• Thu, 17 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

برطانیہ: کنگز یونیورسٹی: فلسطین نواز مظاہرے پر معطل مصری طالبعلم کا دوبارہ داخلہ

Updated: September 17, 2026, 10:06 PM IST | London

برطانیہ کی کنگز یونیورسٹی لندن فلسطین نواز مظاہروں پر معطل مصری طالب علم کو دوبارہ داخل کرلیا، ساتھ ہی یونیورسٹی نے طالب علم کے ویزا اسپانسرشپ کی بحالی کا عمل شروع کرنے کی بھی تصدیق کی۔

Photo: X
تصویر: ایکس

۲۲؍سالہ اسامہ غانم اس خزاں میں تقریباً۱۸؍ ماہ بعد کنگز کالج لندن( KCL )واپس آئیں گے، جب یونیورسٹی حکام نے انہیں غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دیا تھا اور فلسطین نواز مظاہروں میں ان کی شمولیت کے الزامات پر ان کے ویزا اسپانسرشپ کو واپس لینے کا اقدام کیا تھا۔ واضح رہے کہ غانم کو مبینہ طور پر اگست کے آخر میں یونیورسٹی کی طرف سے ایک ای میل موصول ہوا جس میں کہا گیا تھا کہ اس نے ان کے خلاف غیر تعلیمی بدانتظامی کے اپنے نتائج کو برقرار رکھا ہے، جبکہ انہیں یہ بھی بتایا گیا کہ انہوں نے اپنے اخراج کی شرائط کی ’’کوئی خلاف ورزی نہیں‘‘کی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: میکلمور کا فلسطینیوں کیلئےایک ملین ڈالر جبکہ ایڈ شیرن، رابرٹ کرافٹ کا ۲؍ ملین ڈالر عطیہ کرنےکا اعلان

بعد ازاں ای میل میں کہا گیا، ’’مقرر کردہ شرائط پوری ہو گئی ہیں اور آپ کی معطلی یا اخراج کے برقرار رہنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔اس کے مطابق، آپ کو۲۰۲۶ء-۲۷ء تعلیمی سال کے لیے دوبارہ داخلہ لینے کے لیے مدعو کیا جائے گا اور آپ کو کنگز کالج لندن تک رسائی کی اجازت ہوگی۔‘‘ مزید برآں یونیورسٹی نے ستمبر کے اوائل میں بھیجے گئے ایک علاحدہ میمو میں اس بات کی بھی تصدیق کی کہ وہ غانم کی ویزا اسپانسرشپ کی بحالی کا عمل شروع کرے گی۔
تاہم غانم کےمعاملے نے مبینہ طور پر کچھ ماہرین تعلیم کی جانب سے عوامی تنقید کو جنم دیا، جنہوں نے امریکی اور برطانوی یونیورسٹیوں کی جانب سے کریک ڈاؤن پر تشویش کا اظہار کیا جو فلسطینی یکجہتی کے قانونی اظہار اور اسرائیل پر تنقید کے لیے مسلم طلبہ اور غیر سفید فام طلبہ کو غیر متناسب طور پر متاثر کرتا ہے۔غانم نے سی این این کو بتایا کہ انہوں نے بدانتظامی کے الزامات کو ’’غیر مبہم طور پر’’ مسترد کر دیا، یہ کہتے ہوئے کہ جائزے کے نتائج نے ’’ایک بہت بڑی مثال قائم کی۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ’’ وہ فلسطینی حقوق، اور غزہ میں نسل کشی میں ملوث تمام ہتھیاروں اور تمام ملوث کرداروں سے علاحدگی کی لڑائی کی وکالت جاری رکھیں گے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکی ایوانِ بالا میں ڈیموکریٹ کا اسرائیل کو ۴۰؍ ہزار بموں کی منظوری سے انکار

دریں اثنا، KCL کے ترجمان نے سی این این کو بتایا کہ غانم کی معطلی کا جائزہ ہمیشہ یونیورسٹی کے معیاری طریقہ کار کے حصے کے طور پر عائد کیے جانے کے ایک سال بعد ہونا طے تھا۔ترجمان نے کہا، ’’اس جائزے کے بعد، ایک پینل نے طے کیا کہ اس نے معطلی کے لیے متفقہ شرائط کو پورا کیا ہے، اور یہ کہ دوبارہ داخلہ اب مناسب ہے،‘‘ ترجمان نے مزید کہا،’’ہم ہمیشہ بدانتظامی کی کارروائیوں کے لیے منصفانہ نقطہ نظر کا اطلاق کریں گے، اور جہاں رویہ حفاظتی اور سیکیورٹی ضوابط کی خلاف ورزی کرتا ہے، یا دوسروں کو خطرے میں ڈالتا ہے، وہاں کارروائی کرنا فرض ہے۔‘‘ ترجمان نے یہ بھی نوٹ کیا کہ ویزا اسپانسرشپ کے فیصلے یونیورسٹی کے بجائے یوکے ویزا اینڈ امیگریشن کے ذریعہ کیے جاتے ہیں، جس کی قانونی ذمہ داری ہے کہ وہ ایجنسی کو طالب علم کی حیثیت میں تبدیلیوں سے آگاہ کرے۔
جبکہ غانم یونیورسٹی واپس آنے کی تیاری کر رہے ہیں، KCL کے خلاف ان کا دائر کردہ قانونی کیس جاری ہے۔ کیس میں یونیورسٹی کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، حملہ، ذاتی چوٹ، امتیازی سلوک اور ہراساں کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ذہن نشین رہے کہ اکتوبر۲۰۲۵ء سے جاری جنگ بندی معاہدے کے باوجود، اسرائیل غزہ کی پٹی کے مختلف حصوں میں فضائی حملے، گولہ باری اور فائرنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔جنگ بندی کے نافذ ہونے کے بعد سے، اسرائیلی افواج نے ۱۳۸۱؍فلسطینیوں کو ہلاک کیا ہے جسے فلسطینی حکام جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزیوں کے طور پر بیان کرتے ہیں۔
 یاد رہے کہ اسرائیل نے۸؍ اکتوبر۲۰۲۳ء کو غزہ پر اپنی جنگ شروع کی، فلسطینی اعداد و شمار کے مطابق۷۳۰۰۰؍ سے زیادہ فلسطینیوں کو ہلاک اور۱۷۴؍ سے زیادہ کو زخمی کیا۔ فلسطینی حکام کے مطابق خطے کے تقریباً۹۰ فیصد بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے۔ اسرائیل کے انہیں مظالم کے خلاف دنیا بھر کے تعلیمی اداروں اور عوام نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے سڑکوں پر احتجاج کیا، انہیں  مظاہرین میں سے ایک غانم بھی تھا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK