صنعتی شہر میں میونسپل الیکشن میں کامیابی کے بعد انڈین سیکولر پارٹی نے ریاست کے دیگر شہروں اور اضلاع میں پارٹی کی توسیع اور سرگرمیاں شروع کرنے کیلئے عملی اقدامات کئے ہیں۔گزشتہ روز مالیگاؤں میں پارٹی کا پہلا توسیعی جلسہ منعقد ہوا۔
خصوصی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے آصف شیخ رشید۔ تصویر:آئی این این
صنعتی شہر میں میونسپل الیکشن میں کامیابی کے بعد انڈین سیکولر پارٹی نے ریاست کے دیگر شہروں اور اضلاع میں پارٹی کی توسیع اور سرگرمیاں شروع کرنے کیلئے عملی اقدامات کئے ہیں۔گزشتہ روز مالیگاؤں میں پارٹی کا پہلا توسیعی جلسہ منعقد ہوا۔منتظمین نے میڈیا کو بتایا کہ اس جلسے میں امراوتی، شولاپور، کولہاپور، ناندیڑ، اورنگ آباد،پربھنی، بھیونڈی، تھانے،ممبرا اور ممبئی سے مندوبین شریک ہوئے۔ علاوہ ازیں پڑوسی ریاست گجرات کے سُورت اور احمدآباد سے بھی لوگ آئے تھے۔ان سب کو پارٹی کی جانب سے عریضے اور پارٹی کے مقاصد وکام کاج پر مبنی تحریری معلومات پر مشتمل پیپرز تقسیم کئے گئے۔
مندوبین سے کہا گیا کہ وہ پہلے انڈین سیکولر لارجیسٹ اسمبلی آف مہاراشٹر پارٹی کے منشور اور کام کاج کے طریق کار سمجھیں،غورکریں اور آپس میں مشورہ کرنے کے بعد اس میں شمولیت اختیار کریں۔ بیرونی شرکاء سے خطاب سے قبل انڈین سیکولر پارٹی کے بانی و سابق رُکن اسمبلی آصف شیخ رشید نے پریس کانفرنس میں کہا کہ سیکولر سیاسی جماعتوں نے مسلم اقلیت اور رائے دہندگان کا استحصال کیا۔بوقت ضرورت انہیں استعمال کرنے کے بعد پلٹ کر دیکھا بھی نہیں گیا۔ سیکولر پارٹیوں کی اس پالیسی سے مسلم اقلیت ورائے دہندگان میں عام ناراضگی پھیلی۔
پارٹی کے لیڈر آصف شیخ نے مزید کہا کہ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین تقسیم اور نفرت کی سیاست کرتی ہے۔مجلس کی سیاسی پالیسیوں کی وجہ سے دیگر قوموں کے درمیان مسلمانوں کے خلاف نفرت بڑھی ہے۔وقت ہے سوچ سمجھ کر مناسب سیاسی مرکز پر مرتکز ہونے اوراپنی سیاسی طاقت کے ذریعے آئینی جمہوری حقوق کی حصولیابی کی جائے۔اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ٹیپو سلطان ،رانی لکشمی بائی،اورنگ زیب اور شیواجی کو یاد کرنا کوئی جرم نہیں ہے۔