ایرولی۔ کٹائی ناکہ ایلیویٹڈ روڈ پروجیکٹ کے پہلے ۲؍ مراحل کو آئندہ ماہ جولائی میں باقاعدہ طور پر ٹریفک کے لئے کھول دیا جائے گا۔
EPAPER
Updated: June 27, 2026, 1:38 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Dombivali
ایرولی۔ کٹائی ناکہ ایلیویٹڈ روڈ پروجیکٹ کے پہلے ۲؍ مراحل کو آئندہ ماہ جولائی میں باقاعدہ طور پر ٹریفک کے لئے کھول دیا جائے گا۔
نوی ممبئی، ممبرا،کلیان اور ڈومبیولی کے لاکھوں روزمرہ کے مسافروں کیلئے ایک طویل انتظار ختم ہونے کو ہے۔ علاقے کے سب سے اہم اور پبلک ٹرانسپورٹ کا رخ بدل دینے والے ایرولی۔کٹائی ناکہ ایلیویٹڈ روڈ پروجیکٹ کے پہلے ۲؍ مراحل کو آئندہ ماہ جولائی میں باقاعدہ طور پر ٹریفک کے لئے کھول دیا جائے گا۔ ممبئی میٹروپولیٹن ریجن ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایم ایم آر ڈی اے) نے اس حوالے سے تمام تیاریاں آخری مراحل میں داخل کر دی ہیں جس کے بعد نوی ممبئی اور ڈومبیولی کے درمیان کا سفر نہ صرف تیز رفتار ہو جائے گا بلکہ مسافروں کا قیمتی وقت اور ایندھن بھی بچے گا۔
یہ بھی پڑھئے: وزیر تعلیم نے سیف طیب جی اسکول کی طالبات کے فن پاروں کی ستائش کی
اس اہم منصوبے سے متعلق رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر شری کانت شندے کے دفترسے جاری کردہ پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ تقریباً ۱۳؍ کلومیٹر طویل یہ ایلیویٹڈ کوریڈور ایم ایم آر ڈی اے ریجن میں بنیادی ڈھانچے کا ایک انقلابی منصوبہ مانا جا رہا ہے۔ اس پورے پروجیکٹ کی تکمیل سے ایرولی اور ڈومبیولی کے درمیان کا فاصلہ تقریباً ۱۰؍ کلومیٹر کم ہو جائے گا، جس سے سفر کا دورانیہ ۳۰؍ سے ۴۵ ؍منٹ تک گھٹ جائے گا۔حکام کا دعویٰ ہے کہ منصوبہ مکمل ہونے پر نوی ممبئی سے ڈومبیولی کا طویل ترین سفر محض ۱۵؍ منٹ میں طے کرنا ممکن ہو سکے گا۔
عیاں رہے کہ دونوں مراحل کے آغاز کے بعد مہاپے، شل پھاٹا روڈ، کلیان پھاٹا اور ممبرا پر ٹریفک کی روانی میں نمایاں بہتری آئے گی۔اس کے علاوہ ملنڈ۔ایرولی پل، تھانے۔بیلاپور روڈ اور قومی شاہراہ نمبر۴ ؍کے درمیان براہِ راست اور تیز رفتار رابطہ قائم ہوگا جس سے روزانہ ہزاروں مسافروں کو فائدہ پہنچے گا۔ صنعتی علاقوں میں مال برداری بھی پہلے کے مقابلے میں زیادہ آسان اور تیز ہو جائے گی۔
یہ بھی پڑھئے: کام کی جگہوں پر خواتین کے تحفظ کیلئے ’پاش‘ ایکٹ کو مزید سختی سے نافذ کیا جائے گا
تفصیلات کے مطابق تقریباً ۱۳؍ کلومیٹر طویل یہ ایلیویٹڈ کوریڈور ایم ایم آر ڈی اے ریجن میں بنیادی ڈھانچے کا ایک انقلابی منصوبہ مانا جا رہا ہے۔ اس پورے پروجیکٹ کی تکمیل سے ایرولی اور ڈومبیولی کے درمیان کا فاصلہ تقریباً ۱۰ ؍کلومیٹر کم ہو جائے گا جس سے سفر کا دورانیہ ۳۰؍ سے ۴۵ ؍منٹ تک گھٹ جائے گا۔حکام کا دعویٰ ہے کہ منصوبہ مکمل ہونے پر نوی ممبئی سے ڈومبیولی کا طویل ترین سفر محض ۱۵؍ منٹ میں طے کرنا ممکن ہو سکے گا۔
پہلا مرحلہ (تھانے۔بیلاپور روڈ تا نیشنل ہائی وے۴) ۴؍کلومیٹر طویل اس حصے کا ۹۲؍ فیصد سے زائد کام مکمل ہو چکا ہے اور بقیہ معمولی کام کو جنگی بنیادوں پر نمٹایا جا رہا ہے۔دوسرا مرحلہ (ایرولی تا بیلاپور ) ۲ء۵۷؍کلومیٹر طویل اس اہم مرحلے کا کام سو فیصد مکمل ہو چکا ہے۔تیسرا مرحلہ (نیشنل ہائی وے ۴؍ تا کٹائی ناکہ) ۶ء۷۱؍ کلو میٹر طویل اس آخری مرحلے پر کام جاری ہے جسے اگلے ایک سے ڈیڑھ سال کے اندر مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔