Inquilab Logo Happiest Places to Work

بھیونڈی میں نیٹ پیپر لیک کے خلاف زبردست ترنگا مارچ

Updated: July 25, 2026, 1:41 PM IST | khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi

مرکزی وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، رکن اسمبلی کی قیادت میں ہزاروں شہریوں کا خاموش احتجاج،پرانت آفیسر کو میمورنڈم دیا گیا۔

A large number of citizens participated in the Tricolor Rally held in Bhiwandi to express solidarity with the ongoing student movement across the country. Photo: INN
ملک بھر میں جاری طلبہ تحریک کیساتھ اظہارِ یکجہتی کیلئے بھیونڈی میں نکالی گئی ترنگا ریلی میں بڑی تعداد میں شہریوں نے شرکت کی۔ تصویر: آئی این این

نیٹ پیپر لیک، امتحانی نظام میں مبینہ بدعنوانی اور ملک بھر میں جاری طلبہ تحریک کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیلئے جمعہ کو بھیونڈی میں ترنگا مارچ نکالا گیا۔ سماجوادی پارٹی کے رکن اسمبلی رئیس شیخ کی قیادت میں امجدیہ روڈ سے شانتی نگر تک نکالی گئی اس ریلی میں ہزاروں شہریوں، طلبہ، سماجی کارکنوں اور مختلف اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی۔مارچ کی نمایاں خصوصیت یہ رہی کہ شرکاء کے ہاتھوں میں صرف قومی ترنگا تھا اور کسی سیاسی جماعت کا پرچم نظر نہیں آیا۔ شرکاء نے ’انقلاب زندہ باد‘ اور ’ دھرمندر پردھان استعفیٰ دو‘  جیسے طلبہ کے حق میں نعرے بلند کرتے ہوئے امتحانی نظام میں شفافیت اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔

یہ بھی پڑھئے: ’’ایس آئی آر مہم میں غفلت برداشت نہیں کی جائےگی‘‘

ریلی میں این سی پی (شرد پوار) کے رہنما شعیب خان گڈو، کانگریس مقامی صدر عابد منصف سمیت مختلف اپوزیشن جماعتوں کے متعدد قائدین بھی شریک ہوئے، جس سے احتجاج کو وسیع سیاسی حمایت حاصل ہوئی۔ اس موقع پر رئیس شیخ نے کہا کہ یہ کسی سیاسی جماعت کا نہیں بلکہ طلبہ کے مستقبل اور شفاف تعلیمی نظام کے حق میں عوامی مارچ تھا۔ مارچ کے پیشِ نظر پولیس نے سخت حفاظتی انتظامات کیے تھے۔ امن و امان برقرار رکھنے کے لئے اضافی نفری تعینات کی گئی جبکہ ریلی کے راستے پر ٹریفک کو عارضی طور پر دوسرے راستوں پر موڑ دیا گیا۔ تمام انتظامات کے درمیان ترنگا مارچ مکمل طور پر پُرامن رہا اور اختتام پر ایک وفد نے پرانت آفیسر کو   میمورنڈم پیش کیا۔یادداشت میں مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے، جنتر منتر پر طلبہ کے خلاف مبینہ لاٹھی چارج کی عدالتی تحقیقات، نیٹ پیپر لیک سے متاثرہ خودکشی کرنے والے طلبہ کے اہلِ خانہ کو ایک کروڑ روپے معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا گیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK