Inquilab Logo Happiest Places to Work

کولکاتا کے نیو مارکیٹ ہوٹل میں بھیانک آتشزدگی، ۹؍ افراد ہلاک،کئی زخمی

Updated: August 20, 2026, 1:53 PM IST | Agency | Kolkata

اے سی میں شارٹ سرکٹ سے آگ لگی، اس وقت ہوٹل میں قیام کررہے لوگ گہری نیند میں تھے، پولیس جانچ میں مصروف۔

Investigation teams can be seen outside the affected hotel in Kolkata on Wednesday morning. Picture: INN
کولکاتا میں بدھ کی صبح جانچ ٹیمیں متاثرہ ہوٹل کے باہر دیکھی جاسکتی ہیں۔ تصویر: آئی این این

کولکاتا کے مرزا غالب اسٹریٹ پر واقع ’سکھا ان ہوٹل‘ تنگ کمروں، تنگ راستوں اور بے ترتیبی سے بنے اندرونی حصوں کی وجہ سے موت کا جال بن گیا ہے۔ نیو مارکیٹ علاقے میں بدھ کے روز علی الصبح  لگنے والی آگ میں ۹؍ افرادہلاک ہو گئے۔ ان میں سے زیادہ تر بنگلہ دیشی شہری تھے جو علاج کے لئے کولکاتہ آئے تھے۔ رات کے تقریباً۳۰:۲؍ بجے لگنے والی اس آگ نے لوگوں کو سوتے ہوئے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ آگ شاید اے سی میں شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگی تھی۔ آگ لگنے کے بعد باہر نکلنے کا کوئی مناسب راستہ نہ ہونے کے باعث کئی مہمان باہر نہ نکل سکے اور دم گھٹنے سے ان کی موت ہو گئی۔

یہ بھی پڑھئے: دیویندر فرنویس کی وزراء پر قدغن لگانے کی کوشش؟

حکام کو سب سے زیادہ حیرت ہوٹل کے کام کرنے کے طریقے پر ہوئی ہے۔ عمارت پرانی اور تنگ تھی، جس میں چھ ہوٹل چل رہے تھے۔ پانچ فٹ چوڑے لوہے کے ایک ہی گیٹ پر مختلف ہوٹلوں کے سائن بورڈ لگے ہوئے تھے۔ ہر منزل پر چھوٹے چھوٹے ہوٹل کے کمرے بنائے گئے تھے، جس سے حکام کے بقول کمروں کے اندر کمرے جیسی بھول بھلیاں بن گئی تھیں۔

واقعے کی جگہ کا معائنہ کرنے کے بعد مغربی بنگال کے فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز کے وزیر کوشک چودھری نے کہا، ’’سیڑھی تنگ، لوہے کی اور گھماؤ دار ہے۔ جگہ بہت کم ہے۔ راستہ بمشکل ڈیڑھ فٹ چوڑا ہے، جہاں دو لوگ ساتھ کھڑے بھی نہیں ہو سکتے۔‘‘انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایسی جگہوں کو لائسنس کیسے مل سکتے ہیں۔  چودھری نے کہا،’’ہر منزل پر چھوٹے چھوٹے ہوٹل ہیں۔ ایمرجنسی کی صورت میں لوگوں کو بچانے کے لیے باہر نکلنے کی کوئی سیڑھی نہیں ہے۔ اگر آپ عمارت دیکھیں گے تو حیران رہ جائیں گے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے وزیر اعلیٰ شویندو ادھیکاری سے بات کی ہے اور ایسے ہوٹلوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھئے: طلبہ پرہوئے پولیس ایکشن کیخلاف پٹنہ میں احتجاج

پولیس اور فائر بریگیڈ کے حکام نے بتایا کہ مہلوکین میں زیادہ تر لوگ بنگلہ دیشی شہری تھے، جن میں سے کئی علاج کی غرض سے کولکاتا آئے تھے اور مختلف وجوہات کی بناء پر ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے تھے۔اس واقعے نے شہر کے ہوٹلوں کی پہلے کی گئی میونسپل کارپوریشن تفتیش پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ سابقہ حکومت کے دور میں جوراسانکو کے ایک ہوٹل میں آگ لگنے کے بعد، تین دنوں کے اندر ایک آڈٹ کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ اس نے کولکاتا میونسپل کارپوریشن میں چار اجلاس کیے اور یہ طے کیا کہ شہر بھر میں تیزی سے قائم ہونے والے ہوٹل سیکوریٹی قواعد و ضوابط پر عمل کر رہے ہیں یا نہیں، اسکی تفتیش کی جائے۔ لیکن یہ کوشش سردخانے میں چلی گئی۔میونسپل ذرائع کے مطابق، فائر ڈیپارٹمنٹ کے پاس ہزاروں جگہوں کی جانچ کرنے کیلئے ضروری عملہ نہیں تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK