پرکاش امبیڈکرنے کہا ونچت کارکنان نے کسی سے زور زبردستی نہیں کی پھر بھی کافی لوگ احتجاج میں شامل ہوئے۔
EPAPER
Updated: July 24, 2026, 10:52 AM IST | Saeed Ahmed Khan / Wsim Patel | Mumbai / Panvel
پرکاش امبیڈکرنے کہا ونچت کارکنان نے کسی سے زور زبردستی نہیں کی پھر بھی کافی لوگ احتجاج میں شامل ہوئے۔
جمعرات کو ونچت بہوجن اگھاڑی کی طرف سے اعلان کردہ بند ایک طرح سے کامیاب رہا۔ مہاراشٹر کے بیشتر علاقوں میں کاروبار بند بھی رکھا گیا اور احتجاج بھی ہوا۔ البتہ ممبئی اور پنویل میں اس بند کا ملا جلا اثر دکھائی دیا۔ کہیں دکانیں بند رہیں تو کہیں کھلی رہیں۔
ممبئی کے بیشتر علاقوں میں دکانیں اور دیگر کاروبار معمول کے مطابق جاری تھے البتہ کرلا، ملنڈ بھانڈو پ ،چمبور ،ورلی اوردادر وغیرہ میں بہت سے لوگوں نے اپنے کاروبار بند رکھے ۔ اس تعلق سے ونچت بہوجن آگھاڑی کے سربراہ پرکاش امبیڈکر نے صحافیوں کو بتایاکہ ’’ دیگر جماعتوں کے ذمہ داران کے ہمراہ صلاح ومشورے کے بعد بند کا اعلان کیا گیا تھا۔ہماری پارٹی کی جانب سے کارکنا ن کوہدایت دی گئی تھی کہ وہ کسی سے زور زبردستی نہ کریں اورنہ ہی ایساانداز اپنائیں جس سے شہریوں کوپریشانی ہو،پیار محبت سےاپیل کریں چنانچہ لوگوں نےاپنے طور پربغیرکسی دباؤ کے کاروبار بند رکھ کر اس میں حصہ لیا ۔ممبئی کے الگ الگ علاقوںکے علاوہ ریاست کے مختلف اضلاع میں بند کا خاصا ا ثر دیکھنے کو ملا ۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: احتجاج کرنے والے طلبہ کے ساتھ غیر انسانی سلوک کرنے کا حکومت اور پولیس پر الزام
پنویل میں بھی کاروبار جاری رہے لیکن ونچت بہوجن اگھاڑی، کانگریس، شیتکری کامگار پکش، اور ایم این ایس کارکنان نے شہر کے شیواجی چوک پر حکومت کے خلاف احتجاج کیا۔ کانگریس کے شہر صدر سدام پاٹل نے کہا ولاس رائو دیشمکھ دہشت گردانہ حملوں کے بعد ایک فلمساز کو جائے واردات پر اپنے ساتھ لے گئے تھے اس کیلئے انہیں اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا تھا۔ یہاں نیٹ پیپر لیک کے سبب ۳۱؍ طلبہ خود کشی کر چکے ہیں لیکن دھرمیندر پردھان کااستعفیٰ نہیں لیا جا رہا ہے۔ یہ حکومت کی بے حسی ہے۔