• Wed, 21 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستان میں پرندوں کی ۱۲۱۱؍ انواع کی معدومیت کے خطرے کا قومی جائزہ شروع

Updated: October 20, 2026, 10:05 PM IST | New Delhi

کیا ہندوستانی آسمان سے پرندے غائب ہورہے ہیں؟ ہندوستان نے ملک میں پائی جانے والی ۱۲۱۱؍ انواع کے معدومیت کے خطرے کا جائزہ شروع کردیا ہے۔ اس مہم کے تحت پرندوں کی آبادی، جغرافیائی پھیلاؤ اور تعداد میں کمی بیشی کا مطالعہ کیا جائے گا تاکہ خطرے سے دوچار انواع کی شناخت اور ان کے تحفظ کیلئے مؤثر اقدامات کیے جاسکیں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

ہندوستان نے ملک میں پائی جانے والی پرندوں کی ایک ہزار ۲۱۱؍ انواع کو معدومیت کے خطرے کا جائزہ شروع کردیا ہے۔ یہ اقدام گلوبل ساؤتھ میں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں قیادت کرنے کی ہندوستان کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔ اس جائزے کے ذریعے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جائے گی کہ کن انواع کو معدومیت کا زیادہ خطرہ لاحق ہے اور ان کے تحفظ کیلئے کن اقدامات کو ترجیح دی جانی چاہئے۔

’نیشنل ریڈ لسٹ آف فلورا، فاؤنا اینڈ فنجائی آف انڈیا وژن ۲۰۲۵ء تا ۲۰۳۰ء‘ کا آغاز اکتوبر ۲۰۲۵ء میں عالمی کانگریس برائے تحفظِ فطرت (ورلڈ کنزرویشن کانگریس) میں کیا گیا تھا۔ اس موقع پر مرکزی وزیرِ مملکت برائے ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کیرتی وردھن سنگھ نے اس پروگرام کا افتتاح کیا تھا۔ پرندوں کی انواع کا جائزہ لینے کیلئے مختلف ٹیمیں باہمی تعاون سے کام کررہی ہیں۔ انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر (آئی یو سی این) کے اسپیشیز سروائیول کمیشن کے چیئر ویویک مینن نے کہا کہ ریڈ لسٹ کے جائزے معدومیت کے خطرے کی شناخت اور تحفظ کی ترجیحات طے کرنے کیلئے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق، ہندوستانی پرندوں کا مشترکہ جائزہ اس بات کی مثال ہے کہ ماہرین کی وسیع برادری مل کر حیاتیاتی تنوع کی زیادہ جامع تفہیم کیسے پیدا کرسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: جلگاؤں: میونسپل نوٹس پر بھنگار بازار کے دکانداروں کو اعتراض

شہریوں کی شراکت سے تحقیق میں بہتری

ہندوستان میں پرندوں کی جغرافیائی تقسیم اور ان کے پائے جانے والے علاقوں کے بارے میں معلومات بہتر بنانے میں شہری سائنس (سٹیزن سائنس) کے اعداد و شمار نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ شہری سائنس سے مراد ایسا تحقیقی عمل ہے جس میں عام شہری بھی مشاہدات اور معلومات جمع کرکے سائنسی تحقیق میں حصہ لیتے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے تک پرندوں کی آبادی میں اضافے یا کمی کے رجحانات سے متعلق معلومات زیادہ تر خطرے سے دوچار انواع، مثلاً گدھ اور تلور، تک محدود تھیں۔ تاہم، ’اسٹیٹ آف انڈیاز برڈز‘ (SoIB) نے شہریوں کے جمع کردہ اعداد و شمار استعمال کرتے ہوئے متعدد عام اور وسیع پیمانے پر پائی جانے والی انواع کے رجحانات کا جائزہ لے کر اہم پیش رفت کی ہے۔ اس کے باوجود ہندوستان میں زیادہ تر پرندوں کی انواع کی مجموعی آبادی کے درست تخمینے اب بھی دستیاب نہیں ہیں۔

ریڈ لسٹ میں کن پہلوؤں کا جائزہ لیا جاتا ہے؟

کسی نوع کو ریڈ لسٹ میں شامل کرنے اور اس کے معدومیت کے خطرے کا تعین کرنے کیلئے کم از کم تین میں سے ایک پہلو سے متعلق معلومات درکار ہوتی ہیں: جغرافیائی پھیلاؤ، آبادی کا حجم اور آبادی میں اضافے یا کمی کا رجحان۔ اعداد و شمار کی کمی دور کرنے کیلئے ’نیشنل ریڈ لسٹ اسیسمنٹ آف برڈز فورم‘ قائم کیا گیا ہے۔ یہ ایک مشترکہ پلیٹ فارم ہے جہاں ماہرینِ پرندہ شناسی اور تحفظِ فطرت سے وابستہ افراد اپنی مہارت اور معلومات کا تبادلہ کرسکتے ہیں، شواہد پر گفتگو کرسکتے ہیں اور ان بنیادی پہلوؤں کے تخمینے تیار کرسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: مہاراشٹر: عدالتی ملازمین کابے مدت ہڑتال کا انتباہ

نیچر کنزرویشن فاؤنڈیشن کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر اور آئی یو سی این ہارن بل اسپیشلسٹ گروپ کی شریک چیئر اپراجیتا دتا نے کہا کہ پرندوں کی آبادی میں تبدیلیوں کو سمجھنے کیلئے طویل مدتی اعداد و شمار ضروری ہیں۔ ان کے مطابق، شہری سائنس کے وسیع اعداد و شمار کا تجزیہ ان انواع کے رجحانات سمجھنے کا ایک غیر معمولی موقع فراہم کرتا ہے جن کی منظم نگرانی محدود پیمانے پر کی جاتی ہے۔ اب تک ۱۰۰؍ سے زائد انواع کا جائزہ لے کر ان کی تفصیلات فورم پر پیش کی جاچکی ہیں تاکہ ماہرین اپنی رائے دے سکیں۔ اس فورم کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ خطرے کی حتمی درجہ بندی سے پہلے علاقائی اعداد و شمار، حالیہ مشاہدات، آبادی کے رجحانات اور ’ریسکیو ایفیکٹ‘ کو درست طور پر شامل کیا جائے۔ ریسکیو ایفیکٹ سے مراد کسی نوع کی آبادی کو دوسرے علاقوں سے آنے والے افراد یا پرندوں کے ذریعے سہارا ملنا ہے۔

ہندوستان کی قومی ریڈ لسٹ مہم

قومی ریڈ لسٹ کا یہ منصوبہ مرحلہ وار اور مسلسل اپ ڈیٹ ہونے والی مشق کے طور پر تیار کیا گیا ہے، جو آئی یو سی این کی ’ریڈ لسٹ آف تھریٹنڈ اسپیشیز‘ کے اصولوں پر مبنی ہے۔ اس فہرست کو دنیا بھر میں انواع کے معدومیت کے خطرے کا جائزہ لینے کا مستند معیار سمجھا جاتا ہے۔ پہلے مرحلے میں نباتات، حیوانات اور فنجائی کی ۱۱؍ ہزار انواع کا جائزہ لینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ بعد کے مراحل میں مزید انواع کو شامل کیا جائے گا۔ اس اقدام کا ایک اہم مقصد ان انواع کی تعداد کے درمیان موجود فرق کو کم کرنا ہے جن کی سائنسی طور پر شناخت اور وضاحت ہوچکی ہے اور ان انواع کے درمیان جن کا معدومیت کے خطرے کے حوالے سے باقاعدہ جائزہ لیا جاچکا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: نئی دہلی: مودی کی رہائش گاہ کے قریب ریس کورس مسجد کو چھ دن میں خالی کرنے کا حکم

اس کوشش سے ہندوستان کو حیاتیاتی تنوع کے کنونشن (CBD) کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ اس کے علاوہ یہ کنمنگ۔مونٹریال عالمی حیاتیاتی تنوع فریم ورک کے ہدف نمبر ۴؍ سے بھی مطابقت رکھتی ہے، جس میں انواع کی معدومیت روکنے پر زور دیا گیا ہے۔ پرندوں کی ایک ہزار ۲۱۱؍ انواع کا یہ قومی جائزہ ہندوستان میں حیاتیاتی تنوع کی صورتِ حال سمجھنے اور خطرے سے دوچار انواع کے تحفظ کیلئے ترجیحات طے کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ تاہم، حتمی خطرے کی درجہ بندی کیلئے مزید شواہد اور ماہرین کی جانچ ضروری ہوگی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK