ناگالینڈ فٹ بال کے ذریعے نایاب پینگولن کو بچانے کی کوشش کررہاہے، ریاست نے پینگولن کے تحفظ کے بارے میں بیداری پیدا کرنے اور غیر قانونی جنگلی حیات کی تجارت سے نمٹنے کی سمت میں یہ قدم اٹھایا ہے۔
EPAPER
Updated: October 28, 2026, 9:03 AM IST | Kohima
ناگالینڈ فٹ بال کے ذریعے نایاب پینگولن کو بچانے کی کوشش کررہاہے، ریاست نے پینگولن کے تحفظ کے بارے میں بیداری پیدا کرنے اور غیر قانونی جنگلی حیات کی تجارت سے نمٹنے کی سمت میں یہ قدم اٹھایا ہے۔
شمال مشرقی ہندوستانی ریاست ناگالینڈ نے پینگولن کے تحفظ کے بارے میں بیداری پیدا کرنے اور غیر قانونی جنگلی حیات کی تجارت سے نمٹنے کی سمت میں درست قدم اٹھایا ہے۔ محکمہ ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی نے میلوری میں پینگولن فٹ بال کپ کے دوسرے سیزن کا آغاز کیا۔ چھ روزہ یہ ٹورنامنٹ۲۶؍ سے۳۰؍ اکتوبر تک جاری رہے گا اور اسے ملک بھر کے وائلڈ لائف کارکن گروپس کے ساتھ مل کر منعقد کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بھیما شنکر میں درختوں کی کٹائی کیخلاف ناراضگی بڑھی
تقریب میں خطاب کرتے ہوئے، وائلڈ لائف وارڈن، کفائر، سیچوتھو کٹیری نے نوجوانوں کو روایتی تحفظ کی اقدار سے دوبارہ جوڑنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا، ’’جہاں جنگلات کبھی بقا کے لیے ضروری تھے، آج کی نسل کو انہیں ایک زندہ ورثے کے طور پر پہچاننا چاہیے جو بے شمار زندگیوں کو سہارا دیتا ہے۔ روایتی طور پر، آبائی عقائد کی وجہ سے پینگولن کو بلا خلل چھوڑ دیا جاتا تھا؛ شکار کے ہدف کے طور پر ان کی کوئی خاص اہمیت نہیں تھی، لیکن غیر قانونی جنگلی حیات کی تجارت کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ نے اس رشتے کو بدل دیا ہے، جس سے یہ نسل خطرے میں پڑ گئی ہے۔ ہمیں ان ثقافتی اقدار کو بحال کرنا چاہیے اور تحفظ کے لیے اپنے عزم کو مضبوط کرنا چاہیے۔‘‘
مزید برآں تعاون کا مطالبہ کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ فٹ بال کی طرح، تحفظ بھی ٹیم ورک ہے۔ کمیونٹی کی زیر قیادت تحفظ کی کوششوں پر روشنی ڈالتے ہوئے، پوچری ہوہو نے کہا، ’’ ۳۰؍سے زیادہ پوچری دیہاتوں نے پینگولن کے شکار پر پابندی لگانے کی قراردادیں اپنائی ہیں، جس میں شکار یا غیر قانونی جنگلی حیات کی تجارت میں ملوث مجرموں کے لیے۵۰؍ ہزار روپے جرمانہ ہے۔ یہ اجتماعی کوشش ہماری جنگلی حیات، ثقافت اور روایات کے تحفظ کے لیے ہمارے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔ پینگولن کپ اس کمیونٹی کی زیر قیادت تحفظ کے پیغام کو مضبوط کرتا ہے، ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اپنے قدرتی ورثے کی حفاظت ایک مشترکہ ذمہ داری ہے۔‘‘
علاوہ ازیں شمال مشرقی ہندوستان میں کمیونٹیز میں کام کرنے والے، وائلڈ لائف ٹرسٹ آف انڈیا کے جوائنٹ ڈائریکٹر، سنیل کیارونگ نے کہا، ’’مقامی طور پر چلنے والے تحفظ کے اقدامات اور غیر قانونی جنگلی حیات کی تجارت سے نمٹنے کی کوششوں کے ذریعے، ہم پینگولن کے مستقبل کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔ پینگولن کپ سماج کو متحد کرنے، ثقافت کا جشن منانے اور ایسے مستقبل کو فروغ دینے کا ایک موقع ہے جہاں انسان اور جنگلی حیات ایک ساتھ پروان چڑھیں۔‘‘
پینگولن کے بارے میں
واضح رہے کہ پینگولن دنیا کے سب سے زیادہ اسمگل کیے جانے والے ممالیہ جانوروں میں سے ہیں، جو بڑی حد تک ان کی کھال اور گوشت کی مانگ سے وابستہ ہے۔ غیر قانونی جنگلی حیات کی تجارت ان کی بقا کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے، جو مقامی سماج قانون نافذ کرنے والے اداروں اور تحفظ کی تنظیموں کو شامل کرتے ہوئے اجتماعی کارروائی کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔جبکہ یہ ممالیہ خطرے سے دوچار ہیں اور اگر ان کا تحفظ نہ کیا گیا تو معدومیت کا سامنا کر سکتے ہیں۔وہ اپنے غیر فعال دفاعی طریقہ کار کی وجہ سے ایک آسان ہدف ہیں: خطرہ محسوس کرنے پر، وہ بس ایک گیند کی طرح گھم جاتے ہیں اور وہیں پڑے رہتے ہیں۔ اس سے شکاریوں کے لیے انہیں اٹھانا اور ان کی سخت کھال کی تجارت کرنا آسان ہو جاتا ہے، جو کیراٹین پروٹین سے بنے ہوتے ہیں، جو کچھ روایتی ادویات میں استعمال ہوتے ہیں۔ ان کا گوشت بھی بلیک مارکیٹ میں فروخت کیا جاتا ہے، اور ان کی کھال سے بیگ، جوتے اور دیگر لگژری مصنوعات بنائی جاتی ہیں۔