Updated: March 08, 2026, 3:09 PM IST
| Tehran
امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے حوالے سے عالمی سطح پر کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ اس دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف کارروائی کو بڑی کامیابی قرار دیا ہے، جبکہ یورپی ممالک نے جنگ میں براہِ راست شامل ہونے سے گریز کرتے ہوئے بین الاقوامی قانون اور خطے کے امن کے حوالے سے تشویش ظاہر کی ہے۔
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: آئی این این۔
ایران کے خلاف جنگ کچھ عرصہ اور جاری رہے گی، ہم نے ان کی ’بری سلطنت‘ تباہ کر دی: ٹرمپ
امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سنیچرکو دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف جنگ میں امریکی فوج نے ایران کی پوری قیادت کو ختم کر دیا ہے۔ انہوں نے اس کارروائی کو زمین سے ایک بڑے ’کینسر‘ کے خاتمے کے مترادف قرار دیا۔ میامی جاتے ہوئے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ’’جنگ حیران کن حد تک کامیاب جا رہی ہے اور ہم نے ان کی پوری بری سلطنت تباہ کر دی ہے۔ ‘‘انہوں نے کہا:’’ہم جنگ بہت بڑے فرق سے جیت رہے ہیں۔ ہم نے ان کی پوری بری سلطنت کو تباہ کر دیا ہے۔ یقیناً جنگ کچھ عرصہ اور جاری رہے گی۔ خود جنگ غیر معمولی انداز میں جا رہی ہے، جتنی اچھی ہو سکتی تھی اتنی اچھی ہے۔ ‘‘ٹرمپ نے مزید کہا کہ ان کی حکومت نے وہ کچھ حاصل کیا ہے جو کسی کے خیال میں بھی ممکن نہیں تھا۔ انہوں نے کہا:’’ہم نے ایران کی بحریہ کو تباہ کر دیا ہے، ان کے ۴۴؍ جہاز ختم کر دیئے ہیں۔ ہم نے ان کی فضائیہ بھی ختم کر دی، ہر جہاز تباہ کر دیا۔ ان کے زیادہ تر میزائل بھی ختم کر دیے۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ اب میزائل زیادہ نہیں آ رہے۔ ہم نے ان کے میزائل بنانے کے کارخانوں کو بھی سخت نشانہ بنایا ہے۔ ان کی ڈرون بنانے کی صلاحیت بہت کم ہو گئی ہے اور ہم نے انہیں ہر طرح سے نقصان پہنچایا ہے، حتیٰ کہ تقریباً ہر قسم کی قیادت کو بھی ختم کر دیا ہے۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: یورپ میں ایران حملوں کی مخالفت، امریکہ میں بھی جنگ پر سوالات
جب ان سے چھ ہفتوں کی جنگ کے اندازے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا:’’میں نے کبھی وقت مقرر نہیں کیا، جتنا وقت لگے گا۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا:’’ایران کی فوج تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ ہم ان کی فوج کو بہت سخت نقصان پہنچا سکتے ہیں، شاید کریں شاید نہ کریں، ابھی اس کا فیصلہ نہیں کیا۔ ‘‘ٹرمپ نے کہا:’’ہم نے ان کی پیداوار کو بہت سخت نقصان پہنچایا ہے۔ اب وہ پہلے دو دنوں کے مقابلے میں صرف نو فیصد حملے کر پا رہے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ ان کے پاس وسائل ہی کم رہ گئے ہیں۔ ہم نے ان کے تقریباً۷۰؍ فیصد راکٹ لانچر بھی تباہ کر دیئے ہیں۔ لانچر بہت اہم ہوتے ہیں، انہیں حاصل کرنا مشکل اور بہت مہنگا ہوتا ہے۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: ایران نے امریکی اینٹی میزائل نظام تباہ کردیا
جرمنی نے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ میں شامل ہونے سے انکار کر دیا
جرمنی نے سنیچرکو واضح کر دیا کہ وہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ میں شامل نہیں ہوگا۔ جرمنی کے نائب چانسلر لارس کلنگ بائل نے میڈیا ادارے آر این ڈی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا:’’میں بہت واضح طور پر کہتا ہوں یہ ہماری جنگ نہیں ہے۔ ہم اس جنگ میں حصہ نہیں لیں گے۔ ‘‘انہوں نے خبردار کیا کہ ’’بڑا خطرہ یہ ہے کہ دنیا ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے جہاں کوئی قوانین باقی نہیں رہیں گے۔ ہم ایسی دنیا میں نہیں رہنا چاہتے جہاں صرف طاقتور کا قانون چلے۔ ‘‘انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں اس بات پر بڑے شکوک ہیں کہ یہ جنگ بین الاقوامی قانون کے تحت جائز ہے۔ کلنگ بائل کا موقف جرمن چانسلر فریڈرک مرز سے مختلف ہے، جنہوں نے کہا تھا کہ ان کی حکومت ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام، اسرائیل کیلئےخطرات اور دہشت گردی کی حمایت کے معاملے پر امریکہ اور اسرائیل کے مقاصد سے اتفاق کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ کا اطلاعاتی محاذ: ویڈیوز، مذہبی بیانیے اور سوشل میڈیا
ایران پر حملے بین الاقوامی قانون کے خلاف:نیدرلینڈز کے وزیر اعظم
نیدرلینڈز کے وزیر اعظم روب جیٹن نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حالیہ حملے اور ایران کی جوابی کارروائیاں بین الاقوامی قانون کے دائرے سے باہر ہیں۔ ہیگ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ اقدامات بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں، لیکن وہ ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام کو نشانہ بنانے کی منطق کو سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا:’’ایران بھی کئی برسوں سے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کر رہا ہے، اور بین الاقوامی قانون ایرانی عوام کو تحفظ دینے میں ناکام رہا ہے۔ ‘‘اس کے باوجود نیدرلینڈز امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کی حمایت نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملے دوسرے ممالک سے مشورہ یا اجازت لئے بغیر کئے گئے تھے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس وقت یہ فیصلہ کرنا اہم نہیں کہ یہ اقدام درست تھا یا نہیں کیونکہ صورتحال اب بھی کشیدگی کے مرحلے میں ہے۔
یورپی مفادات کے تحفظ کے اقدامات
نیدرلینڈز حکومت خطے میں ایک جنگی جہاز بھیجنے پر غور کر رہی ہے۔ ممکن ہے کہ فضائی دفاعی فریگیٹ Zr. Ms. Evertsen کو مشرق وسطیٰ بھیجا جائے جو فضا میں میزائلوں کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ جہاز فرانس کے طیارہ بردار بحری جہازچارلس ڈی گال کے ساتھ مل کر یورپی ممالک کو ممکنہ میزائل یا ڈرون حملوں سے بچانے میں حصہ لے گا۔
یہ بھی پڑھئے: ایران اب پڑوسی ممالک پر حملہ نہیں کرے گا
نیتن یاہو کا اعلان
اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل ایران کے خلاف جنگ ’پوری طاقت کے ساتھ جاری رکھے گا۔ ‘‘انہوں نے ٹی وی خطاب میں کہا:’’ہمارا ایک منظم منصوبہ ہے جس کے ذریعے ایرانی حکومت کو ختم کیا جائے گا اور کئی دوسرے مقاصد حاصل کئےجائیں گے۔ ‘‘انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل اور امریکہ نے مشترکہ فضائی حملوں کے بعد تہران کی فضائی حدود پر تقریباً مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ انہوں نے ایرانی عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا:’’یہ سچائی کا لمحہ ہے۔ اسرائیل نے۷؍ اکتوبر کے واقعات کے بعد مشرق وسطیٰ کا نقشہ بدل دیا ہے۔ ‘‘
ایران کا دعویٰ: کہا چھ ماہ تک جنگ لڑ سکتے ہیں
ایران کے انقلابی گارڈز نے کہا کہ ایران امریکہ اور اسرائیل کے خلاف چھ ماہ تک شدید جنگ لڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ترجمان علی محمد نائینی نے کہا کہ ایران اب تک پہلی اور دوسری نسل کے میزائل استعمال کر رہا ہے، لیکن آنے والے دنوں میں جدید اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل استعمال کئے جائیں گے۔
ایرانی صدر کا بیان
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ان کے بیانات کو دشمن نے غلط انداز میں پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا: ’’ہم اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں، لیکن اگر ہم پر حملہ ہوگا تو ہمیں جواب دینا پڑے گا۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: ایپسٹین کیس میں نیا موڑ: محکمہ انصاف نے ٹرمپ کے خلاف روکی گئی فائلز عام کردیں
ایران کا پیغام: فتح یا شہادت
ہندوستان میں ایران کے سفیر محمد فتح علی نے کہا کہ ایرانی عوام ہر حال میں مقابلہ کریں گے۔ انہوں نے کہا: ’’ہم واضح طور پر اعلان کرتے ہیں کہ اس راستے پر ہم یا تو فتح حاصل کریں گے یا شہادت۔ ہمارے لئے دونوں عزت اور خوشی کا باعث ہیں۔ ‘‘انہوں نے اس جنگ کو حق اور باطل کی جنگ قرار دیا۔ انہوں نے کہا:’’ایک طرف انسانی وقار، انصاف اور قوموں کی آزادی کا حق ہے، جبکہ دوسری طرف ظلم اور غلبہ ہے۔ ‘‘
بڑی جنگ بھی ایران کے نظام کو نہیں گرا سکے گی: انٹیلی جنس رپورٹ
ایک خفیہ امریکی انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق، حتیٰ کہ امریکہ کی بڑی فوجی جنگ بھی ایران کے فوجی اور مذہبی اقتدار کے ڈھانچے کو گرانے میں کامیاب نہیں ہوسکتی۔ یہ رپورٹ نیشنل انٹیلی جنس کونسل نے تیار کی ہے جس میں امریکی انٹیلی جنس کی ۱۸؍ایجنسیوں کے تجزیہ کار شامل ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا یہ دعویٰ کہ وہ ایران کی قیادت کو ہٹا کر اپنی پسند کی حکومت لا سکتے ہیں، حقیقت میں اتنا آسان نہیں ہوگا۔ رپورٹ جنگ شروع ہونے سے تقریباً ایک ہفتہ پہلے مکمل ہوئی تھی اور اس میں یہ جائزہ لیا گیا تھا کہ اگر ایران کی قیادت کو نشانہ بنایا جائے تو کیا نتائج ہوسکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اگر سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو بھی قتل کردیا جائے تو بھی ایران کی فوجی اور مذہبی قیادت اپنے آئینی طریقہ کار کے ذریعے اقتدار کا تسلسل برقرار رکھ سکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق ایران کی اپوزیشن بکھری ہوئی ہے اور اس کیلئے اقتدار پر قبضہ کرنا بہت مشکل ہوگا۔ رپورٹ میں امریکی زمینی فوج کو ایران میں بھیجنے جیسے امکانات کا جائزہ نہیں لیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ پر عالمی سفارتی ردعمل: یورپ، ترکی اور ایشیا میں تشویش
امریکہ اور اسرائیل ایران کو توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں : سیکوریٹی چیف
ایران کے سیکوریٹی چیف علی لاریجانی نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ سرکاری ٹی وی پر سنیچرکو نشر ہونے والے ایک پہلے سے ریکارڈ شدہ انٹرویو میں لاریجانی نے کہا:’’ان کا اصل مقصد ایران کی بنیادی طور پر تقسیم اور ٹوٹ پھوٹ ہے۔ ‘‘۲۸؍ فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے کئے جن میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای ہلاک ہوگئے اور مشرقِ وسطیٰ میں جنگ شروع ہوگئی۔ ایران نے اس کے جواب میں ڈرون اور میزائل حملے کئے جو اسرائیل کے ساتھ خطے میں امریکی مفادات کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔ لاریجانی نے کہا کہ امریکہ ایران میں ویسا ہی منظرنامہ پیدا کرنا چاہتا تھا جیسا وینزویلا میں ہوا، جہاں عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز نے امریکی دباؤ کے تحت واشنگٹن سے تعاون کیا جبکہ امریکہ نے صدر نکولس مادورو کو ہٹانے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا:’’میرے خیال میں امریکیوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ مغربی ایشیا خصوصاً ایران کے حالات کو نہیں سمجھتے۔ ان کا خیال تھا کہ یہ وینزویلا کی طرح ہوگا وہ حملہ کریں گے، کنٹرول حاصل کرلیں گے اور معاملہ ختم ہوجائے گا لیکن اب وہ خود پھنس گئے ہیں۔ ‘‘
امریکی فوجیوں کی گرفتاری کا دعویٰ
علی لاریجانی نے دعویٰ کیا کہ چند امریکی فوجیوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا:’’مجھے اطلاع ملی ہے کہ کئی امریکی فوجیوں کو قیدی بنا لیا گیا ہے، لیکن امریکہ کہتا ہے کہ وہ جنگ میں مارے گئے۔ ‘‘انہوں نے کہا:’’حقیقت کو زیادہ دیر تک چھپایا نہیں جا سکتا۔ ‘‘تاہم، امریکی فوج نے اس دعوے کو مسترد کر دیا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے ترجمان نے کہا:’’ایرانی حکومت کا یہ دعویٰ ایک اور جھوٹ اور فریب ہے۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ پر یورپ اور خلیجی خدشات: ہجرت، توانائی اور سلامتی کو خطرہ
خطے میں کشیدگی
۲۸؍فروری سے امریکہ اور اسرائیل ایران پر بڑے پیمانے پر حملے کر رہے ہیں جن میں ایک ہزار سے زیادہ افراد مارے گئے، جن میں :سپریم لیڈر علی خامنہ ای، ۱۵۰؍ سے زیادہ اسکول کی طالبات اوراعلیٰ فوجی افسران شامل ہیں۔ اس کے جواب میں ایران نے اسرائیل کے کئی شہروں، امریکی اڈوں، سفارتی عمارتوں اور فوجی اہلکاروں پر میزائل اور ڈرون حملے کئے ہیں۔
توانائی کی سپلائی پر خطرہ
کویت کے ہوائی اڈے پر ایندھن کے ذخیرے پر حملے کے بعد عالمی توانائی کی سپلائی کے بارے میں خدشات بڑھ گئے ہیں۔ آبنائے ہرمز سے دنیا کے تقریباً پانچواں حصہ تیل اور گیس گزرتا ہے، اس لئے تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں اور عالمی مارکیٹیں گر گئی ہیں۔