مڈ ڈے میل ورکر کے بیٹے نے کھیتی باڑی سے’’انڈین ملٹری اکیڈمی ‘‘ تک کا سفر طے کیا،اور ہندوستانی فوج میں شامل ہو گئے، یہ کہانی جذبہ اور عزم کی ہے، جس نے ایک مڈڈے میل ملازمہ کے بیٹے کو ہندوستانی فوجی افسر بنا دیا۔
EPAPER
Updated: December 15, 2025, 2:03 PM IST | Chandigarh
مڈ ڈے میل ورکر کے بیٹے نے کھیتی باڑی سے’’انڈین ملٹری اکیڈمی ‘‘ تک کا سفر طے کیا،اور ہندوستانی فوج میں شامل ہو گئے، یہ کہانی جذبہ اور عزم کی ہے، جس نے ایک مڈڈے میل ملازمہ کے بیٹے کو ہندوستانی فوجی افسر بنا دیا۔
سنترو دیوی، جو تقریباً ۸۰۰؍روپے ماہانہ کماتی ہیں اور ایک چھوٹی زمین پر کاشتکاری کر کے کچھ آمدنی حاصل کرتی ہیں، نے اپنے بیٹے کو فوجی افسر بنا دیا ہے۔ یہ کہا نی ہے سنترو دیوی کی جو ہریانہ کے ضلع جند کے علی پور گاؤں کی ایک بیوہ ہیں، اور ان کے بیٹے لیفٹیننٹ ہردیپ گل کی۔ سنترو دیوی کے شوہر کا ۲۰؍سال قبل انتقال ہو گیاتھا، جس کے بعد تین بیٹیاں اور۲؍ سالہ ہردیپ رہ گئے۔ اس کے بعد سنترو دیوی ایک سرکاری اسکول میں مڈ ڈے میل ورکر کے طور پر ’’قلیل معاوضے‘‘ پر کام کرنے لگیں۔ اسکول کے اوقات کے بعد، وہ کھیتوں میں مزدوری کرتی تھیں۔ ہردیپ نے ایک گاؤں کے اسکول میں تعلیم حاصل کی اور بعد میں( IGNOU ) سے گریجویشن کیا۔ اور انڈین ملٹری اکیڈمی میں شامل ہونے تک وہ بھی کھیتوں میں کام کرتا رہا ۔
یہ بھی پڑھئے: ایک گائوں جہاں سائرن بجتے ہی بچوں کا مطالعہ شروع ہوتا ہے اور ٹی وی بند ہوجاتےہیں
ہندوستانی فوج کے ایک ریٹائرڈ میجر جنرل مور ایک اکیڈمی چلاتے ہیں جو دفاعی خدمات کے لیے تیاری کرنے والے نوجوان امیدواروں کو رہنمائی فراہم کرتی ہے۔اسی پلیٹ فارم کے ذریعے ہردیپ گل ان کی نظر میں آئے۔دی انڈین ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے، میجر جنرل یش مور (ریٹائرڈ) نے کہا کہ انہوں نے ہردیپ کو سروسز سلیکشن بورڈ (SSB) کے لیے آن لائن رہنمائی کی ۔ایک نوجوان کے طور پر، ہردیپ نے ہندوستانی فضائیہ کو اپنا ہدف بنایا۔لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ تاہم ابتدائی طور پر ایئر مین کے عہدے کے لیے میڈیکل میں معمولی بنیادوں پرمسترد ہوگئے، لیکن انہوں نے ان کمزوریوں کو درست کیا اور دوبارہ منتخب ہو گئے۔ ایئر مین کی خالی جگہوں کے لیے منتخب ہونے والے تقریباً ۳۰۰۰؍ لوگوں میں سے، وہ آل انڈیا میرٹ لسٹ میں۵۹؍ویں نمبر پر تھے ۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ یہ خواب چکنا چور ہو گیا کیونکہ حکومت نے ان تمام انتخابات کو روک دیا اور اس کے بجائے’’ اگنی ویر‘‘اسکیم متعارف کرائی۔چار سال بعد، ہردیپ دہرادون کے ڈرل اسکوائر میں ایک افسر کے کمیشن کے ساتھ کھڑے تھے۔"یہ ان کی نویںایس ایس بی کوشش تھی، جسے انہوں نے پاس کیا اور۲۰۱۴ء میںملٹری اکیڈمی میں شامل ہوئے، آل انڈیا میرٹ لسٹ میں ۵۴؍ویں نمبر پر آئے۔
یہ بھی پڑھئے: انڈیگو بحران: پائلٹ کا مسافروں سے جذباتی معافی کا ویڈیو وائرل
ہردیپ نے ایک پوڈکاسٹ میں کہا،’’میرے گاؤں کے لوگ کہتے تھے کہ میں کم سطح کی نوکریوں سے محروم رہوں گا کیونکہ میں افسر کی نوکری حاصل کرنے پر تلا ہوا تھا۔ تاہم، میں نے کبھی امید نہیں چھوڑی اور ہر کوشش کے ساتھ خود کو بہتر بناتا رہا۔‘‘لیفٹیننٹ ہردیپ گل کو سکھ لائٹ انفنٹری کی ۱۴؍ویں بٹالین میں کمیشن ملا ہے۔میجر جنرل مور نے لکھا کہ وہ اس کی رہنمائی کرنے میں چھوٹا سا کردار ادا کر کے خوش ہیں۔تاہم انہوں نے اس کا سہرا ہردیپ کی ماں کے سر باندھتے ہوئے کہ ایک ایسی ماں جس نے تب بھی چلنا جاری رکھا جب کوئی ضمانت نہیں تھی کہ محنت کا صلہ ملے گا۔