مہاراشٹر نو نرمان سینا کے اہلکاروں نے رکشوں پر ’مراٹھی سمجھ آتی ہے، میں مراٹھی بولتا ہوں‘ کے اسٹیکرز لگائے۔
EPAPER
Updated: April 26, 2026, 12:31 PM IST | Ejaz Abdul Ghani | Mumbai
مہاراشٹر نو نرمان سینا کے اہلکاروں نے رکشوں پر ’مراٹھی سمجھ آتی ہے، میں مراٹھی بولتا ہوں‘ کے اسٹیکرز لگائے۔
مہاراشٹر کی سیاست میں لسانی تشخص کا معاملہ ایک بار پھر شدت اختیار کرنے لگا ہے۔ڈومبیولی میں مہاراشٹر نونرمان سینا (ایم این ایس) نے مراٹھی زبان کے تحفظ اور ترویج کے نام پر ایک نئی جارحانہ مہم شروع کی ہے۔اس کے تحت شہر بھر میں چلنے والے آٹو رکشوں پر مراٹھی زبان سے متعلق خصوصی اسٹیکرز چسپاں کئےجا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ آنے والی ۴ ؍مئی کو بعض حلقوں کی جانب سے رکشا ڈرائیوروں پر مراٹھی زبان کے مبینہ جبری نفاذ کے خلاف احتجاج کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ایم این ایس نے اس مجوزہ احتجاج کا جواب دینے کے لیے اپنے روایتی انداز میں میدان سنبھالا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: پائیدھونی: ۲؍ سگے بھائی لاپتہ، والدین کا برا حال
سنیچر کو ڈومبیولی ریلوے اسٹیشن کے باہر پارٹی اہلکاروں کی جانب سےآٹو رکشوں پر ایسے اسٹیکرز لگائے جا رہے ہیں جن پر درج ہے’میں مراٹھی بولتا ہوں، مجھے مراٹھی سمجھ آتی ہے، میری رکشا میں بیٹھیں۔‘
مہاراشٹر نو نرمان سینا کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ریاست میں مراٹھی زبان کا احترام سب پر لازم ہے اور وہ اسے یقینی بنا کر رہیں گے۔ اس مہم کا سب سے دلچسپ پہلو یہ سامنے آیا کہ غیر مراٹھی رکشا ڈرائیوروں نے بھی بڑھ چڑھ کر اپنی گاڑیوں پر اسٹیکرزچسپاں کئے۔اتر پردیش، بہار اور دیگر ریاستوں سے تعلق رکھنے والے متعدد رکشا ڈرائیوروں کا موقف ہے کہ وہ جس ریاست میں رہ کر روزگار کما رہے ہیں وہاں کی مقامی زبان اور ثقافت کا احترام کرنا ان کا اخلاقی فرض ہے۔ ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ مراٹھی سیکھنا اور بولنا یہاں کے سماج میں گھلنے ملنے کے لئے ضروری ہے۔