Inquilab Logo Happiest Places to Work

چاند پر پہلا قدم رکھنے والے نیل آرمسٹرانگ کا گھر ۴؍ کروڑ میں فروخت کیلئے پیش

Updated: August 06, 2026, 10:01 PM IST | Ohio

چاند پر قدم رکھنے والے دنیا کے پہلے انسان Neil Armstrong کے بچپن کا تاریخی گھر تقریباً چار دہائیوں بعد فروخت کے لیے پیش کر دیا گیا ہے۔ امریکی ریاست اوہائیو کے شہر Wapakoneta میں واقع اس مکان کی قیمت ۴؍ لاکھ ۳۰؍ ہزار امریکی ڈالر (تقریباً ۴؍ کروڑ روپے) مقرر کی گئی ہے۔ یہی وہ گھر ہے جہاں نیل آرمسٹرانگ نے بچپن میں ماڈل ہوائی جہاز بنائے، تہہ خانے میں ونڈ ٹنل تیار کی، اڑان کے تجربات کیے اور خلا باز بننے کا خواب پروان چڑھایا۔

The childhood home of American astronaut Neil Armstrong. Photo: X
امریکی خلا باز Neil Armstrong کا بچپن کا گھر۔ تصویر: ایکس

انسانی تاریخ میں چاند پر پہلا قدم رکھنے والے امریکی خلا باز Neil Armstrong کا بچپن کا گھر فروخت کے لیے پیش کر دیا گیا ہے۔ امریکی ریاست اوہائیو کے شہر Wapakoneta میں واقع یہ تاریخی مکان تقریباً چالیس برس بعد پہلی مرتبہ مارکیٹ میں آیا ہے اور اس کی قیمت ۴۳۰۰۰۰؍ امریکی ڈالر رکھی گئی ہے۔ یہ وہی گھر ہے جہاں آرمسٹرانگ نے اپنی نوجوانی کے اہم برس گزارے اور ہوابازی و خلائی تحقیق سے ان کی دلچسپی نے عملی شکل اختیار کی۔ یہ مکان 601 West Benton Street پر واقع ہے۔ آرمسٹرانگ خاندان ۱۹۴۴ء میں یہاں منتقل ہوا تھا، جب نیل آرمسٹرانگ کم عمر تھے۔ اس سے قبل ان کے والد کی سرکاری ملازمت کے باعث خاندان متعدد شہروں میں منتقل ہوتا رہا تھا۔ اسی گھر میں نیل آرمسٹرانگ نے بالسا لکڑی سے ماڈل طیارے تیار کیے، کھانے کے کمرے میں ان پر کام کیا اور تہہ خانے میں ایک چھوٹی سی Wind Tunnel بنا کر اپنے ڈیزائن آزمانا شروع کیے۔ وہ اکثر سائیکل پر قریبی ہوائی پٹی تک جاتے، جہاں پرواز کی تربیت حاصل کرتے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل بچوں کو شوقیہ قتل کرتا ہے، مسئلہ پورا اسرائیلی معاشرہ ہے: نارمن فنکلسٹین

نیل آرمسٹرانگ نے صرف ۱۶؍ برس کی عمر میں اپنی پہلی تنہا پرواز (Solo Flight) مکمل کی اور پائلٹ کا لائسنس حاصل کیا۔ تقریباً بیس برس بعد وہ خلا میں جانے والے امریکی خلابازوں میں شامل ہوئے اور پھر ۲۰؍ جولائی ۱۹۶۹ء کو Apollo 11 مشن کے دوران چاند پر قدم رکھنے والے دنیا کے پہلے انسان بن گئے۔ ان کا تاریخی جملہ ’’That’s one small step for a man, one giant leap for mankind.‘‘ آج بھی خلائی تاریخ کے اہم ترین اقوال میں شمار ہوتا ہے۔ بعد ازاں سنسناٹی یونیورسٹی میں تدریسی خدمات بھی انجام دیتے رہے۔ 
اس گھر کی موجودہ مالک Karen Mikesell ہیں، جنہوں نے ۱۹۸۸ء میں یہ مکان خریدا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ خریداری کے وقت انہیں معلوم ہی نہیں تھا کہ یہ نیل آرمسٹرانگ کا سابقہ گھر ہے۔ بعد میں ایک ساتھی استاد نے انہیں اس کی تاریخی اہمیت سے آگاہ کیا، جس کے بعد انہوں نے گھر کو حتی الامکان اسی انداز میں محفوظ رکھنے کی کوشش کی جس طرح آرمسٹرانگ خاندان کے دور میں تھا۔ کیرن مائیکسل کے مطابق گزشتہ برسوں کے دوران متعدد خلا باز اس گھر کی زیارت کے لیے آ چکے ہیں، جن میں Buzz Aldrin بھی شامل ہیں، جو ۱۹۶۹ء میں نیل آرمسٹرانگ کے ساتھ چاند پر اترنے والے دوسرے انسان تھے۔ انہوں نے بتایا کہ جب ایلڈرن، آرمسٹرانگ کے سابقہ کمرے میں داخل ہوئے تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ مائیکسل نے یہ بھی بتایا کہ انہیں مختلف خلا بازوں کی جانب سے دستخط شدہ تصاویر، چاند کا ایک پتھر (Moon Rock) اور Apollo 11 خلائی کیپسول پر استعمال ہونے والی سنہری حفاظتی تہہ (Gold Foil) کا ایک ٹکڑا بھی تحفے میں ملا، جو آج اس گھر کی یادگاروں کا حصہ ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل: مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی ثقافتی مرکز کیلئے۳۷؍ ملین ڈالر مختص

انہوں نے کہا کہ ’’میں چاہتی ہوں کہ اس گھر کا نیا مالک بھی اس کی تاریخی اہمیت کو برقرار رکھے۔ اگر ممکن ہو تو کوئی اسے خرید کر اسپیس میوزیم اینڈ آرمسٹرانگ ایئر کو عطیہ کر دے، لیکن اس وقت میوزیم کے پاس اسے خریدنے کے لیے فنڈز موجود نہیں ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’اب وقت آ گیا ہے کہ کوئی اور بھی اس گھر کی دیکھ بھال کا اعزاز حاصل کرے اور اسے تاریخ کا حصہ بنا کر محفوظ رکھے۔‘‘ 
یہ مکان آج بھی بیرونی طور پر تقریباً ویسا ہی دکھائی دیتا ہے جیسا آرمسٹرانگ کے زمانے میں تھا، اگرچہ اندرونی حصوں میں ضروری مرمت اور جدید سہولیات شامل کی جا چکی ہیں۔ گھر کے عقب میں وہ گیراج بھی موجود ہے جسے نیل آرمسٹرانگ نے اپنے والد کے ساتھ مل کر تعمیر کیا تھا، جبکہ ان کا سابقہ بیڈروم آج بھی چاند پر لینڈنگ سے متعلق تصاویر، پینٹنگز اور خلائی یادگاروں سے سجا ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ مکان صرف ایک رہائشی عمارت نہیں بلکہ امریکی خلائی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہے، کیونکہ یہیں ایک ایسے بچے کے خوابوں نے جنم لیا تھا جس نے بعد میں پوری انسانیت کے لیے خلائی تحقیق کی نئی تاریخ رقم کی۔ اسی وجہ سے خلائی شائقین اور سیاح برسوں سے Wapakoneta آ کر اس گھر اور اسپیس میوزیم اینڈ آرمسٹرانگ ایئر کا رخ کرتے رہے ہیں، اگرچہ یہ مکان عوامی دوروں کے لیے باضابطہ طور پر کبھی نہیں کھولا گیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK