Updated: March 20, 2026, 3:10 PM IST
| Paris
فرانس کے صدر میکرون نے دوسری جنگ عظیم میں فرانس کی مزاحمت کو یاد کرتے ہوئے نئے فرانسیسی طیارہ بردار بحری بیڑے کا نام ’’فری فرانس‘‘ رکھا، یہ منصوبہ فرانس کے پرانے ہو رہے جوہری توانائی سے چلنے والے چارلس ڈیگال طیارہ بردار جہاز کی جگہ لینے کے لیے۱۲؍ بلین ڈالر کے پروگرام کا حصہ ہے۔
فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے بدھ کو اعلان کیا کہ ملک کے نئے طیارہ بردار بحری جہاز کا نام فرانس لیبر (آزاد فرانس) رکھا جائے گا۔ یہ نام دوسری جنگ عظیم میں فرانس کی مزاحمت (ریزسٹنس) کی تحریک کے اعزاز میں دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ یہ منصوبہ فرانس کے پرانے ہو رہے جوہری توانائی سے چلنے والے چارلس ڈیگال طیارہ بردار جہاز کی جگہ لینے کے لیے۱۲؍ ؍ بلین ڈالر کے پروگرام کا حصہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: پوتن کا پیغام، نیٹو اور میکرون کا مطالبہ: ایران جنگ پر سفارتی دباؤ بڑھ گیا
یہ جنگی جہاز فرانس کی نیوکلیئر ڈیٹرنٹ کا مرکز ہے اور یورپ کی دفاعی خودمختاری (ڈیفنس آٹونومی) کی کوششوں کا حصہ ہے۔ خاص طور پر جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نیٹو اتحادیوں پر اپنے دفاع کے اخراجات بڑھانے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔· فرانس یورپی یونین کی واحد جوہری طاقت (نیوکلیئر پاور) ہے اور چند یورپی ممالک میں سے ایک ہے جس کے پاس طیارہ بردار بحری جہاز ہے۔ بعد ازاں صدر نے شپ یارڈ کے کارکنوں سے ملاقات کے بعد کہا، ’’ہمارے سمندر اور بحر ہم عصر تنازعات کے نئے میدان ہیں... حالیہ دنوں نے اس کی تصدیق کی ہے اور مستقبل اس کی مزید تصدیق کرے گا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ہمیں نیٹو کیساتھ کی ضرورت نہیں ہے : ڈونالڈ ٹرمپ
خصوصیات:
یہ نیا جہاز۳۱۰؍ میٹر طویل ہوگا اور اس میں دو جوہری ری ایکٹر (نیوکلیئر ری ایکٹرز) ہوں گے، جو اسے یورپ میں بنایا جانے والا سب سے بڑا جنگی جہاز بنائیں گے۔ اس میں جنگی طیاروں کے ساتھ جدید ڈرون ٹیکنالوجی بھی شامل ہوگی۔۲۰۳۶ءمیں سمندری آزمائشوں کے بعد یہ جہاز۲۰۳۸ء میں فعال ہو جائے گا، جب چارلس ڈیگال کو ریٹائر ہونے کی امید ہے۔ واضح رہے کہ چارلس ڈیگال ۲۰۰۱ءمیں سروس میں آیا تھا اور فی الحال بحیرہ روم میں تعینات ہے۔اگر موازنہ کیا جائے تو امریکہ کے پاس۱۱؍ اور چین کے پاس ۳؍ طیارہ بردار بحری بیڑے ہیں۔ جوہری توانائی (نیوکلیئر پاور) سے چلنے کی وجہ سے ان جہازوں کو روایتی جہازوں کی نسبت کم بار ایندھن بھرنے کی ضرورت ہوتی ہے، جس سے ان کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے۔