Updated: October 30, 2026, 1:05 PM IST
| Medina
مدینہ اسلامک یونیورسٹی کی مبینہ ’ممنوعہ مصنفین ‘کی فہرست میں مودودی، ندوی اور قطب جیسے نام شامل کئے جاسکتے ہیں، سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اور سعودی عرب کی جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ (مدینہ اسلامک یونیورسٹی) کے لائبریری امور کے شعبے سے منسوب ایک دستاویز کے مطابق، تقریباً ۱۰۰؍ ایسے مصنفین کے نام سامنے آئے ہیں جن کی کتابوں پر ادارے میں پابندی عائد کی جا سکتی ہیں۔
’’ممنوعہ مصنفین کے ناموں کی فہرست‘‘ (قائم بأسماء المؤلفين الممنوعين) کے عنوان سے سامنے آنے والی اس دستاویز میں ابوالحسن علی ندوی، ابو الاعلیٰ مودودی، سید قطب، مالک بن نبی، یوسف القرضاوی اور محمد الغزالی جیسے معروف اسلامی علماء اور مفکرین شامل ہیں۔ سعودی محقق اور انسانی حقوق کے کارکن عبداللہ العودہ نے سوشل میڈیا پر اس مبینہ فہرست کی ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے ان اطلاعات اور پابندیوں کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے۔ تاہم، اس دستاویز کی حقیقت اور ان اقدامات کے دائرہ کار کی ابھی تک آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ یہ بات ابھی غیر واضح ہے کہ آیا یونیورسٹی نے اس فہرست کی باقاعدہ منظوری دی ہے یا یہ مبینہ پابندیاں ان مصنفین کی تمام تصانیف پر لاگو ہوتی ہیں یا صرف کچھ مخصوص کتابوں پر۔
یہ بھی پڑھئے: عرب ریڈنگ چیلنج: ۱۱؍ سالہ مصری طالبہ نے ۵؍ لاکھ درہم کا انعام جیتا
رپورٹ کے مطابق، اس فہرست میں مسلم دنیا کی مختلف فکری اور مذہبی روایتوں سے تعلق رکھنے والے مصنفین اور علماء کے نام شامل ہیں۔ دیگر اہم ناموں میں مصطفیٰ السباعی، عبدالوھاب خلاّف، عبدالعزیز الطریفی، سفر الحوالی، سلمان العودہ، عوض القرنی، طارق رمضان، محمد باقر الصدر، راشد الغنوشی اور حسن البنا شامل ہیں۔ ان میں سے کئی مصنفین اسلامی فکر، مذہبی علوم اور سماجی اصلاح و جدید مسلم معاشروں پر جاری بحثوں کو گہرے طریقے سےاثر اندز ہوئے ہیں ۔ ان کی کتابیں ہندوستان، پاکستان اور جنوبی ایشیا کے دیگر حصوں میں بھی کثرت سے پڑھی اور بحث کا موضوع بنائی جاتی ہیں۔ خاص طور پر، مولانا ندوی اور مولانا مودودی اسلامی تاریخ، عقائد اور سیاسی فکر پر اپنی تحریروں کی وجہ سے وسیع پیمانے پر جانے جاتے ہیں۔ اس مبینہ فہرست میں ان کے ناموں کی شمولیت نے ان مصنفین کی نشاندہی کیلئے استعمال کئے گئے معیارات پر سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: یو اےای کے صدر کا فلائی دبئی کےکپتان مچھار اور پورےعملے کو دلی پیغام: ’یہاں بھی آپ کا ایک خاندان ہے‘
مولانا ندوی اور مولانا مودودی کے ناموں کی اس مبینہ شمولیت نے مدینہ اسلامک یونیورسٹی کے ساتھ ان کے تاریخی تعلقات کی وجہ سے بھی خاصی توجہ حاصل کی ہے۔ یہ دونوں شخصیات یونیورسٹی کی ابتدائی تاریخ سے وابستہ رہی ہیں اور اسلامی علوم و خدمات کیلئے ان کے تعاون کو عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا تھا۔ مولانا ندوی اور مولانا مودودی دونوں کو اسلام کی خدمات کے صلے میں شاہ فیصل عالمی انعام سے بھی نوازا گیا تھا۔ مبصرین نے ادارے کی ان علماء کے ساتھ تاریخی وابستگیوں اور ان کی کتابوں پر اس قسم کی مبینہ پابندیوں کے درمیان موجود واضح تضاد پر تشویشکا اظہار کیا ہے۔ مزید برآں اس مبینہ فہرست میں دیگر بااثر شخصیات بھی شامل ہیں جن کی تحریروں نے پوری مسلم دنیا میں مذہبی اور فکری بحثوں کی آبیاری کی ہے۔