Updated: August 13, 2026, 6:02 PM IST
| Boston
امریکی ریاست میساچوسٹس کے ایکٹن قصبے میں ۱۷؍ سالہ ہند نژاد نوجوان ارجن اروند پر اپنی ۴۵؍ سالہ والدہ سدھا وینکٹیشن اور ۱۴؍ سالہ بھائی سدھارتھ اروند کو قتل کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق دونوں کی لاشیں ان کے گھر سے ملیں، جبکہ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ واقعے سے قبل ارجن نے انٹرنیٹ اور چیٹ جی پی ٹی پر خاندان کے قتل سے متعلق فرضی کہانیوں اور خیالات کی تلاش کی تھی۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ ان سرچز سے قتل کا حتمی محرک ثابت ہونا ابھی باقی ہے۔
امریکی ریاست میسا چوسیٹس کے قصبے ایکٹن (Acton) میں ایک ۱۷؍ سالہ ہند نژاد نوجوان پر اپنے ہی گھر میں ماں اور ۱۴؍ سالہ چھوٹے بھائی کے قتل کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ تحقیقاتی حکام کے مطابق، ملزم نے اس دل دہلا دینے والے واقعے سے قبل انٹرنیٹ اور مصنوعی ذہانت کے پلیٹ فارم ’چیٹ جی پی ٹی‘ پر اپنے خاندان کو قتل کرنے سے متعلق فرضی کہانیوں اور خیالات کی تلاش کی تھی۔ حکام نے بتایا کہ ۱۷؍ سالہ ملزم ارجن اروند پر اپنی ۴۵؍ سالہ والدہ سدھا وینکٹیشن اور ۱۴؍ سالہ بھائی سدھارتھ اروند کے قتل کے سلسلے میں قتل کی دو دفعات سمیت شدید تشدد اور گاڑی کی چوری کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: روس سے جنگ ختم کرنے کیلئے یوکرین نے امریکہ کو تجاویز پیش کیں
والد نے پولیس کو خبردار کیا
یہ دردناک واقعہ منگل کی شام اس وقت سامنے آیا جب ارجن کے والد نے پولیس سے رابطہ کر کے اہل خانہ کی خیریت معلوم کرنے کا کہا۔ انہوں نے پولیس کو بتایا کہ وہ کافی دیر سے اپنی بیوی اور بچوں سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن کوئی جواب نہیں مل رہا، جبکہ گھر آنے والے ایک ٹیوٹر بھی اندر داخل نہیں ہو سکے تھے۔ اطلاع ملتے ہی جب پولیس ایکٹن میں واقع ان کی رہائش گاہ پر پہنچی تو انہیں پہلے فلور سے ۱۴؍ سالہ سدھارتھ اور تہہ خانے سے والدہ سُدھا کی لاشیں ملیں۔ دونوں کی لاشوں پر شدید چوٹوں کے واضح نشانات موجود تھے۔ تاہم حکام نے ابھی تک قتل کی اصل وجہ اور استعمال ہونے والے ہتھیار کا انکشاف نہیں کیا ہے۔ معلومات کے مطابق سُدھا کو آخری بار منگل کی صبح ۷؍ بجے ان کے شوہر نے کام پر جاتے وقت دیکھا تھا، جبکہ سدھارتھ دوپہر کے وقت ایک تفریحی مرکز سے گھر لوٹا تھا۔
انٹرنیٹ اور چیٹ جی پی ٹی پر تشویش ناک تلاش
ڈسٹرکٹ اٹارنی ماریان رائین نے میڈیا کو بتایا کہ تحقیقات کے دوران ملزم ارجن کا انتہائی تشویشناک رویہ سامنے آیا ہے۔ ارجن نے واقعے سے قبل انٹرنیٹ اور چیٹ جی پی ٹی کا استعمال کرتے ہوئے فرضی کرداروں اور ’گوتھک ناول‘ کے انداز میں ایسے نظریات اور کہانیاں تلاش کی تھیں جن کا تعلق اپنے ہی خاندان کو قتل کرنے اور دھمکیاں دینے کی تصوراتی فینٹسیز (fantasies) سے تھا۔ تاہم، حکام کا کہنا ہے کہ ان تلاش (سرچز) سے قتل کی حتمی وجہ (Motive) ثابت ہونا ابھی باقی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ کی تباہ حال عمارتوں سے لاشیں نکالنے کا کام شروع
والدہ کی گاڑی میں فرار اور گرفتاری
پولیس کے مطابق واقعے کے بعد ارجن گھر پر موجود نہیں تھا اور وہ اپنی والدہ کی ہونڈا ایکارڈ گاڑی لے کر فرار ہو گیا تھا۔ پولیس نے فوری طور پر اس کی تلاش شروع کر دی۔ بدھ کی صبح ویلینڈ کے علاقے میں ایک بزنس الارم بجنے پر جب مقامی پولیس وہاں پہنچی تو پارکنگ لاٹ میں کھڑی گاڑی کے اندر سے ارجن کو بغیر کسی مزاحمت کے گرفتار کر لیا گیا۔ ارجن پر گاڑی کی چوری، بغیر اجازت استعمال اور گھریلو افراد پر تشدد کے دیگر الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔ ابتدائی طور پر اسے جووینائل (کمسن) کورٹ میں پیش کیا گیا، لیکن میسا چوسیٹس کی قانون سازی کے مطابق قتل کے سنگین مقدمات کی سماعت ڈسٹرکٹ کورٹ میں علاحدہ سے کی جائے گی۔ واضح ہو کہ حکام نے ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں کی ہے کہ اس ہند نژاد خاندان ہندوستان کے کس علاقے سے تعلق رکھتا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔