Updated: October 26, 2026, 9:47 PM IST
| Nagpur
حقِ معلومات (آرٹی آئی) کارکن جیتیندر گھاڑگے نے الزام لگایا ہے کہ مہاراشٹر میں جنوری ۲۰۲۲ء سے جون ۲۰۲۶ء کے درمیان کسانوں کی خودکشی کے ۱۳؍ ہزار ۹۲۸؍ واقعات درج کئے گئے یعنی روزانہ ۸؍ سے زیادہ موتیںلیکن اس کے باوجود حکومت نے آر ٹی آئی ایکٹ کے تحت مانگے گئے ضلع وار اعداد و شمار کو عام کرنے سے روک دیا ہے۔
پہلی اپیل کے بعد جاری کئے گئے اعداد و شمار زرعی بحران کی سنگینی کو تو ظاہر کرتے ہیں، لیکن یہ سوالات اب بھی جواب طلب ہیں کہ کون سا علاقہ سب سے زیادہ متاثر ہے اور کیا امداد ان خاندانوں تک پہنچ رہی ہے جنہیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ ریلیف اینڈ ری ہیبلیٹیشن (راحت و بحالی) محکمہ کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ۸؍ ہزار ۹۴۵؍ کیسز کو حکومتی امداد کیلئے اہل پایا گیا، ۴؍ ہزار ۴۲؍ کیسز کو نااہل قرار دے کر مسترد کر دیا گیا، جبکہ ۹۴۱؍ کیسز کی تحقیقات ابھی زیرِ التواء ہیں۔ اہل پائے گئے کیسز میں سے ۸؍ ہزار ۶۵۰؍ خاندانوں کو فی کس ایک لاکھ روپے کی رقم مل چکی ہے، جبکہ ۲۹۵ ؍ خاندان ابھی بھی ادائیگی کے منتظر ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ’’کسانوں سے قرض وصولی کیلئے زبردستی برداشت نہیں کی جائے گی‘‘
تقریباً ۱۰؍ میں سے ۳؍ معاملوں کو مسترد کر دیا گیا، جس سے ہزاروں متاثرہ اور سوگوار خاندان اس امداد سے محروم رہ سکتے ہیں۔ زیرِ التواء دعوے اہلیت کی تصدیق اور راحت پہنچانے میں ہونے والی تاخیر پر بھی سوالات کھڑے کرتے ہیں۔ ینگ وسل بلورز فاؤنڈیشن سے تعلق رکھنے والے گھاڑگے نے اس ۵۴؍ مہینے کی مدت کیلئے ضلع وار اور ماہانہ اعداد و شمار مانگے تھے۔ ۲۴؍ جولائی کو محکمے کے پبلک انفارمیشن آفیسرا سنیہل ساونت نے کہا کہ یہ معلومات انفرادی ضلع کلیکٹر دفاتر کے پاس دستیاب ہیں اور انہیں وہاں رجوع کرنے کا مشورہ دیا۔گھاڑگے نے ۱۸؍ اگست کو پہلی اپیل دائر کی۔ ۸؍ ستمبر کو سماعت کے بعد، محکمے نے پوری ریاست کا ایک مجموعی جدول تو فراہم کر دیا، لیکن ضلع وار تفصیلات جاری نہیں کیں۔ گھاڑگے نے کہا کہ پچھلے ۱۰؍ برسوں میں یہ پہلا موقع ہے کہ محکمے نے کسانوں کی خودکشی کے ضلع وار اعداد و شمار دینے سے انکار کیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ انکار سینئر سرکاری افسران کے دباؤ کے تحت سامنے آیا ہے۔
دستیاب معلومات کی بنیاد پر اس الزام کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی جا سکی۔ یہ غائب اعداد و شمار بحران کی شدت والے علاقوں کی نشاندہی کرنے، اضلاع کے درمیان رجحانات کا موازنہ کرنے اور یہ جانچنے کیلئے انتہائی اہم ہیں کہ آیا حکومتی اقدامات کام کر رہے ہیں یا نہیں۔ ان اعداد و شمار کے بغیر محققین، قانون ساز اور صحافی علاقائی تفریق کا درست جائزہ نہیں لے سکتے اور نہ ہی یہ تعین کر سکتے ہیں کہ کن علاقوں میں روک تھام کے اقدامات اور مالی امداد کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ ہر ایک موت کے اثرات صرف کسی فرد کے نقصان تک محدود نہیں رہتے۔ متاثرہ خاندانوں پر بقایا قرضوں، غیر یقینی زرعی آمدنی اور گھر کے اہم کمانے والے کے بغیر بچوں کی پرورش کا بھاری بوجھ آن پڑتا ہے۔ بیوہ خواتین اور بوڑھے والدین کو شدید جذباتی صدمے اور مالی غیر یقینی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگرچہ معاوضہ فوری سہارا فراہم کرتا ہے، لیکن یہ کھوئے ہوئے روزگار کو واپس نہیں لا سکتا اور نہ ہی بحران کی بنیادی وجوہات کا حل پیش کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ۲۰۲۴ء میں مہاوکاس اگھاڑی کی حکومت بننے والی تھی: ناناپٹولے
گھاڑ گے نے کہا، ’’ میں نے اس مسئلے کی پیروی کرتے ہوئے، خطوط لکھتے ہوئے، آر ٹی آئی دائر کرتے ہوئے اور حکام سے یہ درخواست کرتے ہوئے ایک دہائی گزاری ہے کہ وہ صرف اعداد و شمار سے آگے دیکھیں اور ہر موت کے پیچھے چھپے انسانوں کے درد کو محسوس کریں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو یہ یقینی بنانا چاہئے کہ کسی بھی متاثرہ خاندان کو بے سہارا نہ چھوڑا جائے، چاہے وہ ہر حادثے کو روکنے میں ناکام ہی کیوں نہ ہو۔ ان کا وسیع تر مالی تحفظ کا یہ مطالبہ ۲۱؍ جون ۲۰۲۳ء سے جاری ہے، جب انہوں نے فوری طور پر اس وقت کے وزیرِ اعلیٰ ایکناتھ شندے کو ان خاندانوں کے بارے میں خط لکھا تھا جن کے ایک لاکھ روپے کے معاوضے کے دعوے مسترد کر دئیے گئے تھے۔ انہوں نے تجویز پیش کی تھی کہ خودکشی کو گوپی ناتھ منڈے شیتکری اپگھات ویما یوجنا میں شامل کیا جائے تاکہ ہر متاثرہ خاندان کو موت کی وجہ سے بالاتر ہو کر ۲؍ لاکھ روپے کی مالی امداد مل سکے۔
گھاڑ گے نے یہ دلیل بھی دی کہ پوری کسان آبادی میں پھیلی ہوئی عام اسکیمیں ان لوگوں تک صحیح معنوں میں پہنچنے میں ناکام رہی ہیں جو شدید ترین بحران کا شکار ہیں۔ انہوں نے تعلقہ سطح کی کمیٹیاں تشکیل دینے کی تجویز دی، جن میں زیادہ تر اراکین سماجی خدمات کے پس منظر سے ہوں، تاکہ متاثرہ خاندانوں کی نشاندہی کر کے انہیں گرین راشن کارڈ جاری کئے جائیں جن کے ذریعے وہ حکومتی اسکیموں تک رسائی حاصل کر سکیں۔گھاڑگے نے بتایا کہ وزیرِ اعلیٰ کے دفتر نے ان کے ای میل کی موصولی کی تصدیق کی اور اسے محکمہ زراعت کو بھیج دیا، لیکن انہیں اس کا کبھی کوئی جواب نہیں ملا. تازہ ترین اعداد و شمار معاوضے کی رسائی، مسترد کئے گئے دعوؤں کی وجوہات اور کسانوں کی خودکشی کو روکنے کے اقدامات کی افادیت پر سنگین سوالات اٹھاتے ہیں۔ ضلع وار شفافیت اور راحت کی فراہمی کے کھلے جائزے کے بغیر، سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں کی نشاندہی کرنا، جہاں سب سے زیادہ ضرورت ہو وہاں وسائل فراہم کرنا اور حکومت کو نتائج کیلئے جوابدہ بنانا مشکل رہے گا۔