Updated: July 02, 2026, 10:07 PM IST
| Naypyidaw
میانمار میں ۲۰۲۱ء کی فوجی بغاوت کے بعد شروع ہونے والی خانہ جنگی میں اب تک ایک لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ تنازعات پر نظر رکھنے والے ادارے ACLED کے مطابق، ملک اس وقت دنیا کے مہلک ترین تنازعات میں شامل ہے، جہاں ہزاروں مسلح گروہ سرگرم ہیں۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ۳۷؍ لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ لاکھوں شہری غربت، بھوک اور مسلسل فضائی حملوں کے باعث شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
میانمار کی فوجی حکومت کے خلاف عوامی مظاہرہ۔ تصویر: ایکس
میانمار میں فروری ۲۰۲۱ء کی فوجی بغاوت کے بعد شروع ہونے والی خانہ جنگی میں اب تک ایک لاکھ سے زیادہ افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جبکہ ملک میں جاری تشدد نے ایک سنگین انسانی بحران کو جنم دیا ہے۔ تنازعات کی نگرانی کرنے والے ادارے آرمڈ کنفلیکٹ لوکیشن اینڈ ایونٹ ڈیٹا (ACLED) کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، فوجی بغاوت کے بعد سے اب تک ایک لاکھ ۱۱۴؍ افراد تنازع سے متعلق واقعات میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ فروری ۲۰۲۱ء میں میانمار کی فوج نے منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا اور نوبیل انعام یافتہ لیڈر آنگ سان سوچی کو حراست میں لے لیا تھا۔ ان کی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی (NLD) نے اس سے قبل ہونے والے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی، تاہم فوج نے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے اقتدار سنبھال لیا۔ ابتدائی طور پر ملک بھر میں فوجی اقتدار کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے، مگر سیکوریٹی فورسیز کی سخت کارروائیوں کے بعد متعدد کارکن شہروں سے نکل کر جمہوریت نواز مسلح گروہوں میں شامل ہو گئے۔ بعد ازاں ان گروہوں نے مختلف نسلی اقلیتی تنظیموں کے ساتھ مل کر فوج کے خلاف مزاحمت شروع کر دی، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں خانہ جنگی پھیل گئی۔
یہ بھی پڑھئے: منی پور: میانمار کی سرحد پر تشدد کی نئی لہر میں ۲۹؍ مکانات نذرآتش
اگرچہ ہلاکتوں کی کوئی سرکاری تعداد موجود نہیں، تاہم مختلف بین الاقوامی تجزیہ کار میانمار کی اس جنگ کو ایشیا کا سب سے مہلک جاری تنازع قرار دیتے ہیں۔ مغربی ریاست راکھین کی رہائشی ۴۹؍ سالہ تھین آئی نو، جن کے شوہر گزشتہ ماہ ایک فضائی حملے میں مارے گئے، نے کہا کہ ’’درد ختم ہونے کا نام نہیں لیتا۔ میں بہت غصے میں ہوں، لیکن اب یہ بھی نہیں جانتی کہ کس پر غصہ کروں۔ آخرکار خود کو یہی کہہ کر تسلی دیتی ہوں کہ شاید یہی قسمت تھی۔‘‘ فوجی بغاوت کے بعد تقریباً پانچ برس تک فوجی سربراہ من آنگ ہلینگ نے ملک پر حکمرانی کی۔ بعد ازاں وہ فوج سے ریٹائر ہو کر رواں سال اپریل میں سویلین صدر کے طور پر عہدہ سنبھالنے میں کامیاب ہوئے۔ تاہم ان انتخابات کا بڑا حصہ باغیوں کے زیر اثر علاقوں میں منعقد نہ ہو سکا، جبکہ آنگ سان سوچی کی جماعت کو بھی انتخابی عمل سے باہر رکھا گیا۔
جمہوریت کے حامی حلقوں نے ان انتخابات کو فوجی قیادت کی حکمرانی کو نئی شکل دینے کی کوشش قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا، جبکہ مسلح مزاحمتی گروہوں نے فوج کی جانب سے امن مذاکرات کی اپیل کو بھی غیر سنجیدہ قرار دیا۔ وسطی علاقے میگ وے کے ایک رہائشی، جن کے نوعمر بیٹے کی حال ہی میں لڑائی کے دوران موت ہوئی، نے کہا کہ ’’اگر بغاوت نہ ہوتی تو آج بچے اسکولوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہوتے۔‘‘ ان کے مطابق ان کا بیٹا جمہوریت نواز مزاحمتی گروپ میں شامل ہونے کے لیے گھر چھوڑ گیا تھا اور بعد میں لڑائی میں مارا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم بھاری گولہ باری کی وجہ سے اس کی بدھ مت کی آخری رسومات بھی مناسب طریقے سے ادا نہیں کر سکے۔ اس کی بہت سی یادیں ہیں اور مجھے افسوس ہے کہ میں اس کے لیے زیادہ کچھ نہ کر سکا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: غیرقانونی اسرائیلی آبادکاروں کا مسجد اقصیٰ پردھاوا، تلمودی رسومات ادا کیں
اقوام متحدہ کے مطابق، میانمار میں اس وقت ۳۷؍ لاکھ سے زیادہ افراد اندرونی طور پر بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ ملک کی مجموعی آبادی کا پانچواں حصہ شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہے۔ سب سے بڑے شہر ینگون میں اگرچہ روزمرہ زندگی کسی حد تک جاری ہے، تاہم ملک کے دیگر وسیع علاقوں میں شدید لڑائی، توپ خانے کی گولہ باری اور فضائی حملے معمول بن چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق میانمار کی فوج روس اور چین سے حاصل کیے گئے جنگی طیاروں کے ذریعے مختلف علاقوں میں فضائی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ ACLED نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ گزشتہ برس تنازعات کے لحاظ سے فلسطینی علاقوں کے بعد میانمار دنیا کا دوسرا سب سے زیادہ متاثرہ خطہ تھا۔ ادارے کے مطابق، اس وقت ملک میں ۱۲۰۰؍ سے زیادہ مختلف مسلح گروہ سرگرم ہیں، جس کے باعث میانمار کو ’’دنیا کا سب سے زیادہ منتشر مسلح تنازع‘‘ قرار دیا گیا ہے۔
ACLED کے سینئر تجزیہ کار سن مون تھانٹ نے کہا کہ ’’یہ انتہائی مہلک جنگ ہے، عام شہری سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں اور اب یہ تنازع تقریباً پورے ملک میں پھیل چکا ہے۔‘‘ جنگ کے دوران مختلف اوقات میں دونوں فریقوں کو کامیابیاں حاصل ہوتی رہیں۔ ۲۰۲۳ء کے آخر میں باغی اتحاد نے کئی علاقوں میں اہم پیش قدمی کی اور ملک کے دوسرے بڑے شہر منڈالے کے نواح تک پہنچ گئے، تاہم بعد میں حالات تبدیل ہو گئے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، چین کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں بیجنگ کی حمایت یافتہ دو بڑی نسلی مسلح تنظیموں نے جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کے بعد میدانِ جنگ میں فوج کو نسبتاً برتری حاصل ہوئی۔ فروری ۲۰۲۴ء میں فوج نے لازمی فوجی بھرتی کا قانون بھی نافذ کیا، جس کے تحت تقریباً ۵۰؍ ہزار شہریوں کو فوج میں شامل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ اور ایران میں تکنیکی سطح کے مذاکرات کا آغاز
ایک سابق بھرتی ہونے والے نوجوان، جس نے بعد میں فوج چھوڑ دی، نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ’’بھرتی ہونے والوں کے پاس کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے انہیں صرف مرنے کے لیے اگلے محاذ پر بھیجا جا رہا ہو۔ اگر ایک جگہ زندہ بچ جائیں تو دوسری جگہ بھیج دیا جاتا ہے۔‘‘ میانمار کی جنگ کے اثرات پڑوسی ممالک تک بھی پہنچ چکے ہیں۔ تھائی لینڈ اور بنگلہ دیش میں بڑی تعداد میں پناہ گزین منتقل ہوئے ہیں، جبکہ سرحدی علاقوں میں انسانی اسمگلنگ، منشیات کی تجارت اور آن لائن فراڈ نیٹ ورکس میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق مختلف مسلح گروہ ہیروئن اور میتھ ایمفیٹامین جیسی منشیات کی غیر قانونی تجارت سے حاصل ہونے والی آمدنی کو اپنی سرگرمیوں کی مالی معاونت کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ میانمار کے کمزور سرحدی علاقوں میں آن لائن اسکام سینٹرز بھی تیزی سے پھیل رہے ہیں، جہاں متعدد مسلح گروہوں کی موجودگی کے باعث قانون نافذ کرنے والے اداروں کی رسائی محدود ہو چکی ہے۔