ایم این ایس سربراہ راج ٹھاکرے نے ایکس پر طویل اور جذباتی تحریر کے ذریعے نانا پاٹیکر کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ’’سینئر اداکار نانا پاٹیکر کا انتقال ہو گیا۔
EPAPER
Updated: October 09, 2026, 12:43 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai
ایم این ایس سربراہ راج ٹھاکرے نے ایکس پر طویل اور جذباتی تحریر کے ذریعے نانا پاٹیکر کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ’’سینئر اداکار نانا پاٹیکر کا انتقال ہو گیا۔
ایم این ایس سربراہ راج ٹھاکرے نے ایکس پر طویل اور جذباتی تحریر کے ذریعے نانا پاٹیکر کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ’’سینئر اداکار نانا پاٹیکر کا انتقال ہو گیا۔ ہندی فلمی دنیا اور ممبئی یہ دونوں ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھنے والے نام ہیں۔ ممبئی کا ذکر ہو تو یہاں کی اسٹیج کی دنیا، یہاں کی فلمی صنعت، یہاں کی جھونپڑپٹیوں اور چالوں سے نکل کر روز اس شہر میں اپنے وجود کی تلاش کرنے والا متوسط اور نچلا طبقہ، پھر اسی شہر اور آہستہ آہستہ پورے ملک میں بکھرتا اور تباہ ہوتا مزدور طبقہ، اس سے پیدا ہونے والی سماجی مایوسی کے نتیجے میں ابھرنے والی انڈرورلڈ کی دنیا، سماجی ہم آہنگی کے بتدریج بکھرنے کا دور، اور پھر لبرلائزیشن کے بعد اسی متوسط طبقے کی بڑھتی ہوئی خواہشات،یہ سب سامنے آتا ہے۔ اور ان سب کے گرد گھومتی ہوئی سیاست بھی۔ ان میں سے ہر دور میں نانا پاٹیکر کبھی تھیٹر کے ذریعے اور کبھی فلموں کے ذریعے ہمارے سامنے آتے رہے۔’حمیدہ بائی کی کوٹھی‘ سے لے کر ’پرندہ‘، ’کرانتی ویر‘، ’اب تک چھپن‘ اور پھر ’نٹ سمراٹ‘ تک، ہر جگہ نانا پاٹیکر نظر آتے رہے۔ ان ادوار میں پیدا بے چینی کو اپنے سینے میں لیے زندگی گزارنے والے عام آدمی کو نانا پاٹیکر کبھی پردۂ سیمیں پر اور کبھی رنگ منچ پر پیش کرتے رہے۔نانا کی اداکاری دیکھتے ہوئے مجھے ہمیشہ ہالی ووڈ کے مورگن فری مین کی یاد آتی تھی۔ شکل و صورت ہو یا شخصیت، دونوں اپنے اپنے دور کے بالی ووڈ یا ہالی ووڈ کے روایتی اداکاروں کے سانچے میں فٹ نہیں بیٹھتے۔ مورگن فری مین کو دیکھ کر کئی مرتبہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس شخص نے وقت کے ساتھ ساتھ دانائی، صبر اور حالات کو ’جیسا ہے ویسا ہی ہے‘ قبول کرنے کا ہنر اپنے اندر جذب کر لیا ہے۔ جبکہ نانا کی اداکاری میں مجھے غصہ، بے قراری اور بہت گہری سطح پر جمع مایوسی محسوس ہوتی تھی۔