امریکی ریاستی محکمے سے ایک ہزار سے زائد افراد نے آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کا ویزا منسوخ یا مسترد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ درخواست میں ۲۹؍ اگست کو نیویارک کے میڈیسن اسکوائر گارڈن میں ہونے والی ان کی تقریب منسوخ کرنے کی بھی اپیل کی گئی ہے۔
EPAPER
Updated: August 25, 2026, 10:13 PM IST | New York
امریکی ریاستی محکمے سے ایک ہزار سے زائد افراد نے آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کا ویزا منسوخ یا مسترد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ درخواست میں ۲۹؍ اگست کو نیویارک کے میڈیسن اسکوائر گارڈن میں ہونے والی ان کی تقریب منسوخ کرنے کی بھی اپیل کی گئی ہے۔
امریکہ بھر میں ایک ہزار سے زائد افراد نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو خطوط لکھ کر محکمۂ خارجہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت کو امریکی ویزا دینے سے انکار کرے یا ان کا ویزا منسوخ کرے۔ ان خطوط کو انڈین امریکن مسلم کونسل (IAMC) اور اس کی حلیف تنظیموں نے جمع کیا ہے۔ ان میں واشنگٹن سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ۲۹؍ اگست کو نیویارک سٹی کے میڈیسن اسکوائر گارڈن میں بھاگوت کی طے شدہ تقریب کو منسوخ کیا جائے، کیونکہ اس کے خلاف بڑے پیمانے پر عوامی مخالفت سامنے آ رہی ہے۔
انڈین امریکن مسلم کونسل کے صدر محمد جواد نے کہا، ’’موہن بھاگوت ہندوستانی امریکیوں کی نمائندگی نہیں کرتے اور میڈیسن اسکوائر گارڈن کو بھی انہیں اس طرح پیش نہیں کرنا چاہئے جیسے وہ ان کی نمائندگی کرتے ہوں۔ محکمۂ خارجہ کے پاس انہیں ویزا دینے سے انکار کرنے کا اختیار ہے اور ایک وفاقی کمیشن پہلے ہی اس کی سفارش کر چکا ہے۔ انہیں ۲۹؍ اگست سے پہلے کارروائی کرنی چاہئے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ایران پر امریکی پابندیوں سے کن ممالک پر اثر پڑیگا؟
پابندیوں کا مطالبہ
مارچ میں امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (USCIRF) نے آر ایس ایس کے خلاف ہدفی پابندیوں کی سفارش کی تھی، جن میں اثاثے منجمد کرنا اور اس کی قیادت پر ویزا پابندیاں عائد کرنا شامل ہیں۔ کمیشن نے آر ایس ایس پر ’’کئی دہائیوں سے اقلیتی گروہوں کے ارکان کے خلاف انتہائی تشدد اور عدم برداشت کی کارروائیوں ‘‘ میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔ امریکی کانگریس کی ریسرچ سروس نے آر ایس ایس کو ’’سخت گیر ہندو قوم پرست‘‘ تنظیم قرار دیا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے آر ایس ایس اور اس سے وابستہ تنظیموں کو عیسائیوں کے خلاف تشدد کا ’’سب سے زیادہ ذمہ دار‘‘ قرار دیا ہے، جبکہ گجرات میں ۲۰۰۲ءکے مسلم مخالف تشدد کیلئے بھی انہیں ’’براہِ راست ذمہ دار‘‘ قرار دیا ہے۔ نسل کشی پر نظر رکھنے والی تنظیم جینوسائیڈ واچ اور امریکی ہولوکاسٹ میموریل میوزیم کے ارلی وارننگ پروجیکٹ سمیت بین الاقوامی ادارے ریاستی سرپرستی میں ہونے والے ہجومی تشدد، مسلمانوں کی املاک پر بلڈوزر کارروائیوں اور بھارت کی مذہبی اقلیتوں کو منظم طور پر حقوق سے محروم کیے جانے کے حوالے سے بارہا تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: شام اور اسرائیل کے درمیان اردن میں مذاکرات
عالمی سطح پر مخالفت
امریکہ میں دائر کی گئی یہ درخواست کنیڈامیں ہونے والی کارروائی کے بعد سامنے آئی ہے، جہاں ۴۰؍ سے زائد سول سوسائٹی، انسانی حقوق اور مذہبی تنظیموں نے اوٹاوا سے بھاگوت کو ملک میں داخل ہونے سے روکنے کا مطالبہ کیا، جبکہ کنیڈین ارکانِ پارلیمنٹ نے بھی آر ایس ایس پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ۱۹۲۵ءمیں قائم ہونے والی آر ایس ایس، وزیر اعظم نریندر مودی کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی نظریاتی سرپرست تنظیم سمجھی جاتی ہے۔ بڑھتی ہوئی عالمی تنقید کے درمیان آر ایس ایس کے اعلیٰ لیڈروں، جن میں جنرل سیکریٹری دتاتریہ ہوسابالے بھی شامل ہیں، نے حال ہی میں امریکہ، برطانیہ اور جرمنی کے دورے کئے ہیں تاکہ بین الاقوامی تنقید کا جواب دیا جا سکے اور عالمی میگنیٹسکی پابندیوں کے مطالبات کی مخالفت کی جا سکے۔ ’IAMC‘ نے میڈیسن اسکوائر گارڈن کی انتظامیہ سے تقریب منسوخ کرنے کی اپیل کی ہے اور نیویارک کے حکام سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ آر ایس ایس کی قیادت کو پلیٹ فارم فراہم کرنے کی مذمت کریں۔