Inquilab Logo Happiest Places to Work

میٹا نے ۲۹۹؍ ڈالر کے اے آئی اسمارٹ گلاسیز متعارف کروائے

Updated: June 24, 2026, 10:03 PM IST | Mumbai

میٹا نے چشمہ ساز کمپنی EssilorLuxottica کے اشتراک سے مصنوعی ذہانت سے چلنے والے نئے اسمارٹ گلاسیز کی رونمائی کر دی ہے، جن کی ابتدائی قیمت ۲۹۹؍ ڈالر (تقریباً ۲۹؍ ہزار روپے) رکھی گئی ہے۔ نئے گلاسیز میٹا کی تازہ ترین اے آئی ٹیکنالوجی Meta AI اور Muse Spark ماڈل سے لیس ہیں اور انہیں گزشتہ سال کے پریمیم اسمارٹ شیشوں کے مقابلے میں زیادہ سستا اور عام صارفین کے لیے قابل رسائی قرار دیا جا رہا ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

میٹا نے مصنوعی ذہانت پر مبنی پہننے کے قابل ٹیکنالوجی کے شعبے میں اپنی موجودگی مزید مضبوط کرتے ہوئے نئے اسمارٹ گلاسیز کی ایک لائن متعارف کرائی ہے۔ کمپنی نے منگل کو اعلان کیا کہ یہ نئی مصنوعات عالمی چشمہ ساز کمپنی EssilorLuxotticaکے اشتراک سے تیار کی گئی ہیں اور ان کی ابتدائی قیمت ۲۹۹؍ ڈالر مقرر کی گئی ہے۔قیمت کے لحاظ سے یہ نئے گلاسیز میٹا کے گزشتہ سال متعارف کرائے گئے پریمیم اسمارٹ گلاسیز کے مقابلے میں نمایاں طور پر سستے ہیں، جس سے کمپنی کے اس عزم کی عکاسی ہوتی ہے کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی ہارڈویئر کو وسیع تر صارفین تک پہنچایا جائے۔

یہ بھی پڑھئے: مائیکروسافٹ سی ای او کا انتباہ: عوام چند ہاتھوں میں اے آئی کی طاقت کے ارتکاز کو برداشت نہیں کریں گے

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ویئرایبل ٹیکنالوجی کی عالمی مارکیٹ میں مقابلہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ایپل، گوگل اور اسنیپ جیسی کمپنیاں بھی اگلی نسل کے اسمارٹ گلاسیز اور اے آئی پر مبنی ڈیوائسز کی تیاری پر بھرپور توجہ دے رہی ہیں۔ میٹا گزشتہ کئی برسوں سے یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ مستقبل میں اسمارٹ گلاسیز مصنوعی ذہانت کے ساتھ انسانی تعامل کا ایک بنیادی ذریعہ بن سکتے ہیں۔ کمپنی کے مطابق نئے گلاسیز Meta AI سے تقویت یافتہ ہیں، جو Muse Spark نامی ماڈل پر کام کرتے ہیں۔ یہ پہلا ماڈل ہے جسے میٹا کے Meta Superintelligence Labs نے تیار کیا ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ صارفین ان گلاسیز کے ذریعے براہِ راست اے آئی سے گفتگو کر سکیں گے، معلومات حاصل کر سکیں گے اور ٹیکسٹ پر مبنی معاونت حاصل کر سکیں گے، وہ بھی اسمارٹ فون استعمال کیے بغیر۔ یہ تصور میٹا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مارک زکر برگ کے اس وژن کا حصہ ہے جسے وہ ’’پرسنل انٹیلی جنس‘‘ قرار دیتے ہیں۔ نئے اسمارٹ گلاسیز کی ایک اہم خصوصیت ان کی نئی برانڈ شناخت بھی ہے۔ گزشتہ ماڈلز کے برعکس، یہ مصنوعات معروف آئی ویئر برانڈز جیسے Ray-Ban یا Oakley کے نام سے منسلک نہیں ہیں۔ اس کے بجائے میٹا نے اپنے ڈیزائن اور برانڈنگ کی الگ شناخت متعارف کرائی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایلون مسک کی دولت میں ۳۰۰؍ ارب ڈالرس سے زائد کی کمی

کمپنی نے متعدد نئے فریم ڈیزائن اور رنگ متعارف کرائے ہیں، جن میں ایک پتلا بیضوی طرز کا مجموعہ بھی شامل ہے جو میڈیا شخصیت کائیلی جینر کے تعاون سے تیار کیا گیا ہے۔ میٹا کو امید ہے کہ متنوع ڈیزائن زیادہ وسیع صارفین کو اپنی طرف متوجہ کریں گے، خاص طور پر وہ افراد جو اب تک اسمارٹ شیشوں میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔ مارکیٹ ریسرچ ادارے International Data Corporation کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال عالمی سطح پر اسمارٹ گلاسیز کی ترسیل ۶ء۹؍ ملین یونٹس تک پہنچ گئی تھی۔ ان میں تقریباً ۱ء۷۶؍ فیصد حصہ میٹا کا تھا، جو اس شعبے میں کمپنی کی مضبوط پوزیشن کو ظاہر کرتا ہے۔ اسی کامیابی نے دیگر ٹیکنالوجی کمپنیوں کو بھی اپنی حکمت عملی تیز کرنے پر مجبور کیا ہے۔ گوگل اپنے اسمارٹ گلاسیز کے منصوبوں کو وسعت دے رہا ہے، جبکہ ایپل مستقبل کے ویئر ایبل اے آئی آلات پر کام کر رہا ہے۔ دوسری جانب اسنیپ نے حال ہی میں ۲۱۹۵؍ ڈالر مالیت کے Augmented Reality شیشے متعارف کرائے ہیں، جو مارکیٹ کے مختلف طبقے کو ہدف بنا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ’کنڈر جوائے‘، ’سفولا ہارٹ آئل ، ’مینگو جوس‘ اور کئی دیگر کو گمراہ کن دعوؤں پر نوٹس

صنعتی ماہرین کے مطابق نئے میٹا گلاسیز کا سب سے نمایاں پہلو ان کی قیمت ہے۔ گزشتہ سال متعارف کرائے گئے ۸۰۰؍ ڈالر کے رے بین ڈسپلے گلاسیز کے مقابلے میں ۲۹۹؍ ڈالر کی قیمت انہیں کہیں زیادہ قابل رسائی بناتی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ زیادہ قیمت اب تک اسمارٹ گلاسیز کی مقبولیت میں سب سے بڑی رکاوٹ رہی ہے، اور میٹا کم قیمت کے ذریعے زیادہ سے زیادہ صارفین کو اپنے اے آئی ماحولیاتی نظام کا حصہ بنانا چاہتا ہے۔ ٹیکنالوجی کی دنیا میں مصنوعی ذہانت اب صرف چیٹ بوٹس اور اسمارٹ فونز تک محدود نہیں رہی۔ بڑی کمپنیاں اس بات کی دوڑ میں شامل ہیں کہ مستقبل میں صارفین روزمرہ زندگی میں اے آئی کے ساتھ کس ڈیوائس کے ذریعے سب سے زیادہ تعامل کریں گے۔ اگرچہ یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ صارفین اس نئے تصور کو کس حد تک قبول کرتے ہیں، لیکن کم قیمت، نئے ڈیزائن اور جدید ترین اے آئی صلاحیتوں کے ساتھ میٹا نے واضح کر دیا ہے کہ وہ پہننے کے قابل مصنوعی ذہانت کو ٹیکنالوجی کی اگلی بڑی جنگ سمجھتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK