Inquilab Logo Happiest Places to Work

ودھان پریشد الیکشن میں بیشتر مقامات پر زیادہ سے زیادہ ووٹنگ

Updated: June 19, 2026, 11:57 AM IST | Mukhtar Adeel,Z A Khan And Sharjeel Qureshi | Nanded

ناسک اور ناندیڑ میں ۹۹؍ فیصد سے زیادہ پولنگ ، جلگاؤں کے چالیس گائوں میں کچھ کارپوریٹروں نےالیکشن کا بائیکاٹ کیا ۔

Officers Supervising The Polling.Photo:INN
افسران پولنگ کی نگرانی کرتے ہوئے-تصویر:آئی این این
ریاست کی ۱۱؍ ودھان پریشد سیٹوں کے الیکشن کیلئے جمعرات کے دن ووٹ ڈالے گئے۔ اس الیکشن میں کارپوریٹروں اور کونسلروں کو ووٹ ڈالنا تھا۔ بیشتر مقامات پر زیادہ سے زیادہ ووٹ ڈالے جانے کی خبر ہے۔  
 ناسک میں صرف ایک ووٹر نے ووٹ نہیں ڈالا 
  ناسک سیٹ پر شیوسینا (شندے) کے نریندردراڑے کے مد مقابل پرساد ہیرے اور گوکل گیتے امیدوار تھے۔ہیرے اور گیتے کاتعلق بی جےپی سےہے مگردونوںنےآزادامیدوارکی حیثیت سے الیکشن میں حصہ لیااورشیوسیناومہایوتی کے نامزدامیدواردراڑے کے سامنے اخیرتک ڈٹے رہے۔ناسک سیٹ پر ووٹوں کی کل تعداد ۶۱۹؍ہے۔ ان میں سے ۶۱۸؍ووٹروں نےاپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ایک ووٹرنے اپنا ووٹ نہیں ڈالا۔ووٹنگ کا تناسب ۹۹ء۸۴؍ فیصدرہا۔ یاد رہے کہ ناسک سیٹ، ناسک، دنڈوری ،  اگت پوری،نپھاڑ، ایولہ،مالیگاؤں،چاندوڑ،کلون اور باگلان پرمشتمل ہے ۔مسلم نمائندگی کی شکل میں یہاں سے حاجی شبیراحمدغلام رسول  (کانگریس)کامیاب ہوئے تھے۔ان سے قبل اوران کےبعداب تک اس نشست پرمسلم نمائندگی کیلئےکسی بھی سیاسی جماعت نے غورتک نہیںکیاہے۔اس الیکشن میں مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کے۸۴؍ اراکین نے اپنے ووٹ ڈالے ہیں۔سیکولرفرنٹ (انڈین سیکولرپارٹی اورسما ج وادی اتحاد)نے دعویٰ کیا کہ ان کے اراکین نے تانا شاہی کیخلاف ووٹ دیا ہے۔ مجلس اتحاد المسلمین نے تعمیروترقی کے نام پر ووٹ دینے کی بات کہی۔
 
 
 ناندیڑ میں بھی ۹۹؍ فیصد ووٹنگ 
ناسک کی طرح ناندیڑ میں بھی صرف ایک ووٹر نے ودھان پریشد الیکشن میںووٹ نہیں ڈالا۔ ضلع کے ۸؍ پولنگ مراکز پر مجموعی طور پر ۴۵۲؍ ووٹروں کو ووٹ ڈالنا تھا۔ یہاں ۴۵۱؍ ووٹروں نے اپنا  ووٹ ڈالا جسکے نتیجے میں ووٹنگ کا تناسب ۹۹ء۷۸؍ فیصد رہا۔ کنوٹ، حدگاؤں، ناندیڑ، قندھار، دھرم آباد، بلولی اور دیگلور کے ۷؍ پولنگ مراکز پر سو فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی، جبکہ بھوکر مرکز پر ۹۷ء۹۲؍ فیصد ووٹنگ ہوئی۔ا س انتخاب میں بی جے پی امیدوار امرناتھ راجورکر کا مقابلہ شیوسینا (ادھو) امیدوار کرشنا پاٹل آشتی کر اور ونچت بہوجن اگھاڑی کے امیدوار انجینئرپرشانت انگولے سے ہے۔  امرناتھ راجورکر کی پوزیشن نسبتاً مضبوط ہے، کیونکہ مہایوتی کے پاس سب سے زیادہ ووٹ ہیں۔ 
 
 
جلگاؤں: ۱۲؍ کارپوریٹروںکا پولنگ کا بائیکاٹ
ان دونوں اضلاع کے مقابلے جلگائوں ضلع میں پولنگ کچھ کم ہوئی یہاں ۹۷ء۷۸؍ فیصد ووٹ ڈالے گئے۔ زیادہ ترمہایوتی ووٹروں نے دوپہر سے پہلے ووٹ ڈالاجبکہ مہاو کاس اگھاڑی کے کئی ووٹروں نے دن بھر مرحلہ وار ووٹ ڈالے، اسلئے یہ عمل شام تک جاری تھا۔ ادھر ضلع کے چالیس گاوں میونسپل کونسل میں شہر وکاس اگھاڑی کے ۱۲؍ کارپوریٹروں نے ووٹنگ کا بائیکاٹ کیا، اسلئے یہاں سب سے کم ووٹنگ ریکارڈ کی گئی۔ مکتائی نگر کی ووٹر طاہرہ بی شیخ لقمان حج پر گئی تھیں اور ووٹنگ میں شرکت نہیں کر سکیں۔اگرچہ وہ ووٹنگ کے دن وہ ممبئی پہنچ گئی تھیں، لیکن وہ وقت پر بھساول نہیں پہنچ سکیں۔ انتخابی عمل کے دوران ۴؍ ووٹروں نے معاونین کی مدد سے ووٹ ڈالے ۔ جلگاؤں کی نلوبائی سوناونے وہیل چیئر پر پولنگ اسٹیشن میں داخل ہوئیں اور اپنا ووٹ دیا۔ جامنیر کی میئر سادھنا مہاجن اور جلگاؤں کی میئر دیپ مالا کالے نے بھی اپنے ووٹ کا حق استعمال کیا۔ شیندورنی کے کارپوریٹروں کو ووٹنگ کیلئے خصوصی گاڑی میں لایا گیا تھا۔  اب سب کی نگاہیں ۲۲؍ جون پر ہیں جس دن نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK