Updated: June 03, 2026, 9:56 PM IST
| New York
یونیسیف کے ایک بیان کے مطابق مشرق وسطیٰ تنازعے کی وجہ سے نقل و حمل میں رکاوٹیں بچوں کی جانوں کو خطرے میں ڈال رہی ہیں، ایک اہلکار نے خبردار کیا کہ تقریباً۱۰۰؍ دن ہو چکے ہیں جب سے خطے میں تازہ کشیدگی شروع ہوئی ہے، اور اس کا اثر عالمی سپلائی چین پر مشرق وسطیٰ سے کہیں باہر تک پھیل رہا ہے۔
مشرق وسطیٰ تنازع کی وجہ سے نقل و حمل کی راہداریوں میں عالمی سطح پر رکاوٹوں نے انسانی امداد کی لاگت میں اضافہ کر دیا ہے اور دنیا بھر میں بچوں تک جان بچانے والی امداد کی ترسیل میں تاخیر ہو رہی ہے۔ یونیسیف کے ایک اہلکار نے منگل کو خبردار کیا کہ تقریباً۱۰۰؍ دن ہو چکے ہیں جب سے خطے میں تازہ کشیدگی شروع ہوئی ہے، اور اس کا اثر عالمی سپلائی چین پر مشرق وسطیٰ سے کہیں باہر تک پھیل رہا ہے۔یونیسیف کے گلوبل ٹرانسپورٹ اینڈ لاجسٹکس کے سربراہ جین-سڈرک میئس نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ نقل و حمل کے بڑھتے ہوئے اخراجات کا مطلب ہے کہ بچوں کو درکار جان بچانے والی اشیاء کے لیے کم رقم بچے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بڑھتے ہوئے لاجسٹکس اخراجات اور عالمی فنڈنگ بحران کے مشترکہ اثرات انسانی اداروں کو بہت مشکل فیصلے کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ان کے مطابق کیپ آف گڈ ہوپ کے راستے سمندری راستوں میں تبدیلی سے شپنگ کے اوقات میں دو سے چار ہفتے کا اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ ہوائی مال برداری کی گنجائش کم ہو گئی ہے اور افریقہ اور اس سے باہر بندرگاہوں پر بھیڑ بڑھ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: لبنان معاملے پر ٹرمپ، نیتن یاہو پر برس پڑے، کہا مَیں نے تمہیں جیل جانے سے بچا رکھا ہے
یونیسیف کے مطابق، ہندوستان سے ایتھوپیا، نائیجیریا اور ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو تک ویکسین کی ہوائی مال برداری کی لاگت میں۵۰؍ سے۷۰؍ فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ کینیا سے صومالیہ، جنوبی سوڈان اور کانگو تک غذائی اشیاء کی ٹرک لاگت میں۳۰؍ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین سے یمن اور موزمبیق تک تعلیمی مواد کی سمندری مال برداری کی لاگت میں۱۰۰؍ سے۱۵۰؍ فیصد اضافہ ہوا ہے۔میئس نے کہا کہ مجموعی طور پر، ہمارا اندازہ ہے کہ ان رکاوٹوں سے اہم اشیاء کی ترسیل میں چار سے چھ ماہ تک تاخیر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ویکسین اور غذائی اشیاء کی ترسیل میں تاخیر بحرانوں میں پھنسے بچوں کے لیے ’’زندگی اور موت کے فرق‘‘ کے برابر ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف کی ’قیمت چکانے‘کی دھمکی
انہوں نے کہا کہ چیلنجوں کے باوجود، یونیسیف متبادل نقل و حمل راستوں، توسیع شدہ مقامی پیداوار اور اقوام متحدہ کے دیگر اداروں کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے امداد کی ترسیل جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انسانی ادارے بڑھتے ہوئے اخراجات کو غیر معینہ مدت تک جذب نہیں کر سکتے۔