Inquilab Logo Happiest Places to Work

نیٹ پیپر لیک معاملہ: ایم این ایس نے کلاسیس بند کروائی

Updated: June 05, 2026, 10:37 AM IST | Z. A. Khan | Aurangabad

نیٹ پیپر لیکن معاملے میں اورنگ آباد کی آر سی سی کلا سیس کا نام بھی آیا ہے جس کے ڈائریکٹر شیوراج موٹےگاؤکر کو گرفتار کیا گیا ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

نیٹ پیپر لیکن معاملے میں اورنگ آباد کی آر سی سی کلا سیس کا نام بھی آیا ہے جس  کے ڈائریکٹر شیوراج موٹےگاؤکر کو گرفتار کیا گیا ہے۔ مہاراشٹر نونرمان سینا (ایم این ایس) نے جارحانہ موقف اختیار کرتے ہوئے اورنگ آباد میںآر سی سی کلاسیس کی تعلیمی سرگرمیاں بند کروا دی ہیں۔ ایم این ایس نے مطالبہ کیا ہے کہ پیپر لیک کے سبب طلبہ کی خودکشی کے ذمہ دارشیوراج موٹےگاؤکر اور ان کی طرح پیپر لیک میں ملوث افراد ہیں۔لہٰذا ان لوگوں کے خلاف ’غیر ارادی قتل‘ کا معاملہ درج کیا جائے۔ کارکنان کا کہنا ہے کہ جن اداروں کے سربراہان پر سنگین الزامات ہیںان اداروں کو طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

یہ بھی پڑھئے: ۱۷؍ میں سے ۶؍ مقامات پر مہایوتی بلامقابلہ کامیاب

ایم این ایس کے مطابق متعدد والدین اور طلبہ نے شکایت کی ہے کہ چونکہ انہوں نے کلاسی کی فیس ادا کر دی ہے، اسلئے ان پر وہیں تعلیم جاری رکھنے کیلئے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ اسی پس منظر میں پارٹی کارکنان نے کلاس انتظامیہ سے جواب طلب کیا۔پارٹی نے سخت انتباہ دیا کہ جو طلبہ اس ادارے میں مزید تعلیم حاصل نہیں کرنا چاہتے، انہیں فوری طور پر ان کی مکمل فیس واپس کی جائے، بصورت دیگر کلاسیس دوبارہ شروع نہیں ہونے دی جائیں گی۔ایم این ایس نے  مطالبہ کیا کہ شیوراج موٹےگاؤکر اور دیگر افراد کے خلاف مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائے اور ان پر سخت قانونی کارروائی کی جائے۔پارٹی نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ آر سی سی کلاسیس میں داخلہ لینے والے تمام طلبہ کو ان کی جمع شدہ مکمل فیس فوری طور پر واپس دلائی جائے۔ ساتھ ہی یہ بھی جانچ کی جائے کہ کہیں طلبہ اور والدین پر کسی قسم کا دباؤ تو نہیں ڈالا جا رہا ہے؟  نیزجب تک طلبہ کو فیس واپس نہیں مل جاتی، تب تک کلاسیس کو بند رکھا جائے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK