Inquilab Logo Happiest Places to Work

میراروڈ: لوکل ٹرین قتل کیس کے ملزم کے اہل خانہ کو سوسائٹی سے نکالنے کا مطالبہ

Updated: June 27, 2026, 1:01 PM IST | Sajid Mehmood Shaikh | Mira Road

ایم این ایس کے وفد نے سوسائٹی عہدیداروں کو خط دیا ، کہا :اطراف کے مکینوں نے رابطہ قائم کرکے خوف کا اظہار کیا ہے۔

Accused Roshan Sorna (in a mask) in police custody. (Photo: PTI)
ملزم روشن سورنا (نقاب میں) پولیس کی تحویل میں۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

یہاں کے رہائشی روشن سورنانے لوکل ٹرین میں مینک اگروال نامی نوجوان کو معمولی بات پر قتل کردیا تھا۔ اس پرلوگوں میں شدیدوغم وغصہ پایا جارہا ہے۔اس تعلق سے مہاراشٹر نونرمان سینا (ایم این ایس) کے کارکنان نےجمعہ کو میرا روڈ کی میگھ دوت کوآپریٹیو سوسائٹی  پہنچ کر شدید ناراضگی کا اظہار کیا اور ملزم کے اہل خانہ کو فوری طور پر وہاں سے نکالنے کا مطالبہ کیا۔ واضح رہے کہ ملزم روشن سورنا کو عدالت نے۳۰؍  جون کوپولیس تحویل میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: این سی پی نے ثنا ملک کے تین طلاق سے متعلق بیان سے لاتعلقی ظاہر کی

ایم این ایس کے  مقامی کارکنوں پر مشتمل وفد  جس کی سربراہی  پارٹی کے میرابھائندر کے صدر سندیپ رانے کر رہے تھے نے ،میگھ دوت ٹاور کے چیئرمین اور سیکریٹری سے ملاقات کی اور انہیں  باقاعدہ ایک مکتوب سونپا۔  انہوںنے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ’’ٹرین میں قتل کی واردات کے بعد جیسے ہی ہمیں معلوم ہوا کہ ملزم روشن سورنا یہاں میگھ دوت سوسائٹی میں رہتا ہے تو آس پاس کے مکینوں نے ہم سے رابطہ کیا اور خوف کا اظہار کیا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ایسے مجرمانہ پس منظر کے حامل افراد کو یہاں رہنے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ ’’سوسائٹی  کےعہدیداروں کو خط دے کر مطالبہ کیا گیا ہے کہ ملزم کے اہل خانہ (جو کرایہ دار ہیں) کو فوری طور پر سوسائٹی خالی کرنے کا نوٹس دیا جائے۔‘‘ ایم این ایس لیڈرنے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ نہ صرف میرا بھائندر بلکہ پوری ممبئی میں ایسی گھناؤنی سرگرمیوں میں ملوث افراد کو کہیں بھی فلیٹ یا پناہ نہیں ملنی چاہئے۔سوسائٹی  کے عہدیداروں نے وفد کو یقین دلایا ہے کہ وہ اس معاملے پر جلد ہی قانونی نوٹس جاری کریں گے۔ ایم این ایس کارکنان نے انتباہ دیا ہے کہ اگر غلط سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی نہ کی گئی تو وہ اپنا احتجاج تیز کریں گے۔ اس دوران علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کیلئے پولیس بھی مستعد ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK