Inquilab Logo Happiest Places to Work

مشرقِ وسطیٰ بحران: عالمی بھوک میں اضافہ، لاکھوں افراد غذائی عدم تحفظ کا شکار

Updated: June 06, 2026, 10:06 PM IST | New York

ورلڈ فوڈ پروگرام (WFP) نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری بحران کے اثرات دنیا کے غریب اور کمزور ممالک میں شدید غذائی بحران کو جنم دے رہے ہیں۔ نئی رپورٹ کے مطابق صومالیہ، افغانستان اور سری لنکا میں لاکھوں اضافی افراد خوراک کی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہو رہے ہیں۔ ایندھن، خوراک، کھاد اور نقل و حمل کے بڑھتے اخراجات نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ ڈبلیو ایف پی کا کہنا ہے کہ اگر بحران جاری رہا تو عالمی سطح پر ۴۵؍ ملین افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہو سکتے ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

اقوام متحدہ کے ادارے ورلڈ فوڈ پروگرام (WFP) نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے معاشی و تجارتی اثرات دنیا کے متعدد غریب ممالک میں بھوک اور غذائی عدم تحفظ کو تیزی سے بڑھا رہے ہیں۔ ادارے کی تازہ رپورٹ کے مطابق صومالیہ، افغانستان اور سری لنکا ان ممالک میں شامل ہیں جو اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صومالیہ میں مزید ۲۵؍ لاکھ، افغانستان میں ۲۳؍ لاکھ اور سری لنکا میں ۱۳؍ لاکھ افراد بنیادی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور بعض علاقوں میں شدید بھوک کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ ڈبلیو ایف پی کی فوڈ سیکوریٹی اینڈ نیوٹریشن اینالسس سروس کے ڈائریکٹر جین مارٹن باؤر نے کہا کہ ’’ہم نے پہلے خبردار کیا تھا کہ یہ بحران مزید لاکھوں لوگوں کو بھوک کی طرف دھکیل سکتا ہے، اور اب ہم اسے حقیقی وقت میں وقوع پذیر ہوتے دیکھ رہے ہیں۔‘‘ 
ادارے نے مارچ ۲۰۲۶ء میں پیش گوئی کی تھی کہ اگر تیل کی قیمتیں ۱۰۰؍ ڈالر فی بیرل کے آس پاس برقرار رہیں اور تنازعہ جاری رہے تو دنیا بھر میں ۴۵؍ ملین اضافی افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہو سکتے ہیں۔ تازہ ترین جائزے کے مطابق یہ خدشات اب حقیقت بنتے دکھائی دے رہے ہیں کیونکہ عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں مسلسل بلند سطح پر موجود ہیں۔ صومالیہ میں صورتحال خاص طور پر تشویشناک قرار دی گئی ہے۔ ڈبلیو ایف پی کے مطابق ۲۰۲۶ء کے دوران تقریباً ۶۵؍ لاکھ افراد، جو ملک کی آبادی کا تقریباً ایک تہائی بنتے ہیں، شدید بھوک کا سامنا کر سکتے ہیں۔ اگر موجودہ بحران برقرار رہا تو مزید ۲۵؍ لاکھ افراد غذائی عدم تحفظ کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ملک اپنی توانائی اور اناج کی ضروریات کے لیے درآمدات پر انحصار کرتا ہے، جس کی وجہ سے عالمی قیمتوں میں اضافے کا براہ راست اثر عام شہریوں پر پڑ رہا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: عالمی سطح پر گوشت کی فراہمی میں ۱۹۶۱ء کے بعد سے چار گنا اضافہ: رپورٹ

سری لنکا، جو حالیہ برسوں کے معاشی بحران سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے، بھی شدید دباؤ میں ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک اپنی توانائی کی ۶۳؍ فیصد ضروریات مشرقِ وسطیٰ سے حاصل کرتا ہے جبکہ اس کی ترسیلاتِ زر اور چائے کی برآمدات کا بڑا حصہ خلیجی ممالک سے جڑا ہوا ہے۔ ایندھن، خوراک اور کھاد کی بڑھتی قیمتوں نے عام خاندانوں کے اخراجات میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ افغانستان میں پہلے ہی ۸ء۱۳؍ ملین افراد غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ ڈبلیو ایف پی کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ مضبوط تجارتی تعلقات اور سپلائی چین میں رکاوٹوں نے افغان معیشت پر اضافی دباؤ ڈال دیا ہے۔ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے باعث امدادی سامان کی ترسیل کے اخراجات کئی گنا بڑھ گئے ہیں جبکہ امدادی سامان کی ترسیل میں تاخیر بھی ریکارڈ کی گئی ہے۔ 
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ بحران کے اثرات صرف موجودہ قیمتوں تک محدود نہیں رہیں گے۔ کسانوں کو کھاد کی قلت اور ایندھن کی مہنگائی کا سامنا ہے، جس سے آئندہ فصلوں کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے اور خوراک کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ ڈبلیو ایف پی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ اسے شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ ادارے کے مطابق فنڈنگ میں کمی کے باعث وہ ۲۰۲۶ء میں اپنی ابتدائی منصوبہ بندی کے مقابلے میں ۱۵؍ لاکھ کم افراد تک امداد پہنچا سکے گا۔ اگر موجودہ بحران مزید چھ ماہ جاری رہا تو دنیا بھر میں تقریباً ۹۰؍ لاکھ افراد انسانی امداد سے محروم ہو سکتے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: غزہ میں اسرائیلی فوج کے فضائی حملے، ۴؍ بچوں سمیت ۹؍ افراد شہید، ۱۵؍ زخمی

تازہ ترین عالمی جائزوں کے مطابق ۲۰۲۶ء میں دنیا بھر میں ۳۶۳؍ ملین افراد شدید بھوک کے خطرے سے دوچار ہیں، جبکہ ۳۱۸؍ ملین افراد پہلے ہی بحران یا اس سے بدتر سطح کی غذائی عدم تحفظ کا سامنا کر رہے ہیں۔ ڈبلیو ایف پی نے عالمی برادری سے فوری مالی امداد اور ہنگامی اقدامات کی اپیل کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو کئی خطوں میں انسانی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK