Inquilab Logo Happiest Places to Work

طلبہ پرہوئے پولیس ایکشن کیخلاف پٹنہ میں احتجاج

Updated: August 20, 2026, 1:50 PM IST | Agency | Patna

آرجے ڈی کامارچ، لوک بھون کے باہر زبردست نعرے بازی ،مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے واٹر کینن کا استعمال، تیجسوی یادو کو پولیس نے تحویل میں لیا۔

Patna police stopped the protesters using barricades and then used water cannons to disperse them. Picture: INN
پٹنہ پولیس نے بیریکیڈ لگاکر مظاہرین کو روکا اور پھر انہیں منتشر کرنے کیلئے واٹر کینن کا استعمال کیا۔ تصویر: آئی این این

راشٹریہ جنتا دل (آرجے ڈی) نے پٹنہ میں  پچھلے دنوں ہوئے نیٹ احتجاج کے دوران طلبہ پر کئےگئے پولیس ایکشن کے خلاف مارچ نکالا۔ پارٹی کے سربراہ تیجسوی یادو کی قیادت میں بدھ کے روز سیکڑوں کارکنوں اور طلبہ کے ساتھ لوک بھون کے باہر انہوں نے جم کر احتجاج کیا۔ اس دوران انہوں نے واٹر کینن کا سامنا بھی کیا، پولیس نے انہیں تحویل میں لے لیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ مارچ ان طلبہ کے حق میں کیا گیا جو نیٹ پیپر لیک کے خلاف پچھلے دنوں احتجاج کررہے تھے اور تب ان پر پولیس کارروائی کی گئی۔  بہار اسمبلی میں قائد حزب اختلاف تیجسوی یادو کو ان کے اہم ساتھیوں، جن میں راجیہ سبھا کے رکن سنجے یادو بھی شامل تھے، کے ساتھ پولیس کی ایک گاڑی میں بٹھا دیا گیا۔ پولیس کی گاڑی انہیں ایک نامعلوم مقام کی طرف لے گئی۔ تالیڈروں کی گرفتاری کے بعد ان کے حامیوں میں شدید غم و غصہ پھیل گیا۔ متعدد حامیوں نے پولیس کی گاڑی پر چڑھنے کی کوشش کی۔

یہ بھی پڑھئے: کاکروچ پارٹی کی ’اسکول ٹھیک کرو‘ مہم کا اثر، ضلع پریشد اسکول کا ہیڈماسٹر معطل

رپورٹ کے مطابق بدھ کو تاریخی گاندھی میدان کے قریب جے پی گولمبر سے شروع ہونے والا آرجے ڈی کا یہ مارچ جیسے ہی انکم ٹیکس چوراہے کے پاس پہنچا، پولیس نے اسے روک دیا۔ سیکوریٹی فورسیز نے مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روکنے کیلئے شہر کے مختلف حصوں میں بیریکیڈز لگا رکھی تھیں۔ اس مارچ کے دوران جب آر جے ڈی کارکنوں نے رکاوٹیں پار کرنے کی کوشش کی تو پولیس نے ان پر واٹر کینن کا استعمال کیا۔ اسکے بعد یادو کے ساتھ موجود متعدد پارٹی کارکنوں کو بھی روک دیا گیا اور اس دوران کئی کارکن گرفتاری دینے کے لیے بسوں میں سوار ہوتے ہوئے دیکھے گئے۔ آر جے ڈی کا یہ مارچ ریاست کے مختلف اضلاع میں طلبہ کے خلاف کارروائی کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرنے کے لیے نکالا گیا تھا۔ خاص طور پر سیوان میں ایک پولیس کانسٹیبل پر الزام ہے کہ اس نے طلبہ کے احتجاج کے دوران اے کے ۳۴؍ رائفل کا استعمال کیا تھا۔ اس مارچ میں شرکت کے لیے آر جے ڈی کے بڑی تعداد میں کارکنان مختلف اضلاع سے پٹنہ پہنچے تھے۔ اس مارچ میں کچھ مظاہرین علامتی احتجاج کے طور پر اے کے۴۷؍رائفلوں کے کھلونے لے کر چلتے ہوئے دیکھے گئے۔ مظاہرین کے ہاتھوں میں قومی پرچم اور جنریشن زی تحریک سے جڑے پوسٹرز بھی تھے۔

یہ بھی پڑھئے:دیویندر فرنویس کی وزراء پر قدغن لگانے کی کوشش؟

حکومت کب تک احتجاج کو دبائے گی؟ تیجسو ی 
  واٹر کینن کی تند بوچھار کا سامنا کرتے ہوئے تیجسوی یادو نے کہا کہ حکومت مظاہرین کو غیر معینہ مدت تک نہیں روک سکتی۔ کوئی بھی حکومت ہمیشہ اقتدار میں نہیں رہتی۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ طلبہ، نوجوان اور سماج کے مختلف طبقوں کے لوگوں نے اس تحریک کی حمایت کی ہے۔ آر جے ڈی لیڈر نے الزام لگایا کہ یہ کارروائی وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر کی گئی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK