Inquilab Logo Happiest Places to Work

ممبرا : ووٹر میپنگ کے مراکز پر بھیڑ، بی ایل او کے تعلق سے ملا جلا ردعمل

Updated: April 09, 2026, 11:04 AM IST | Iqbal Ansari | Mumbai

چند ووٹروں نے غلط میپنگ اور بی ایل اوکے ذریعے تعاون نہ کرنے کی بھی شکایت کی جبکہ چند نے بی ایل او کے تعاون پراظہارِ اطمینا ن کیا ۔ علاقائی سطح پر غیر سرکاری تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کے دفاتر میں ہیلپ ڈیسک قائم ۔

Voters At The Municipal School Near Ideal Market Getting Their Votes Mapped By BLO.Photo:INN
آئیڈیل مارکیٹ کے قریب میونسپل اسکول میں رائے دہندگان بی ایل او سے میپنگ کرواتے ہوئے۔تصویر:انقلاب
ووٹر لسٹ کی باریکی سے جانچ کیلئے’ اسپیشل انٹینسیو ریویژن ( ایس آئی آر ) ‘  شروع کیاجانے والا ہے۔ یہ سروے شروع ہونے سے قبل ووٹروں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اپنی ووٹر میپنگ کروالیں  جس میں رائے دہندگان کو موجودہ ووٹر لسٹ کی تفصیل( پارٹ نمبرجسے یادی نمبر بھی کہتے ہیں، نمبر شمار اور ووٹر شناختی کارڈ یا ایپک نمبر) اور اسی طرح ۲۰۰۲ء میں  ووٹر کا نام کس ووٹر لسٹ اورسیریل نمبر  یہ تفصیل بی ایل او کودینی ہے اور بی ایل او دونوں ہی ووٹر لسٹ کی تفصیل کو ’میپ‘ کرے گا۔ ممبرا میں متعدد غیر سرکاری تنظیموں اورسیاسی جماعتوں کی جانب سے یہ میپنگ کا کام جنگی پیمانے پر جاری ہے اور پرانی لسٹ سے نام تلاش کر کے دینے کا کام بھی کیا جارہا ہے۔ اس مہم میں شہری بھی گرمجوشی سے حصہ   لے رہے ہیں اور مراکز پر میپنگ کرانے کیلئے ووٹروں کی بھیڑ نظر آرہی ہے ۔ متعدد ایسی شکایتیں بھی موصول ہورہی ہیں جن میں بی ایل او ووٹر میپنگ میں ووٹر و ں کے ساتھ تعاون نہیں کر رہے ہیں۔ 
رائے دہندگان کی دشواریاں
کوسہ میں سلوا ہوٹل کے قریب نور محل بلڈنگ میں    رہنے والے ایڈوکیٹ فیروز شیخ نے بتایاکہ ’’ہمارے گھر کے ۸؍ ووٹر وں میں سے میرے ، میری بیوی اور ۲؍ بچیوں کی میپنگ غلط کر دی گئی تھی یعنی کسی اور ووٹر کی تفصیل سے انہیں منسلک کر دیا گیا تھا۔ اس کاپتہ اس وقت چلا جب میری ڈاکٹر بیٹی ہمارے ووٹر لسٹ نمبر ۴۰۷؍ کی بی ایل او کے پاس میپنگ کروانے گئی تھی۔ بی ایل او رشیدہ نے بتایاکہ ان چاروں کی ایک خاتون بی ایل او نے غلط میپنگ کر دی ہے جو جوندھلے اسکول میں بیٹھتی ہے۔ لہٰذا آپ کو وہاں جاکر اس بی ایل او سے میپنگ ختم کر نے کے بعد درست میپنگ کرواناہوگی۔  مَیں نےجب اس بی ایل او سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا ہے کہ بی ایل او گمراہ کر رہی ہے۔ مذکورہ ووٹر لسٹ اس کے پاس نہیں  ہے اس لئے اس کے ذریعے میپنگ کرنے کا سوال ہی نہیں اٹھتا ۔ لہٰذا مَیں کل ہماری بی ایل او سے کوسہ میونسپل اسکول میں جاکر پھر ملاقات کروں گا۔‘‘
  کوسہ میں رہنے والے ابو فیصل چودھری نے بتایا کہ ’’شملہ پارک تلاؤ پالی  اور اطراف کے علاقوں پر مشتمل ووٹر لسٹ لسٹ نمبر ۳۶۸؍ کے بی ایل او کا پتہ نہیں چل رہا تھا جس کی وجہ سے میرے بہن اور ان کے اہل  خانہ کی میپنگ نہیں ہو پارہی تھی۔ بدھ کو دوبارہ چیک کیا گیا تب ان کا نام اور نمبر ملا۔ ان سے رابطہ قائم کرنے پر بی ایل او جمعرات سے کوسہ میونسپل اسکول ( نزد ایم ایم ویلی) میں موجودہ رہنے کا یقین دلایا ہے۔‘‘
ووٹر میپنگ کیلئے بی ایل او کا کیمپ 
مقامی رکن اسمبلی اور دیگر عوامی نمائندوں کی درخواست  پر ممبرا کوسہ کے ووٹروں کو میپنگ  میں تعاون کرنے کیلئے ممبرا بازار، جوندھلے اسکول ، عبداللہ پٹیل ، کوسہ میونسپل اسکول( نزد آئیڈیل مارکیٹ)اور ایم ایم ویلی کے قریب کوسہ میونسپل اسکول میں بی ایل او کا کیمپ منعقد کیاگیا ہے۔ یہاں پر بی ایل او اپنی ووٹر لسٹ کے ووٹروں کی میپنگ کررہے ہیں۔کئی شہریوں نے یہ بھی بتایاکہ ’’کچھ بی ایل او ووٹر میپنگ میں کافی تعاون کر رہے ہیں اور وہاٹس ایپ پر بھی تفصیل بھیجنے پر وہ میپنگ کر دیتے ہیں۔‘‘
ووٹر میپنگ میں رحمہ فاؤنڈیشن کی جانب سے دارالفلاح بلڈنگ نمبر ۲؍ میں جاری کیمپ میں شہریوں کی رہنمائی کرنے والے نصیرخان سر نے بتایا کہ جن شہریوں کا نام ۲۰۰۲ء کی لسٹ میں تلاش کرنا ہے، اس میں اکثر نام کے اِملے میں فرق ہے یا غلط لکھا گیاتھا۔ اس کی وجہ سے اسے تلاش کرنے میں دقت پیش آرہی ہے۔البتہ ہم الگ الگ اسپیلنگ سے تلاش کر کے شہریوں کی مد د کرر ہے ہیں۔
ہیلپ ڈیسک
ممبرا کوسہ میں چند غیر سرکاری تنظیموں اور چند سیاسی پارٹیوں کی جانب سے ایس آئی آر کیلئے شہریوں کی رہنمائی اور ووٹر لسٹ میں نام تلاش کرنے میں مدد کرنے کا کام شروع کیا گیا ہے۔ ان میں جماعت اسلامی ہند آفس (تنور نگر اور شریفہ روڈ)، رحمہ فاؤنڈیشن( رحمہ مسجد ، ممبرا بازارروڈ اور درالفلاح بلڈنگ نمبر ۲، پہلا منزلہ) ، شاداب سر کلاس( بامبے کالونی )، سنتوش نگرکے ساتھ ساتھ این سی پی (شرد پوار) کے کارپوریٹر یاسین قریشی اور دیپالی موتی رام بھگت کے دفتر واقع ممبرا دیوی روڈ، کارپوریٹر منیشا بھگت کے رابطہ دفترواقع دتو واڑی اور ریتی بندر، سنگھرش آفس (مقابل ممبرا پولیس اسٹیشن)،  ایم ایل اے آفس(تنور نگر)، تنظیم علما ء و ائمہ دفتر گریس اسکوائر اوریونیورسل کمپلیکس ،کارپوریٹر اشرف (شانو ) پٹھان کے رابطہ آفس ( امرت نگر)، کارپوریٹر سیف پٹھان  کے آفس ( بامبے کالونی)، کارپوریٹر نفیس انصاری کے دفتر(سائلی اپارٹمنٹ ، شادی محل روڈ)اور دیگر جگہیںشامل ہیں۔ ان مراکز پر شہریوں کو پرانی ووٹر لسٹ سے نام تلاش کرنے اور بی ایل اے کے ذریعے کس طرح میپنگ کرنا ہے،  اس کی رہنمائی کی جارہی ہے۔
اس سلسلے میں ممبرا کوسہ کے بی ایل او کی تقرری کے انچارج این ٹی چودھری سے رابطہ قائم کرنے پر انہوں نے بتایا کہ ممبرا کوسہ کے تقریباً پونے ۳؍ لاکھ ووٹروں کیلئے  ۲۲۱؍ بی ایل او کا تقرر کیا جارہا ہے۔ ان میں سے محض ۳؍ کا تقرر باقی ہے، بقیہ کا انتخاب ہو چکا ہے اور وہ کام بھی کر رہے ہیں۔
 
 
 ۴؍ بی ایل او کے خلاف ممبرا پولیس میں شکایت درج
ضلع کلکٹر کی ہدایت پر ممبرا کے ۴؍ بی ایل او جنہوں نے ووٹر میپنگ میں عدم توجہی کا مظاہرہ کیا تھا، ان کے خلاف ممبرا کے اسسٹنٹ میونسپل کمشنر   وجے کاؤلے کی شکایت پر ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ ان میں ایک آشا سیوکا اور ۳؍  اساتذہ شامل تھے۔ افسر کے بقول بعد میں ان میں سے ۲؍ بی ایل او کام پر حاضر ہو گئے ہیں۔انہوںنے مزید  بتایاکہ فی الحال محض ۳؍ بی ایل او کا تقرر باقی ہے لیکن اس کی کارروائی بھی جاری ہے۔
غلط ووٹر میپنگ پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے افسر نے کہا کہ ایسا تو نہیں ہونا چاہئے کیونکہ جب ووٹر اپنی تفصیل بی ایل او کو دیتا ہے تب ہی اس کی میپنگ خود اس کے ساتھ یا اس کے رشتہ داروں کے ساتھ کی جاتی ہےلیکن اگر غلط میپنگ ہو گئی ہے تو متعلقہ بی ایل او اسے درست بھی کر دے گا۔
 
 
 
درکار دستاویز کی بنیاد پر بھی نام درج کیاجاسکتا ہے
شہریوں نے پائی جانے والی بے چینی پر افسر نےکہا کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ جن افراداور ان کے قریبی رشتہ داروں کانام ۲۰۰۲ء کی ووٹر لسٹ میں نہیں ہو گا تب بھی وہ ایس آئی آر میں دیئےگئے پیدائشی اور رہائشی ثبوت کی بنیاد پر اپنا نام درج کروا سکتے ہیں۔ اس لئے جب بی ایل او گھر آئے گا تو اسے یہ دستاویز دے سکتےہیں ۔ دستاویز قبول کرنے کے بعد مقامی الیکٹورل آفیسر ان کی سماعت کرے گا اور مطمئن ہونے پر ان کا نام ایس آئی آر میں شامل کر لیاجائے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK