مالدیپ نے باضابطہ طور پر اسرائیلی پاسپورٹ کے حامل افراد کےملک میں داخلے پر پابندی عائد کردی ہے،صدر محمد معزو نے امیگریشن قوانین میں ترامیم کی منظوری کے بعد یہ فیصلہ نافذ کیا۔
EPAPER
Updated: March 08, 2026, 4:09 PM IST | Male
مالدیپ نے باضابطہ طور پر اسرائیلی پاسپورٹ کے حامل افراد کےملک میں داخلے پر پابندی عائد کردی ہے،صدر محمد معزو نے امیگریشن قوانین میں ترامیم کی منظوری کے بعد یہ فیصلہ نافذ کیا۔
مالدیپ نے باضابطہ طور پر اسرائیلی پاسپورٹ رکھنے والوں کے ملک میں داخلے پر پابندی لگا دی ہے۔ صدر محمد معیزو نے امیگریشن قانون میں ترامیم کی منظوری کے بعد یہ فیصلہ نافذ کیا۔اراکین پارلیمان نے متفقہ طور پر اس اقدام کی حمایت کی، حکومت کے مطابق جس کی وجہ ،’’اسرائیل کی جانب سے فلسطینی عوام پر کیے جانے والے مظالم اور نسل کشی کا ارتکاب ہے۔ تاہم اسرائیل نے نسل کشی کے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: یورپ میں ایران حملوں کی مخالفت، امریکہ میں بھی جنگ پر سوالات
واضح رہے کہ یہ فیصلہ طویل عرصے سے جاری کشیدہ تعلقات کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔دراصل مالدیپ نے پہلی بار ۱۹۷۴ءمیں اسرائیل سے سفارتی تعلقات معطل کیے تھے اور۲۰۱۴ء میں غزہ پر اسرائیلی فوجی کارروائی کے دوران اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔بعد ازاں۲۰۲۳ء میں۱۱۰۰۰؍ سے زائد اسرائیلی سیاحوں نے مالدیپ کا دورہ کیا، لیکن۲۰۲۴ء کے اوائل میں عوامی دباؤ میں اضافے کے باعث ان میں تقریباً۸۸؍ فیصد کمی واقع ہوئی۔ یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ مالدیپ کی جی ڈی پی میں تقریباً ۲۱؍فیصد حصہ سیاحت پر منحصر ہے، اس لیے صرف ۵؍ لاکھ سے زائد آبادی والے ملک کے لیے یہ فیصلہ معاشی طور پر انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔دریں اثناءاسرائیل کی وزارتِ خارجہ نے اپنے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ مالدیپ چھوڑ دیں اور مستقبل میں وہاں جانے سے گریز کریں۔
یہ بھی پڑھئے: ایران نے امریکی اینٹی میزائل نظام تباہ کردیا
اسرائیل نے ۷؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء کے بعد سے غزہ پر جارحیت کا سلسلہ جاری کیا ہے، جس کے نتیجے میں ۷۴؍ ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوگئے ہیں، ان میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے، اس کے علاوہ اسرائیل نے خصوصی طور پر نشانہ بنا کر خطے کا بنیادی شہری نظام تباہ کردیا، جس کے بعث یہ علاقہ انسانی رہائش کیلئے ناموزوں ہوگیاہے، اس کے علاوہ اسپتالوں پر بمباری کے ذریعے طبی نظام کو تباہ کردیاہے، اس کے سبب طبی سہولت نہ ملنے سے ہزاروں فلسطینی بمباری میں زندہ بچ جانے کے باوجود دوائوں اورعلاج کی عدم دستیابی سے لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ دوسری جانب اسرائیل نے پورے خطے کی ناکہ بندی کے ذریعے ضروری انسانی امداد کی ترسیل میں رکاوٹ پیدا کردی ہے، اور انتہائی قلیل مقدار میں امداد کو غزہ میں پہنچنے کی اجازت دے رہا ہے۔ اسرائیل کے اس اقدام کی دنیا کے بیشتر ممالک نے سخت مذمت کی، اس کے علاوہ عوام اور انسان دوست تنظیموں نے اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔ مالدیپ کے ذریعے اسرائیلی شہریوں کے ملک میں داخلے پر پابندی بھی اسی ناراضگی کا اظہار ہے۔