• Mon, 12 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ: فلو میں تیزی سے اضافہ، ایک کروڑ ۵۰؍ لاکھ افراد بیمار، ایک لاکھ ۸۰؍ ہزار اسپتال داخل

Updated: January 12, 2026, 4:08 PM IST | Washington

امریکہ میں فلو کے معاملات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے،جس سے ایک کروڑ ۵۰؍ لاکھ افراد بیمارہو گئےہیںجبکہ ایک لاکھ ۸۰؍ ہزار افراد اسپتال میں داخل ہیں، جن میں سے ۷۴۰۰؍ اموات درج کی گئی ہیں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

امریکہ میں فلو انفیکشن میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جہاں بیماریوں کے کنٹرول اور روک تھام کے مراکز (سی ڈی سی) کے تخمینے کے مطابق اس موسم میں اب تک کم از کم۱۵؍ ملین  افراد بیمار،ایک لاکھ ۸۰؍ ہزار افراد اسپتال میں داخل کرائے گئے، جن میں ۷۴۰۰؍ اموات درج ہوئی ہیں۔جمعہ کو جاری کردہ سی ڈی سی کے اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ فلو سے متعلقہ علامات کی وجہ سے ڈاکٹروں کے پاس جانے والے چھوٹے بچوں کی شرح میں دس سال میں بلند ترین اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔۴؍ سال سے کم عمر کے بچوں کے ڈاکٹروں کے پاس جانے والوں میں سے۱۸؍ فیصد سے زیادہ فلو سے متعلق ہیں، جو کم از کم۲۰۱۶ء کے بعد سے سب سے زیادہ شرح ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ویشنو دیوی میڈیکل کالج اجازت کی منسوخی، کالج بند، طلبہ و اساتذہ نے وضاحت طلب کی

دریں اثناء ایک ایمرجنسی میڈیسن فزیشن، این زنک، جو ییل کے پاپ ہائیو ٹریکنگ پلیٹ فارم کے ساتھ کام کرتی ہیں، نے اے بی سی نیوز کو بتایا، ’’میں گزشتہ چند ہفتوں سے آنے والے اعداد و شمار پر نظر رکھے ہوئے تھی، اور چھوٹے بچوں اور ان کی بیماری کی شدت کو دیکھ کر پریشان تھی۔‘‘زنک نے ہنگامی کمروں میں ہجوم کی بات کرتے ہوئے کہا: "ہمارے پاس اپنے لابی میں لوگوں کے بیٹھنے کے لیے بھی کافی جگہ نہیں بچی۔ ‘‘ڈی سی کے مطابق، تمام صحت کی دیکھ بھال کےمراکز میں آنے والے  میں سے تقریباً ۷؍ اعشاریہ ۲؍ فیصد فلو جیسی بیماری کے لیے ہیں، جس کی تعریف بخار کے ساتھ کھانسی یا گلے کی سوزش کے طور پر کی جاتی ہے، جو سال کے اس وقت کے لیے ایک ریکارڈ ہے۔اس ہفتے۸؍ مزید بچوں کی فلو سے اموات کی اطلاعات ملی ہیں، جس سے اس موسم میں کل تعداد۱۷؍ ہو گئی ہے۔
بعد ازاں سی ڈی سی کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ پچھلے سال۲۸۹؍ بچوں کی فلو سے موت ہوئی، جن میں سے تقریباً۹۰؍ فیصد نے ویکسین نہیں لگوائی تھی۔سی ڈی سی کی ماہر وبائیات کیری ریڈ نے اے بی سی نیوز کو بتایا، ’’اس وقت فلو کے بہت سے معاملات سامنے آ رہے ہیں۔‘‘زیادہ تر انفیکشن ایک نئے قسم سے منسلک ہیں جسے سب کلیڈ کے نام سے جانا جاتا ہے، جو موسم گرما سے عالمی سطح پر پھیلا ہے اورکنیڈا اور جاپان جیسے ممالک میں پہلے ہی اسپائیکس میں اضافہ کر چکا ہے۔۲۷؍ دسمبر تک، امریکی عوام کی صرف ۴۳؍ اعشاریہ ۵؍ اور بچوں کی۴۲؍ اعشاریہ ۵؍فیصد نے فلو ویکسین حاصل کی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: منشیات کیخلاف کریک ڈاؤن، ۳۱؍ مارچ سے ۳؍ سالہ ملک گیر مہم کا اعلان

ڈاکٹر ویکسینیشن پر زور دیتے رہے ہیں، یہ بتاتے ہوئے کہ موجودہ ویکسین شدید بیماری سے تحفظ فراہم کرتی ہے، چاہے یہ غالب قسم سے مکمل طور پر مطابقت نہ رکھتی ہو۔تاہم نیویارک شہر کی صحت کی ایکٹنگ کمشنر ڈاکٹر مشیل مورس نے خبردار کیا،’’ہم ابھی تک خطرے سے باہر نہیں ہیں‘‘ ۔ واضح رہے کہ امریکہ میں فلو کے بڑھتے ہوئے معاملات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب متنازع ٹرمپ انتظامیہ کی سفارشات میں بہت سی ویکسینیشن کی ضرورت کو کم سمجھا گیا ہے۔ عوامی صحت کے وکیلوں کا کہنا ہے کہ یہ سفارشات اینٹی ویکسین وکیلوں نے تیار کی ہیں اور سائنس کے مطابق نہیں ہیں۔اس ہفتے ایک انٹرویو میں، صحت اور انسانی خدمات کے سکریٹری رابرٹ کینیڈی، جونیئر - جو طویل عرصے سے ویکسین کے بارے میں شکوک و شبہات رکھتے ہیں نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ اگر کم بچوں نے فلو ویکسین حاصل کی تو یہ ایک بہتر بات ہو سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK