Updated: January 11, 2026, 5:02 PM IST
| New York
نیو یارک سٹی کے میئر ظہران ممدانی نے کوئنز میں ایک عبادت گاہ کے باہر احتجاج کے دوران استعمال ہونے والی زبان کی سخت تنقید کی جہاں فلسطینی حامی مظاہرین نے حماس کے حق میں نعرے لگائے جبکہ اسرائیل کے حامی مظاہرین نے نسلی اور ہم جنس مخالف نازیبا الفاظ استعمال کئے۔
ظہران ممدانی۔ تصویر: ایکس۔
نیو یارک سٹی کے میئر ظہران ممدانی نے کوئنز میں ایک عبادت گاہ کے باہر احتجاج کے دوران استعمال ہونے والی زبان کی سخت تنقید کی جہاں فلسطینی حامی مظاہرین نے حماس کے حق میں نعرے لگائے جبکہ اسرائیل کے حامی مظاہرین نے نسلی اور ہم جنس مخالف نازیبا الفاظ استعمال کئے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق یہ احتجاج جمعرات کی رات ہوا۔ مظاہرین نے نعرہ لگایا’’زور سے کہو صاف کہو، ہم یہاں حماس کی حمایت کرتے ہیں ‘‘، جس کے بعد جمعہ کو ممدانی سے صحافیوں نے اس مظاہرے کے بارے میں سوالات کئے۔
یہ بھی پڑھئے: مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے ساتھ نسلی امتیاز بڑھتا جارہا ہے: یواین رپورٹ
ممدانی نے ایک بیان میں کہا کہ ’’جو تقریر اور مظاہرہ ہم نے دیکھا وہ غلط ہے اور ہمارے شہر میں اس کی کوئی جگہ نہیں۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا کہ ان کی ٹیم گزشتہ رات کے احتجاج اور اس کے جوابی احتجاج کے سلسلے میں نیو یارک پولیس کے ساتھ رابطے میں ہے اور وہ عبادت گاہوں میں داخل اور باہر نکلنے والے شہریوں کی حفاظت اور احتجاج کے آئینی حق کو یقینی بنائیں گے۔ بعد ازاں، حماس کی حمایت کی واضح مذمت نہ کرنے پر تنقید کے درمیان ممدانی نے سوشل میڈیا پر لکھا، ’’کسی عسکری پسند تنظیم کی حمایت میں نعرے ہمارے شہر میں جگہ نہیں رکھتے۔ ‘‘احتجاج کی جگہ کوئو گارڈنز ہلز، کوئنز میں تھی، جہاں ایک بڑی آرتھوڈوکس یہودی برادری آباد ہے، اور یہ احتجاج ایک ایسے پروگرام کے باہر ہوا جو یروشلم میں امریکی رئیل اسٹیٹ سرمایہ کاری کو فروغ دے رہا تھا۔ رات کے دوران مظاہرین کے درمیان سخت کشیدگی پیدا ہوئی اور دونوں طرف کے مظاہرین نے ایک دوسرے کے خلاف دھمکیاں اور توہین آمیز نعرے لگائے جبکہ پولیس نے سڑک بند کر دی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: روس کا یوکرین پر ہائپر سونک میزائل سے حملہ، امریکہ کیلئے اشارہ
حماس حامی نعرے کی ویڈیو بعد میں اسرائیلی صحافی کی جانب سے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی جس پر نیو یارک کے کئی منتخب عہدیداروں سمیت ممدانی نے تنقید کی۔ ممدانی نے مظاہرین کو ایسے الفاظ استعمال کرنے پر تنقید کی جیسے ’’آئی ڈی ایف کو موت‘‘ اور ’’انتفادہ کو عالمی بناؤ‘‘ جبکہ عبادت گاہ کے منتظمین کو بھی اس پروگرام کی میزبانی پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ دیگر حکام نے بھی حماس کے حق میں نعرے کی مذمت کی۔ ممدانی نے عبادت گاہوں میں دخل اندازی کے بغیر داخلے کے حق کے دفاع کیلئے ۹؍ نومبر میں میٹروپولیٹن مینہٹن میں ہونے والے ایک سابق احتجاج کا حوالہ بھی دیا۔ انہوں نے کہا کہ مقدس مقامات کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے استعمال نہیں ہونا چاہئے۔
یہ بھی پڑھئے: اگر ہم نے نہیں کیا تو روس یا چین، گرین لینڈ پر قبضہ کرلیں گے: ٹرمپ کا دعویٰ
جمعہ کے احتجاج کے بعد، ممدانی نے عبادت گاہوں کو خلل ڈالنے والے مظاہروں سے محفوظ بنانے کیلئے تجاویز میں دلچسپی ظاہر کی۔ میئر کے عہدے سنبھالنے کے پہلے ہفتے میں ہی انہوں نے ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا جس میں پولیس اور شہر کے قانون محکمہ کو ہدایت دی گئی کہ وہ ایسے اقدامات کا جائزہ لیں جو عبادت گاہوں کے باہر احتجاج کی سرگرمیوں پر کچھ پابندیاں عائد کریں۔ ممدانی کو اسرائیل کے حق میں گروپوں اور کچھ یہودی لیڈروں کے درمیان اعتماد قائم کرنے میں مشکلات کا سامنا رہا ہے، تاہم، انہیں کئی یہودی ووٹرز کی حمایت بھی حاصل ہے جو ان کے مشن اور مشرق وسطیٰ پر ان کے نظریات سے متاثر ہیں۔