتی ورثے کو نقصان پہنچایا ہے، جس کے نقصانات کا تخمینہ لاکھوں ڈالر سے زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”جس چیز کو نقصان پہنچا ہے اس کی بحالی میں ایک پوری نسل لگ سکتی ہے۔“ انہوں نے جنگ کے اثرات کو ”ہماری انتہائی قریبی اور نجی تاریخ کی چوری“ قرار دیا۔ انہوں نے نشان دہی کی کہ نجی خاندانی ذخائر میں عوامی اداروں کے مقابلے زیادہ قیمتی مواد ہو سکتا ہے۔ انہوں نے لبنان کے آئین کی صد سالہ تقریبات کے حوالے سے ایک نمائش کی تیاری کے دوران دریافت ہونے والی دستاویزات کا حوالہ دیا۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ: فلسطینی کمہار نے والدین کیلئے مٹی سے گنبد نما مکان بنایا، محفوظ چھت دینے کی کوشش
پلیٹ فارم کیسے کام کرتا ہے
یہ پلیٹ فارم اصل دستاویزات کے بجائے ڈجیٹل کاپیاں قبول کرتا ہے، اگرچہ تعاون کرنے والے افراد محفوظ تحویل کیلئے اصل کاپیاں نیشنل لائبریری میں جمع کرا سکتے ہیں۔ ایک تحریری معاہدہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ تعاون کرنے والوں کے پاس خصوصی دانشورانہ ملکیتی حقوق برقرار رہیں اور وہ کسی بھی وقت مواد واپس لے سکتے ہیں۔ عطیہ دہندگان اس بات کو بھی کنٹرول کرتے ہیں کہ ان کے جمع کرائے گئے مواد کو کس حد تک شیئر کیا جائے، جس میں مکمل طور پر نجی اسٹوریج سے لے کر عام رسائی تک کے اختیارات شامل ہیں۔ ایوینو نے اس اقدام کو ”ڈجیٹل قلعہ“ قرار دیا جو دنیا بھر میں مقیم لبنانی تارکینِ وطن اور لبنان کے دوستوں کیلئے کھلا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اے آئی کمپنیوں کی نئی دوڑ: اب انسانی مہارت اور روزمرہ کاموں کا ڈیٹا اربوں ڈالر میں خریدنے کیلئے تیار
مستقبل کی جانب پیش رفت
خوری نے لبنانی عوام پر زور دیا کہ وہ ورثے کے نقصانات سے مایوس نہ ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”ہماری کہانی ان نقصانات کے ساتھ ختم نہیں ہوتی... ہماری یادیں باقی رہ جانے والے اثاثوں کو بچانے میں مدد کرتی ہیں۔“ مارسیلی نے لبنان کے ورثے کے تحفظ کیلئے اٹلی کی مسلسل حمایت کا اعادہ کیا، جس میں انہوں نے بیروت نیشنل میوزیم اور مار میخائل ریلوے اسٹیشن پر بحالی کے کاموں کا حوالہ دیا اور بڑے تاریخی واقعات کے ساتھ ساتھ روزمرہ کی زندگیوں کی دستاویز بندی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔