Inquilab Logo Happiest Places to Work

نیٹ پیپر لیک تنازع: احتجاج کے بعد وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان عہدے سے مستعفی

Updated: July 25, 2026, 3:09 PM IST | New Delhi

NEET-UG پیپر لیک اور امتحان میں ہونے والی بے ضابطگیوں کے خلاف دہلی میں طلبہ کے طویل احتجاج کے بعد، مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا اسے طلبہ کی جیت قرار دیا۔

Dharmendra Pradhan. Photo: INN
دھرمیندر پردھان۔ تصویر: آئی این این

دہلی میں امتحان کی بے ضابطگیوں، خاص طور پر’ نیٹ یوجی‘ پیپر لیک ہونے پر، طلبہ کے ہفتوں تک جاری رہنے والے بڑے پیمانے پر احتجاج کے بعد، وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے سنیچر کو استعفیٰ دے دیا جسے وزیر اعظم نے قبول کرلیا ہے۔ پردھان نے ایکس پر اس عہدے سے اپنے استعفیٰ کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے یہ فیصلہ طلبہ کے مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا۔ خط میں لکھا گیا ہے’’اس بات کو یقینی بنانے کیلئے کہ ملک بھر میں اور جنتر منتر پر اس صورتحال سے ملک دشمن عناصر فائدہ نہ اٹھائیں، قوم متحد رہے، ہندوستان کے طلبہ قانونی پیچیدگیوں میں نہ الجھیں اور اپنی پڑھائی اور کریئر پر توجہ مرکوز کریں، میں نے وزیر اعظم کو اپنا استعفیٰ پیش کر دیا ہے۔ ‘‘
یہ پیش رفت اس کے ایک دن بعد سامنے آئی ہے جب کاکروچ جنتا پارٹی (CJP)، جو ابھیجیت دپکے کی قیادت میں احتجاج کی قیادت کرنے والی تنظیم ہے، کے ترجمانوں نے مرکزی وزراء جے پی نڈااور جتیندر سنگھ سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد سی جے پی نے کہا تھا کہ حکومت نے دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ پر فیصلہ کرنے کیلئے ایک دن کا وقت مانگا ہے۔

دھرمیندر پردھان کا پورا خط
میرے دوستو
میں چار دہائیوں سے زیادہ عرصے سے طلبہ، اساتذہ اور تعلیمی اصلاحات کیلئے وقف رہا ہوں۔ یہ ہمیشہ سے میرا پختہ یقین رہا ہے کہ ایک مضبوط، جامع اور ویژنری تعلیمی نظام ایک مضبوط قوم کی بنیاد ہے۔ میں ملک کے نوجوانوں کی امنگوں، جذبات اور جائز توقعات کا گہرا احترام کرتا ہوں۔ ہندوستان کی نوجوان نسل کے خوابوں کو پورا کرنا ہمارے تمام سیاسی اور سماجی فیصلوں میں ایک اخلاقی عزم رہا ہے۔ میں وزیر اعظم کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے مجھے ان کی ویژنری قیادت میں قوم کی خدمت کرنے کا موقع دیا۔ تاہم، ۳ ؍مئی ۲۰۲۶ ءکو منعقد ہونے والے نیٹ یوجی امتحان میں بے ضابطگیاں پائی گئیں۔ فوری نوٹس لیتے ہوئے، حکومت ہند نے تحقیقات سی بی آئی کو سونپ دی، امتحان منسوخ کر دیا، اور دوبارہ امتحان کی تاریخ کا اعلان کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی، اگلے سال سے اس امتحان کو سی بی ٹی (کمپیوٹر بیسڈ ٹیسٹ) موڈ میں کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: کوئی خفیہ معاہدہ نہیں ہوا؛ سونم وانگچک نے الزامات مسترد کئے، احتجاج میں مزید شدت

اس دوران، ہمارا بنیادی ترجیحی مقصد یہ یقینی بنانا تھا کہ ۲۰ ؍لاکھ سے زیادہ طلبہ کا امتحان آسانی سے منعقد ہو۔ اس کیلئے’’حکومت کے مجموعی نقطہ نظر‘‘(Whole of Government Approach) کے تحت کام کیا گیا۔ اس میں حکومت ہند کے ساتھ ریاستی حکومتوں اور خاص طور پر ضلعی انتظامیہ نے اہم کردار ادا کیا۔ مزید برآں، طلبہ، سرپرستوں اور والدین کے تعاون سے یہ امتحان ۲۱ ؍جون ۲۰۲۶ ءکو مکمل ہوا۔ پہلے دن سے، میں نے اس کی ذمہ داری لی اور کبھی بھی اس صورتحال سے منہ نہیں موڑا۔ یہ میرا عزم تھا کہ ہم کسی بھی لائق طالب علم کا مستقبل امتحان مافیا کی وجہ سے برباد نہیں ہونے دیں گے، اور نہ ہی کسی طالب علم کے ساتھ ناانصافی ہونے دیں گے۔ 
۱۶ ؍جولائی کو جاری ہونے والے نیٹ یوجی کے نتائج اطمینان بخش تھے، جن میں پسماندہ پس منظر سے تعلق رکھنے والے بہت سے لائق طلبہ نے بھی کامیابی حاصل کی۔ تاہم، اس دوران بھی، ذمہ دار عہدوں پر بیٹھے لوگوں نے رکاوٹیں کھڑی کرنے اور بہت سے طلباء کو گمراہ کرنے کی کوشش کی، جس نے میرے دل کو گہرا صدمہ پہنچایا۔ میں ہمیشہ سے ایسا شخص رہا ہوں جس کو ہماری جمہوریت کی طاقت پر غیر متزلزل یقین ہے، اور میں نے ہمیشہ نوجوانوں کی امنگوں، خوابوں اور توقعات کا گہرا احترام کیا ہے۔ وہ نہ صرف ہندوستان کا مستقبل ہیں، بلکہ ایک نئے اور ترقی یافتہ ہندوستان کے کریئر، معمار اور بانی بھی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: جانبدارانہ رپورٹنگ بھی صحافیوں پر حملوں کا جواز نہیں بن سکتی: ایڈیٹرز گلڈ

پچھلے ۱۰ دنوں کی پیش رفت کو دیکھتے ہوئے، میرا دل بہت رنجیدہ ہے۔ یہ میرے لئے ذاتی وقار کا معاملہ نہیں ہے۔ ہندوستان کی نوجوان طاقت اس ملک کی اصل طاقت ہے۔ ہم ملک کی نوجوان طاقت کو الجھن کے جال میں نہیں پھنسنے دیں گے، یہ میرا عزم ہے۔ یہ دیکھتے ہوئے کہ ملک دشمن طاقتیں جنتر منتر اور ملک بھر میں پیدا ہونے والی صورتحال کا فائدہ نہ اٹھائیں، قوم کا اتحاد برقرار رہے، ہندوستان کے ایک بھی طالب علم کا مستقبل قانونی پیچیدگیوں میں نہ الجھے، اور ہمارے بچے اپنی پڑھائی میں وقت صرف کریں اور اپنےکریئر کی تعمیر پر توجہ دیں، ان سب باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، میں نے اپنا استعفیٰ جناب وزیر اعظم کو بھیج دیا ہے۔ میں وزیر اعظم کا ان کی رہنمائی، اعتماد اور مسلسل تعاون کیلئے تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ اس کے ساتھ ہی، میں کابینہ میں اپنے تمام محترم ساتھیوں، وزارت کے عہدیداروں اور ملازمین، اور ان تمام افراد کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جن کے ساتھ مجھے کام کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ قوم کی خدمت میری زندگی کی سب سے بڑی ترجیح ہے۔ میں ہمیشہ اس کیلئےوقف رہوں گا۔ بھگوان شری جگن ناتھ جی کی آشیرواد سے، میں مستقبل میں مادر ہند، ادیسہ کے لوگوں، اور ملک کے نوجوانوں کی امنگوں کو پورا کرنے کیلئے ہر ممکن طریقے سے خود کو وقف کرتا رہوں گا۔ 
آپ کا، 
دھرمیندر پردھان
سی جے پی کا خیرمقدم
سی جے پی جو طویل عرصے سے دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہی تھی، نے مرکزی وزیر کے اعلان کا خیرمقدم کیا۔ لکھا’’وزیر تعلیم نے اپنا استعفیٰ پیش کر دیا ہے۔ چھاتر شکتی زندہ باد!‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK