• Fri, 18 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مہوا موئترا کا امیت شاہ کے اجلاس سے مسلم افسران کو دور رکھنے پراقوام متحدہ کو خط

Updated: September 18, 2026, 12:04 PM IST | New Delhi

ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے اقلیتی امور پر اقوام متحدہ کے خصوصی رپورٹر (Special Rapporteur) کو خط لکھ کر مداخلت کا مطالبہ کیا ہے،خط میں مہوا موئترا نے کہا کہ امیت شاہ کے دوروں سے متعلق سرکاری پروگراموں سے تین سینئر مسلم افسران کوباہر جانے کیلئے کہا گیا یا شامل نہ ہونے کی ہدایت دی گئی، جبکہ دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے افسران ان اجلاسوں میں شریک رہے۔

Trinamool Congress MP Mahua Moitra. Photo: INN
 ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا۔ تصویر: آئی این این

 ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے اقلیتی امور پر اقوام متحدہ کے خصوصی رپورٹر (Special Rapporteur) کو خط لکھ کر مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے الزام لگایا ہے کہ جولائی اور اگست ۲۰۲۶ء میں مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے دورہ مغربی بنگال کے دوران، ریاست کے سینئر مسلم آئی اے ایس اور آئی پی ایس افسران کو سرکاری اجلاسوں اور پروٹوکول کے فرائض سے جان بوجھ کر الگ رکھا گیا، جو ہندوستان کے بین الاقوامی انسانی حقوق کی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی ہے۔بدھ کے روز اقوام متحدہ کے خصوصی رپورٹر پروفیسر نکولس لیوراٹ کو بھیجے گئے اس خط میں مہوا موئترا نے کہا کہ امیت شاہ کے دوروں سے متعلق سرکاری پروگراموں سے تین سینئر مسلم افسران کوباہر جانے کیلئے کہا گیا یا شامل نہ ہونے کی ہدایت دی گئی، جبکہ دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے افسران ان اجلاسوں میں شریک رہے۔ مغربی بنگال پولیس کی جانب سے مہوا موئترا کے خلاف یکم ستمبر کی ایک سوشل میڈیا پوسٹ پر ایف آئی آر درج کئے جانے کے تقریباً دو ہفتے بعدیہ خط سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے مسلم افسران کے ساتھ اس تفریق کا الزام لگایا تھا۔خط میں جن تین سینئر افسران کا ذکر کیا گیا ہے ان میں سلی گوڑی کے پولیس کمشنرآئی پی ایس افسر سید وقار رضا ، مغربی بنگال اسپیشل ٹاسک فورس (STF) کے ڈائریکٹر جنرلاآئی پی ایس افسر جاوید شمیم اور فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز ڈیپارٹمنٹ کے ایڈیشنل چیف سکریٹری آئی اے ایس افسر خلیل احمدشامل ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: اوپن، ڈسٹنس سے گریجویشن کرنے والے ایل ایل بی طلبہ کو عارضی اینرولمنٹ کی اجازت

مہوا کے مطابق، ۱۸؍ جولائی کو وزیر داخلہ امیت شاہ کے دورہ سلی گوڑی کے دوران سید وقار رضا کو سرحدی سیکیورٹی کے جائزاتی اجلاس سے باہر جانے کیلئے کہا گیا، جبکہ اس اجلاس میں تقریباً ۱۸؍ ایس پی اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹس موجود تھے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ اجلاس ہندوستان بنگلہ دیش سرحد کی سیکیورٹی پر بات چیت کیلئے بلایا گیا تھا اور سلی گوڑی پولیس کمشنریٹ مغربی بنگال کا واحد پولیس کمشنریٹ ہے جس کی سرحد بنگلہ دیش سے ملتی ہے اور جو اہم سلی گوڑی کوریڈور پر اختیار رکھتا ہے۔ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ امیت شاہ کے دورے کے سرکاری پروٹوکول سے وقار رضا کا نام اور عہدہ ہٹا دیا گیا اور انہیں رخصتی کی لائن (see-off line) میں شامل نہ ہونے کی ہدایت دی گئی اور ان کی جگہ نارتھ بنگال کے آئی جی سُکیش جین کو شامل کیا گیا۔ اسی طرح ایس ٹی ایف کے اس وقت کے ڈی جی پی جاوید شمیم کو بھی سلی گوڑی کے سرحدی سیکیورٹی اجلاس میں شرکت نہ کرنے کو کہا گیا، حالانکہ پولیس کے دیگر مخصوص شعبوں کے سربراہان وہاں موجود تھے۔ جاوید شمیم کی جگہ ایس ٹی ایف کی نمائندگی آئی جی گرو شرما نے کی۔اس کے بعد ۱۹؍ جولائی کو امیت شاہ کے دورہ کولکاتا کے دوران، جہاںامن و امان اور آفت سے نمٹنے کی تیاریوں کیلئے اجلاس بلایا گیا تھا، فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز کے سب سے سینئر افسر خلیل احمد کے پہنچنے کے بعد انہیں میٹنگ سے جانے کیلئے کہا گیا۔ اسی طرح جاوید شمیم کو ایک بار پھر اس اجلاس میں شامل ہونے سے روکا گیا اور ان کی جگہ گرو شرما نے ہی نمائندگی کی۔  

یہ بھی پڑھئے: عمر خالد کیس: پریانک کھرگے کا مودی اور امیت شاہ سے مقدمہ شروع کرنے کا مطالبہ

مہوا کے مطابق، یہی طریقہ کار ۲۰؍ سے ۲۲؍ اگست کے دوران امیت شاہ کے دوسرے دورہ مغربی بنگال میں بھی دہرایا گیا۔ وقار رضا کو ایک بار پھر سلی گوڑی میں سرحدی سیکیورٹی کے اجلاس میں شرکت سے روکا گیا، جبکہ جاوید شمیم کو نئے فوجداری قوانین سے متعلق ایک سرکاری نمائش میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی اوراس دوران ایس ٹی ایف کی نمائندگی پھر گرو شرما نے ہی کی۔رکنِ پارلیمنٹ نے کہا کہ افسران کو اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی ، لیکن ان واقعات کو محض پروٹوکول کی غلطی کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ وہ افسران اپنے عہدوں پر برسرِ خدمت تھے مگر ان کے کام دوسرے افسران سے کروائے گئے۔ مہوا نے زور دے کر کہا کہ ان تمام واقعات میں ایک ہی بات مشترک ہے کہ یہ تینوں افسران مسلم ہیں۔ باوجود اس کے کہ ان کا تعلق ان شعبوں (سرحدی سیکیورٹی، قدرتی آفات اور ایس ٹی ایف) سے تھا جن کا جائزہ لیا جا رہا تھا،لیکن انہیں باہر رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف انفرادی افسران کی تذلیل نہیں ہے، بلکہ سیکیورٹی ادارے میں یہ پیغام دیتا ہے کہ کسی شخص کا مذہب اس پر شک کرنے کی ایک جائز وجہ ہے۔انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ چونکہ مرکزی وزیر داخلہ بی ایس ایف، ایس ایس بی، سی آر پی ایف اور انٹیلی جنس بیورو جیسے اداروں کی نگرانی کرتے ہیں، اس لئےان اہم اجلاسوں سے مسلم افسران کو الگ رکھنا ریاست کی مسلم آبادی کیلئے بھی تشویشناک ہے۔  

یہ بھی پڑھئے: آیوش ملک کو رہا کیا جائے، اس نے اپنی مرضی سےاسلام قبول کیا: الہ آباد ہائی کورٹ

انہوں نے ۲۰۱۱؍ کی مردم شماری کا حوالہ دیا جس کے مطابق ریاست میں مسلمانوں کی آبادی ۲۷ء اعشاریہ ایک فیصد ہےاور کہا کہ اعلیٰ سطحی مذہبی تفریق سے سیکیورٹی و قانون نافذ کرنے والے اداروں کی غیر جانبداری پر عوام کا اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔خط میں انہوں نے لکھا کہ ریاست کی چوتھائی سے زیادہ آبادی کیلئے اس کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔ اقلیتی برادری کے افراد کو بلاوجہ پوچھ گچھ، حراست اور سخت رویے کے خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ ماتحت عملہ اعلیٰ سطح کے رویوں سے ہی سبق لیتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ فرقہ وارانہ طور پر حسّاس علاقوںمیں مسلم افسران کو الگ تھلگ رکھنا یہ ادارہ جاتی پیغام دیتا ہے کہ مسلمانوں کو دور رکھا جائے، جس سے اقلیتوں کو نشانہ بنانے والوں کی حوصلہ افزائی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انتظامیہ اور پولیس میں موجود مسلم افسران جو اقلیتی برادری کے ساتھ اعتماد کا رشتہ قائم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، ان میں یہ احساس پیدا ہو سکتا ہے کہ ان کی حیثیت ان کی قابلیّت کے بجائے ان کے مذہب پر منحصر ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: جوہر ٹرسٹ سے پانچ سو کروڑ روپے وصول کرنے کی تیاری!

مہوا موئترا نے اس کارروائی کو عالمی منشورِ انسانی حقوق (UDHR)، شہری و سیاسی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے (ICCPR) اور آئین ِہند کی دفعات ۱۴؍، ۱۵؍ ، ۱۶؍ ، ۲۱؍ اور ۲۵؍ کے خلاف ورزی قرار دیا۔اپنے خط میں مہوا موئترا نے اقوام متحدہ کے خصوصی رپورٹر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حکومتِ ہند سے ان افسران کو اجلاسوں سے الگ رکھنے پر وضاحت طلب کریں اور حکومت پر زور دیں کہ کسی بھی افسر کو مذہب کی بنیاد پر سرکاری فرائض سے نہ روکا جائے اور سیکیورٹی ایجنسیاں اقلیتی برادریوں کے ساتھ بلا تفریق پیش آئیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے امیت شاہ کے دوروں سے متعلق تمام سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر متعلقہ سرکاری ریکارڈز کو محفوظ رکھنے کا مطالبہ کیا ہے اور خصوصی رپورٹر سے اپنے اختیارات کے تحت ہر مناسب اقدام کرنے کی اپیل کی ہے۔مہوا موئترا نے کہا کہ یہ تمام واقعات سی سی ٹی وی کیمروں کی نگرانی میں ہوئے ہیں اور سرکاری ریکارڈز و فوٹیج ان تمام باتوں کی تصدیق کر سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ حال ہی میں مغربی بنگال میں مسلم آئی پی ایس افسر ڈاکٹر بشریٰ بانو کے تبادلے پر بھی شدید غصہ دیکھا گیا، جنہیں ایک ویڈیو میں ’’السلام علیکم‘‘، ’’انشاء اللہ‘‘ اور ’’جزاک اللہ‘‘ جیسے اسلامی الفاظ استعمال کرنے پر کچھ سوشل میڈیا ہینڈلز کی طرف سے نفرت انگیز مہم کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK