مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث ہندوستان نے دیگر ممالک سے اضافی خام تیل خریدنا شروع کر دیا ہے۔ہندوستان کمپنیاں امریکہ، روس اور مغربی افریقہ میں موجود خام تیل فراہم کرنے والے ممالک سے تیل خریدنے کے لیے بات چیت کر رہی ہیں۔
EPAPER
Updated: March 08, 2026, 9:45 PM IST | New Delhi
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث ہندوستان نے دیگر ممالک سے اضافی خام تیل خریدنا شروع کر دیا ہے۔ہندوستان کمپنیاں امریکہ، روس اور مغربی افریقہ میں موجود خام تیل فراہم کرنے والے ممالک سے تیل خریدنے کے لیے بات چیت کر رہی ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث ہندوستان نے دیگر ممالک سے اضافی خام تیل خریدنا شروع کر دیا ہے۔ذرائع کے مطابق ہندوستان کمپنیاں امریکہ، روس اور مغربی افریقہ میں موجود خام تیل فراہم کرنے والے ممالک سے تیل خریدنے کے لیے بات چیت کر رہی ہیں۔
یہ قدم ایسے وقت اٹھایا گیا ہے جب خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمزکے ذریعے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ آبنائے عالمی توانائی منڈیوں کے لیے ایک انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔ فروری میں ہندوستان کی خام تیل کی درآمدات کا تقریباً نصف حصہ اسی آبنائے سے گزر کر آیا تھا۔
ہندوستان اپنی خام تیل کی ضرورت کا تقریباً ۸۸؍ فیصد درآمد کرتا ہے، اس لیے مستحکم سپلائی راستے ملک کی توانائی سلامتی کے لیے نہایت اہم ہیں۔ممکنہ رکاوٹوں سے نمٹنے کے لیے ریفائنریز نے طے شدہ مرمت اور دیکھ بھال کے کام مؤخر کر دیے ہیں اور معمول کی پراسیسنگ رفتار برقرار رکھی ہے تاکہ قریب مستقبل میں طلب پوری کرنے کے لیے کافی ایندھن تیار کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھئے:رونالڈو کی غیر موجودگی میں سیماکان کا جادو، النصر ٹاپ پر قابض
ذرائع کے مطابق،آبنائے کے باہر موجود ذرائع پوری طرح فعال ہیں اور ملک تنازع سے پاک علاقوں سے زیادہ سپلائی حاصل کر رہا ہے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ۲۰۲۵ء میں ہندوستان کی خام تیل کی درآمدات کا تقریباً ۶۰؍ فیصد حصہ آبنائے ہرمز کے باہر سے آیا تھا۔ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع میں اضافے کے بعد یہ حصہ بڑھ کر تقریباً ۷۰؍ فیصد ہو گیا ہے۔
سپلائی کی صورتحال کو امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری ایک عارضی چھوٹ سے بھی سہارا ملا ہے، جس کے تحت ۵؍ مارچ سے پہلے جہازوں پر لادا گیا پابندی زدہ روسی خام تیل فروخت اور ترسیل کیا جا سکتا ہے۔ یہ چھوٹ ۵؍اپریل تک مؤثر ہے اور پہلے سے سفر میں موجود کارگو کو پابندیوں کی خلاف ورزی کے بغیر پہنچانے کی اجازت دیتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:’’رامائن‘‘ پر مغربی ایشیا جنگ کا اثر، رنبیر کپور کی فلم کی اہم تقریب ملتوی
دوسری جانب مرکزی وزیرِ پیٹرولیم و قدرتی گیس ہردیپ سنگھ پوری نے کہا ہے کہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باوجود ہندوستان کی توانائی سپلائی کی صورتحال مستحکم ہے۔صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پوری نے کہا کہ ملک موجودہ عالمی حالات میں توانائی کی دستیابی، استطاعت اور استحکام کو یقینی بنانے کے چیلنج کا کامیابی سے سامنا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا ’’آبنائے ہرمز کے راستے کے علاوہ تمام راستوں سے ملک میں توانائی کی درآمد مکمل طور پر جاری ہے۔ ہمارے شہریوں کی توانائی ضروریات پوری کی جا رہی ہیں۔ ہندوستان مضبوط پوزیشن میں ہے اور تشویش یا قیاس آرائی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔‘‘