Updated: August 28, 2026, 2:01 PM IST
| Kolkata
مغربی بنگال میں اسمبلی لائبریری سے جاری کی گئی ۱۹؍ کتابیں واپس نہ کرنے کے معاملے پر سابق وزیرِ اعلیٰ ممتا بنرجی کو قانونی کارروائی کی وارننگ دی گئی ہے، ریاستی وزیرِ ماس ایجوکیشن ایکسٹینشن اور لائبریری سروسز گوری شنکر گھوش نے کہا ہے کہ مقررہ مدت گزرنے کے باوجود کتابیں واپس نہ کی گئیں تو لائبریری کے قواعد کے مطابق جرمانہ یا دیگر کارروائی کی جاسکتی ہے، ان کتابوں میں رابندر ناتھ ٹیگور کی ’رابندر رچناولی‘ کی ۱۸؍ جلدیں اور ’سَنچَیِتا‘ شامل ہیں۔
ممتا بنرجی۔ تصویر: آائی این این
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کو کمزور کرنے کے لیے سیاسی میدان میں ہر حربہ استعمال کرنے سے گریز نہیں کرتی، لیکن جب معاملہ ممتا بنرجی کا ہو تو پارٹی نے لفظی طور پر بھی ’’قواعد کی کتاب‘‘ کے مطابق چلنے کو ترجیح دی ہے۔ مغربی بنگال کے ماس ایجوکیشن ایکسٹینشن اور لائبریری سروسز کے وزیر گوری شنکر گھوش نے سابق وزیرِ اعلیٰ ممتا بنرجی کو خبردار کیا ہے کہ اگر انہوں نے اسمبلی کی لائبریری سے جاری کی گئی ۱۹؍ کتابیں واپس نہ کیں تو ان کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی جا سکتی ہے۔ واضح ہو کہ ان کتابوں میں رابندر ناتھ ٹیگور کی تصانیف کے ۱۸؍ جلدوں پر مشتمل مجموعہ ’’رابندر رچناولی‘‘ اور ان کی نظموں کا معروف مجموعہ ’’سَنچَیِتا‘‘ شامل ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نتیش کمار اور تیجسوی یادوکی پٹنہ کی خانقاہوں پرحاضری
گھوش نے دی ٹیلیگراف سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’قانونی کارروائی‘‘ سے مراد مقررہ مدت کے بعد کتابیں واپس نہ کرنے پر ممتا بنرجی پر جرمانہ عائد کرنا یا کتابیں گم یا خراب ہونے کی صورت میں ان کی نئی نقول فراہم کرنے کے لیے کہنا ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’سرکاری اور حکومت کے زیرِ انتظام لائبریریوں کے قواعد کے مطابق اگر کوئی قاری مقررہ مدت کے اندر کتابیں واپس نہ کرے تو اس پر جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ جرمانے کی رقم کا فیصلہ مقامی لائبریری انتظامیہ کرتی ہے۔ اگر کوئی کتاب گم یا خراب ہوجائے تو قاری کو لائبریری میں اس کی نئی نقل جمع کراکے تلافی کرنا ہوتی ہے۔ ہم ممتا بنرجی کے معاملے میں بھی اسی طرح کی کارروائی شروع کریں گے۔‘‘ تاہم وزیر نے کہا کہ انہیں یہ جانچنا ہوگا کہ آیا اسمبلی کی لائبریری کے لیے کوئی خصوصی ضابطہ موجود ہے، کیونکہ یہ لائبریری اسمبلی اسپیکر کے اختیار میں ہے۔
گھوش نے منگل کی شام سوری میں وویکانند لائبریری کی ۱۲۷؍ ویں یومِ تاسیس کی تقریب کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ۱۹؍ کتابیں واپس کرنے کی مقررہ مدت ختم ہوچکی ہے اور اسمبلی لائبریری کے حکام کی جانب سے متعدد یاد دہانیوں کے باوجود کتابیں واپس نہیں کی گئیں۔ انہوں نے کہا، ’’اسمبلی لائبریری کے حکام نے انہیں بارہا کتابیں واپس کرنے کے لیے کہا، لیکن اب تک ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا۔ اگر کتابیں واپس نہیں کی گئیں تو قانونی کارروائی کی جاسکتی ہے۔‘‘ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا سابق وزیرِ اعلیٰ ہونے کی وجہ سے ممتا بنرجی کے لیے کوئی الگ اصول ہوگا، تو وزیر نے اس امکان کو مسترد کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مقررہ مدت میں کتابیں واپس نہ کرنے والے کسی بھی قاری پر لاگو ہونے والا طریقہ کار ہی ممتا بنرجی کے معاملے میں بھی اختیار کیا جائے گا۔ گھوش نے کہا، ’’سووندو ادھیکاری نے ریاست میں قانون کی حکمرانی قائم کی ہے اور قانون سب کے لیے یکساں ہے۔‘‘ ان کے اس بیان نے معاملے کو ایک وسیع تر سیاسی مؤقف سے جوڑ دیا، جس کے ذریعے بی جے پی حکومت سابقہ ترنمول حکومت کے اس مبینہ طرزِ عمل پر تنقید کر رہی ہے جس میں مخصوص افراد کو ترجیح دی جاتی تھی۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ ممتا بنرجی نے اسمبلی لائبریری کے حکام کو مطلع کیا تھا کہ مذکورہ کتابیں نہ تو ان کے پاس ہیں اور نہ ہی ان کے گھر پر موجود ہیں۔ ذرائع کے مطابق خیال کیا جاتا ہے کہ کتابیں اسمبلی میں وزیرِ اعلیٰ کے چیمبر میں رکھی گئی تھیں، جس دفتر پر اب سووندو ادھیکاری قابض ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: گوا میں انسداد تبدیلی مذہب بل کو کابینہ کی منظوری، عمر قید تک سزا کی تجویز
لائبریری حکام کا کہنا ہے کہ تکنیکی طور پر ان کتابوں کو اس وقت تک واپس شدہ تصور نہیں کیا جاسکتا جب تک انہیں باقاعدہ طور پر اسمبلی لائبریری میں جمع نہ کرا دیا جائے۔ گھوش نے اس موقع کو سابقہ حکومت کی لائبریری پالیسی پر وسیع تر تنقید کے لیے بھی استعمال کیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ریاستی حکومت کے زیرِ انتظام لائبریریوں کو سیاسی وجوہات کی بنا پر ممتا بنرجی کی لکھی ہوئی کتابیں خریدنے کی ہدایات دی گئی تھیں۔ وزیر نے خاص طور پر ممتا بنرجی کے شعری مجموعے ’’ایپانگ اوپانگ جھوپانگ‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس کی ادبی یا تعلیمی اہمیت بہت کم ہے، اسی لیے انہوں نے اسے سرکاری اور حکومت کے زیرِ انتظام لائبریریوں سے ہٹانے کا حکم دیا ہے۔ گھوش نے کہا، ’’ایپانگ اوپانگ جھوپانگ جیسی کتابوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ اسی لیے میں نے انہیں حکومت کے زیرِ انتظام لائبریریوں سے ہٹانے کا حکم دیا۔‘‘
محکمہ سنبھالنے کے بعد سے گھوش متعدد بار اشارہ دے چکے ہیں کہ بی جے پی حکومت ریاستی سرپرستی میں چلنے والی لائبریریوں میں کتابوں کے انتخاب کے نظام میں بڑی تبدیلیاں لانا چاہتی ہے اور ہندوستانی تاریخ، ثقافت، قوم پرستی اور تعلیمی اعتبار سے مفید ادب پر زیادہ توجہ دے گی۔ ان کے مطابق مقصد یہ ہے کہ لائبریریوں میں ایسی کتابیں دستیاب ہوں جو نوجوان قارئین کو ایسا علم اور مختلف نقطۂ نظر فراہم کریں جو ان کی تعلیمی اور فکری نشوونما میں معاون ثابت ہو۔ گھوش نے کہا، ’’لائبریریوں میں غیر ضروری کتابیں نہیں رکھی جائیں گی۔ اس کے بجائے قدیم ہندوستانی تاریخ اور ثقافت، سوامی وویکانند، رابندر ناتھ ٹیگور، بنکم چندر چٹوپادھیائے، قاضی نذرالاسلام اور شیاما پرساد مکھرجی سے متعلق کتابیں رکھی جائیں گی۔ برسوں سے ان شخصیات کی خدمات کو فراموش کرنے کی کوششیں کی گئی ہیں۔ اس مرتبہ ان کی زندگی اور کام کے بارے میں معلومات سے بھرپور کتابیں دستیاب ہوں گی۔ اگر ہم انہیں بھول جائیں تو پھر ہم کس کو بنگالی کہیں گے؟‘‘ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ حکومت ’’قوم پرستانہ‘‘ تحریروں کی حوصلہ افزائی کرے گی اور ہندوستان کی تاریخ، قومی شناخت اور ثقافتی ورثے سے متعلق کتابوں کی دستیابی میں اضافہ کیا جائے گا۔ تاہم وزیر نے کہا کہ سائنس اور سماجی و اقتصادی موضوعات پر مبنی ایسی کتابیں بھی لائبریریوں میں برقرار رکھی جائیں گی جو طلبہ اور نوجوان قارئین کی تعلیمی اور پیشہ ورانہ ترقی میں معاون ثابت ہوسکتی ہیں۔