• Wed, 30 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مراکش: فاطمہ الزہرا المنصوری پہلی خاتون وزیر اعظم مقرر

Updated: September 30, 2026, 6:12 PM IST | Rabat

مراکش کے بادشاہ محمد ششم نے ۵۰؍ سالہ فاطمہ الزہرا المنصوری کو ملک کا وزیر اعظم مقرر کر دیا ہے۔ وہ مراکش کی تاریخ میں اس عہدے پر فائز ہونے والی پہلی خاتون اور عرب دنیا کی تیسری خاتون وزیر اعظم ہیں۔

Fatima Ezzahra El Mansouri. Photo: INN.
فاطمہ الزہرا المنصوری۔ تصویر: آئی این این

مراکش کے بادشاہ محمد ششم نے فاطمہ الزہرا المنصوری کو ملک کا وزیر اعظم مقرر کر دیا ہے، ۵۰؍ سالہ فاطمہ الزہرا المنصوری مراکش کی تاریخ میں اس عہدے پر فائز ہونے والی پہلی خاتون اور عرب دنیا کی تیسری خاتون وزیر اعظم بن گئی ہیں۔ شاہی محل نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ شہری منصوبہ بندی کی وزیر اور مراکش کے شہر مراکش کی میئر فاطمہ الزہرا المنصوری کو نئی حکومت تشکیل دینے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ فاطمہ نے ٹیلی ویژن پر خطاب کرتے ہوئے اپنی تقرری کو ’’واقعی تاریخی‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا، ’’ہمارے ملک کی تاریخ میں پہلی بار ایک خاتون حکومت کی قیادت کی ذمہ داری سنبھال رہی ہے۔ یہ صرف میرے لیے نہیں بلکہ تمام مراکشی خواتین کے لیے باعثِ فخر ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ہندو گروہ کے دورہ میں خواتین کو پردے میں رکھنے کے تنازع پر ایفل ٹاور کے سربراہ مستعفی

یہ تقرری گزشتہ ہفتے ہونے والے انتخابات کے نتائج کے اعلان کے چار روز بعد سامنے آئی ہے۔ بادشاہت کے حامی ’’آتھنٹیسٹی اینڈ ماڈرنٹی پارٹی‘‘ (PAM) نے سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرتے ہوئے پارلیمنٹ کے ایوانِ نمائندگان کی ۳۹۵؍ نشستوں میں سے ۹۷؍ نشستیں جیتیں۔ تاہم PAM حکومت بنانے کیلئے درکار ۱۹۸؍ نشستوں کی واضح اکثریت حاصل نہیں کر سکی، اس لیے اسے حکومت سازی کیلئے اتحادی جماعتوں کی ضرورت ہوگی، جو المنصوری کی پہلی ذمہ داری ہوگی۔ ۲۰۰۸ء میں بادشاہ کے دوست فواد علی الہمہ کی جانب سے قائم کی گئی PAM نے تمام جماعتوں کے ساتھ کام کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ تاہم جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی (PJD) اور فیڈریشن آف ڈیموکریٹک لیفٹ سمیت بعض جماعتوں نے اپوزیشن میں رہنے کا اعلان کیا ہے۔ نئی حکومتی اتحادی جماعتیں ۲۰۳۰ء کے فیفا ورلڈ کپ سے قبل اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری سے متعلق منصوبوں پر کام کریں گی۔ ۲۰۳۰ء کا ورلڈ کپ بنیادی طور پر مراکش، پرتگال اور اسپین میں منعقد ہونا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایرانی ریال تاریخ کی کم ترین سطح پر، ڈالر۲۵؍ لاکھ ریال سے تجاوز کرگیا

فاطمہ الزہرا المنصوری عرب دنیا میں وزیر اعظم بننے والی تیسری خاتون ہیں۔ ان سے قبل تیونس میں نجلا بودن اکتوبر ۲۰۲۱ء سے اگست ۲۰۲۳ء تک وزیر اعظم رہیں، جبکہ تیونس کی موجودہ وزیر اعظم سارہ زعفرانی کو مارچ ۲۰۲۵ء میں اس عہدے پر مقرر کیا گیا تھا۔ ۱۹۷۶ء میں مراکش کے شہر مراکش میں پیدا ہونے والی فاطمہ الزہرا نے قانون کی تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے فرانس کی مونٹ پیلیئر یونیورسٹی سے ایڈوانسڈ اسٹڈیز میں ڈپلومہ اور امریکا کی نیویارک یونیورسٹی سے اینگلو سیکسن بزنس لا میں ڈپلومہ حاصل کیا۔ انہوں نے کم عمری میں مقامی سیاست میں قدم رکھا اور ۲۰۰۹ء میں مراکش کی میئر منتخب ہوئیں، جس کے ساتھ وہ شہر کی پہلی خاتون میئر بنیں۔ اپنی پہلی مدت مکمل ہونے کے بعد وہ ۲۰۲۱ء کے انتخابات میں دوبارہ مراکش میونسپل کونسل کی سربراہ منتخب ہوئیں۔ وہ مسلسل کئی مدتوں تک ایوانِ نمائندگان کی رکن بھی منتخب ہوتی رہیں۔ اکتوبر ۲۰۲۱ء میں المنصوری قومی حکومت کا حصہ بنیں اور انہیں قومی علاقائی منصوبہ بندی، شہری ترقی، ہاؤسنگ اور شہری پالیسی کی وزیر مقرر کیا گیا۔ فاطمہ الزہرا کے دور میں براہِ راست رہائشی امداد پروگرام، شہری منصوبہ بندی اور علاقائی ترقی سے متعلق اصلاحات اور ۲۰۲۳ء کے الحوز زلزلے سے متاثرہ افراد کی دوبارہ آبادکاری جیسے اہم امور ان کی وزارت کے دائرۂ کار میں رہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK