مزیدتیزی سے کارروائی کرنےکا مطالبہ، ڈی سی پی کی جانب سے بتایا گیا کہ ۴؍ ملزمین کی گرفتاری عمل میں آچکی ہے اور بقیہ کی گرفتاری کیلئے ۲؍ٹیمیں بنائی گئی ہیں۔
مولانا خالد اشرف پر حملے کے تعلق سے ڈی سی پی زون ون پروین منڈے سے ملنے گئے وفد کے شرکاء-تصویر:آئی این این
ڈرگس مافیاؤں کے ذریعے مولانا سید خالد اشرف عرف خالد میاں اوران کے صاحبزادگان پر حملے کے خلاف ایک وفد نے بدھ کی سہ پہر ڈی سی پی زون وَن پروین منڈے سے ان کے دفتر میں ملاقات کی اورمزیدتیزی سے کارروائی کرنےکا مطالبہ کیا۔ ڈی سی پی کی جانب سے بتایا گیا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھے گئے ہیں، ۴؍ ملزمین کی گرفتاری عمل میں آچکی ہے اور بقیہ کو گرفتار کرنے کے لئے پولیس کی ۲؍ٹیمیں بنائی گئی ہیں، وہ سرگرمی سے ملزمین کو تلاش کررہی ہیں۔
اس موقع پرشرکاء وفد کی جانب سے کئی ملزمین کی تصاویر بھی ڈی سی پی کو دکھائی گئیں کہ یہ سب اس جرم میںشامل تھے،ان سب کے خلاف ایکشن لیا جائے ۔ ڈی سی پی سے یہ بھی کہا گیا کہ جس طرح تیزی سے کارروائی کی جانی چاہئے تھی اورمولانا کی شخصیت کے پیش نظرجس سُرعت سے پولیس کوحرکت میںآنا چاہئے تھا وہ کیفیت نظرنہیںآرہی ہے ۔ اس پرڈی سی پی نے اطمینان دلایا۔
سینئر قانون داں ایڈوکیٹ رضوان مرچنٹ کی جانب سےکئی قانونی پہلوؤں پرڈی سی پی سی بات چیت کی گئی اور کہا گیا کہ قانون کےدائرے میں ملزمین کو سخت سے سخت سزاملنی چاہئے۔
ایڈوکیٹ یوسف ابراہانی نے کہاکہ’’ ڈی سی پی سے تفصیل سے کی جانے والی بات چیت کے ساتھ ان سے یہ بھی کہا گیاکہ اتنے اہم اورحساس مسئلے پر پولیس کی کارکردگی اطمینان بخش نہیںنظرآرہی ہے۔ حملے کے دن آپ کو خود ہی آنا چاہئے تھا۔‘‘ اس پر ڈی سی پی نے وانکھیڈے اسٹیڈیم میںمیچ اورآشا بھوسلے کی موت کے سبب حددرجہ مصروفیت کا حوالہ دیا اوریہ بھی بتایا گیا کہ اس کا علم ہوتے ہی ماتحت افسران سے ایک مرتبہ نہیں ۱۶؍ مرتبہ گفتگو کی گئی اور اب بھی حسبِ ضرورت تبادلۂ خیال جاری ہے، ایک بھی ملزم کوبخشا نہیںجائے گا ۔ڈی سی پی منڈے سےملنے گئے وفد میں مولانا خالد اشرف کےساتھ ایڈوکیٹ رضوان مرچنٹ ،ساجد پٹھان ، یوسف ابراہانی ، محمد سعید نوری، مولانا اعجاز احمد کشمیری، نظام الدین راعین اور محمد علی وغیرہ موجود تھے۔