Inquilab Logo Happiest Places to Work

ناسا خلاباز کی قوت گویائی عارضی طور پر متاثر، اسلئے مشن منسوخ کیا گیا تھا

Updated: March 31, 2026, 3:07 PM IST | New York

ناسا کے تجربہ کار خلاباز مائیک فنکے کو خلائی اسٹیشن پر ایک پراسرار طبی ایمرجنسی کا سامنا کرنا پڑا جب وہ اچانک بولنے سے قاصر ہو گئے۔ واقعہ جنوری میں اسپیس واک سے ایک دن قبل پیش آیا اور تقریباً ۲۰؍ منٹ میں خود بخود ختم ہو گیا۔ ڈاکٹروں کو اب تک اس کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی، تاہم طویل عرصے تک خلا میں رہنا ممکنہ عنصر سمجھا جا رہا ہے۔ اس واقعے کے بعد ناسا نے احتیاطاً عملے کو واپس بلا لیا، جو تاریخ کا پہلا طبی انخلاء قرار دیا جا رہا ہے۔

Astronaut Mike Finke. Photo: X
خلا باز مائک فنکے۔ تصویر: ایکس

ناسا کے سینئر خلاباز مائیک فنکے کو ایک غیر متوقع اور پراسرار طبی مسئلے کا سامنا کرنا پڑا جس نے خلائی مشن کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ واقعہ جنوری میں اس وقت پیش آیا جب فنکے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر ایک طے شدہ اسپیس واک کی تیاری کر رہے تھے۔

اچانک بولنے کی صلاحیت ختم
فنکے نے اے پی کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ ۷؍ جنوری کو رات کے کھانے کے دوران اچانک وہ بولنے سے قاصر ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ مکمل طور پر اچانک ہوا… جیسے ایک تیز بجلی کا جھونکا ہو۔‘‘ اہم بات یہ ہے کہ انہیں کوئی درد محسوس نہیں ہوا،سانس لینے میں کوئی مسئلہ نہیں تھااور تقریباً ۲۰؍ منٹ بعد وہ مکمل طور پر نارمل ہو گئے۔

عملے کا فوری ردعمل اور طبی نگرانی
ان کے ساتھی خلابازوں نے فوری طور پر صورتحال کو سنبھالا اور زمین پر موجود فلائٹ سرجنز سے رابطہ کیا۔ فنکے نے کہا کہ ’’میرے ساتھیوں نے فوراً محسوس کیا کہ میں پریشانی میں ہوں۔‘‘ یہ واقعہ اس قدر سنجیدہ سمجھا گیا کہ چند ہی دنوں میں پورے عملے کو واپس لانے کا فیصلہ کیا گیا، جو ناسا کی تاریخ میں پہلا طبی انخلاء قرار دیا جا رہا ہے۔

ڈاکٹرز حیران، وجہ تاحال نامعلوم
دلچسپ بات یہ ہے کہ اب تک ہونے والے طبی ٹیسٹ کے باوجود ڈاکٹروں کو اس واقعے کی کوئی واضح وجہ نہیں مل سکی۔ فنکے نے بتایا کہ یہ نہ دل کا دورہ تھا، نہ ہی دم گھٹنے کا کیس اور نہ کوئی واضح نیورولوجیکل خرابی سامنے آئی۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ بالکل نیلے آسمان سے آیا اور ویسے ہی ختم ہو گیا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: حزب اللہ کے ۱۱۰۰؍ حملے، یمن سے ڈرون، کویت پر حملہ، جنگ پورے خطے میں پھیل گئی

طویل خلائی قیام پر شبہ
ماہرین اب اس امکان پر غور کر رہے ہیں کہ یہ مسئلہ طویل عرصے تک خلا میں رہنے سے جڑا ہو سکتا ہے۔ فنکے تقریباً ساڑھے ۵؍ ماہ سے خلا میں موجود تھے، جبکہ اپنے کریئر میں وہ مجموعی طور پر ۵۴۹؍ دن خلا میں گزار چکے ہیں۔ وزن کے بغیر ماحولانسانی جسم پر مختلف اثرات ڈالتا ہے، جن میں دماغی دباؤ میں تبدیلی، دوران خون میں فرق اور اعصابی نظام پر اثرات شامل ہو سکتے ہیں۔

اسپیس واک منسوخ، مشن متاثر
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب فنکے اپنی دسویں اسپیس واک کے لیے تیار تھے۔ ان کے ساتھ زینا کارڈ مین کو بھی اس مشن میں شامل ہونا تھا، جبکہ دیگر عملے میں اولیگ پلاٹونوف اور کیمیا یوئی شامل تھے۔ تاہم، طبی ایمرجنسی کے باعث یہ اسپیس واک منسوخ کر دی گئی۔فنکے نے اس پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں برا لگا کہ ان کی وجہ سے مشن متاثر ہوا۔

یہ بھی پڑھئے: جوہری خطرہ بڑھ گیا، یو این میں ہلچل، ایران کا امریکہ پر زمینی حملے کا الزام

ناسا کی تحقیقات جاری
ناسا اب اس واقعے کی مکمل تحقیقات کر رہا ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ کیا یہ پہلے بھی کسی خلاباز کے ساتھ ہوا ہے؟اور کیا یہ مستقبل کے مشنز کے لیے خطرہ بن سکتا ہے؟ ناسا کے ایڈمنسٹریٹر جیریڈ آئزک مین نے فنکے کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ ’’یہ آپ نہیں تھے… یہ خلا تھا۔‘‘یہ واقعہ ایک بار پھر ظاہر کرتا ہے کہ خلاء میں انسانی جسم کے ردعمل ابھی بھی مکمل طور پر سمجھ میں نہیں آئے۔ اگرچہ جدید ٹیکنالوجی نے انسان کو خلا تک پہنچا دیا ہے، لیکن وہاں زندہ رہنے کے چیلنجز اور خطرات اب بھی سائنسدانوں کے لیے ایک بڑا معمہ ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK