Updated: August 31, 2026, 9:37 PM IST
| Washington
امریکی فوجی قیادت نے وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کو خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے اور مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی ۲۰۲۷ء تک برقرار رکھنے سے امریکہ کی دوسرے خطوں میں کارروائی اور خود اپنے ملک کے دفاع کی صلاحیت متاثر ہوسکتی ہے۔ دی واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق بحرالکاہل، یورپ اور جنوبی کمان کے سربراہوں نے فوجیوں کو مشرق وسطیٰ میں برقرار رکھنے کے حکم سے اختلاف کیا، تاہم اسے نافذ کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔
امریکی فوجی قیادت نے وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ۔ تصویر: آئی این این
امریکی محکمہ دفاع کی ایک حالیہ اندرونی جائزہ رپورٹ میں وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کو خبردار کیا گیا ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں کی سطح برقرار رکھنے سے امریکہ کو دیگر ممکنہ خطرات سے نمٹنے اور اپنے ملک کے دفاع میں مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ یہ انتباہ اگست میں جاری ہونے والی ’’Secretary of Defense Orders Book‘‘ میں سامنے آیا، جس میں دنیا بھر میں امریکی فوجی وسائل کی دستیابی اور اعلیٰ دفاعی حکام کی رائے شامل ہوتی ہے۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب رپورٹ میں بتایا گیا کہ کچھ امریکی فوجی دستے ۲۰۲۷ء تک مشرق وسطیٰ میں موجود رہ سکتے ہیں۔ اس پر امریکی بحرالکاہل کمان، یورپی کمان اور جنوبی کمان کے سربراہوں نے ’’اختلاف‘‘ درج کیا۔ انہوں نے حکم کی مخالفت کے باوجود اسے نافذ کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔
یہ بھی پڑھئے: آسام: سلچرکے کچھار کالج میں اے بی وی پی کا مسلم طالبات پر حملہ
ایران جنگ کی وجہ سے لاطینی امریکہ، یورپ اور ایشیا میں تعینات امریکی فوجی وسائل، جن میں جنگی طیارے اور بحری جہاز شامل ہیں، مشرق وسطیٰ منتقل کیے گئے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق اس منتقلی نے دیگر علاقوں میں فوجی مشن اور تربیتی سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے۔ ذرائع نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ فوج نے ’’بہت زیادہ عرصے تک بہت زیادہ‘‘ دباؤ برداشت کیا ہے۔ لاطینی امریکہ اور یورپ میں امریکی فوجی کارروائیوں کے ذمہ دار کمانڈروں نے خاص طور پر خبردار کیا کہ بحری جہازوں اور طیاروں کو مشرق وسطیٰ بھیجے جانے سے امریکہ کی ملکی دفاعی ذمہ داریاں پوری کرنے کی صلاحیت متاثر ہوئی ہے۔
امریکی بحریہ کے سربراہ نے بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ تباہ کن بحری جہازوں کے بیڑے کا تقریباً ۲۵؍ فیصد حصہ اس وقت تعیناتی کے لیے تیار ہے، جو جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں نمایاں کمی ہے۔ ان کے مطابق اگر جنگ اسی رفتار سے جاری رہی تو دوسرے ممکنہ تنازعات میں امریکی بحریہ کی فوری کارروائی کی صلاحیت متاثر ہوسکتی ہے۔ تاہم پینٹاگون نے ان اطلاعات کو مسترد کردیا ہے۔ چیف پینٹاگون ترجمان شان پارنیل نے رپورٹ کو ’’جعلی خبر‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں غلط معلومات شامل ہیں۔ ان کے مطابق ہیگسیتھ فوجی سروسز، جوائنٹ اسٹاف اور مختلف جنگی کمانڈروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ امریکی فوج مناسب دفاعی تیاری برقرار رکھ سکے۔
یہ بھی پڑھئے:اسرائیل کے تعلق سے خبر پر ٹرمپ کی دھمکی آئین کی خلاف ورزی: امریکی وفاقی عدالت
ایران کے خلاف جنگ فروری میں امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد شروع ہوئی تھی اور اب تقریباً ۶؍ ماہ سے جاری ہے۔ کئی مذاکراتی کوششیں بھی کسی حتمی حل تک نہیں پہنچ سکیں، جبکہ آبنائے ہرمز کا معاملہ تنازع کا اہم مرکز بنا ہوا ہے۔ جنگ کے مالی اخراجات بھی بڑھتے جارہے ہیں۔ ہیگسیتھ نے گزشتہ ماہ کانگریس کو بتایا تھا کہ تنازع پر اب تک ۵ء۳۷؍ بلین ڈالر خرچ ہوچکے ہیں اور مزید ۶۷؍ بلین ڈالر درکار ہوسکتے ہیں۔ پینٹاگون حکام کے مطابق جنگ کے پہلے ۶؍ دنوں میں ہی ۳ء۱۱؍ بلین ڈالرسے زیادہ خرچ ہوئے تھے۔ امریکی فوج نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے اپنے ذخیرے میں موجود زیادہ تر درست نشانے والے میزائل بھی استعمال کرلیے ہیں، جبکہ تنازع میں اب تک ۱۸؍ امریکی فوجی ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوچکے ہیں۔ دوسری جانب امریکی عوام میں بھی جنگ کو وسیع حمایت حاصل نہیں اور متعدد عوامی جائزوں میں اس کے خلاف رائے سامنے آئی ہے۔