Inquilab Logo Happiest Places to Work

میری گرفتاری کی کوشش پراسرائیلی خصوصی فورسیزجوابی کارروائی کیلئے تیار: نیتن یاہو

Updated: July 31, 2026, 10:11 PM IST | Tel Aviv

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے خبردار کیا ہے کہ اگر وہ بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے جاری کردہ گرفتاری وارنٹ کے تحت بیرون ملک حراست میں لیے گئے تو اسرائیلی اسپیشل فورسیز جوابی کارروائی کے لیے تیار ہیں، اور انہوں نے اس بات پر اصرار کیا کہ وہ ان ممالک کا سفر کرنے سے نہیں ڈرتے جو عدالت کے دائرہ اختیار کو تسلیم کرتے ہیں۔

Israeli Prime Minister Netanyahu. Photo: INN
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو۔ تصویر: آئی این این

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے خبردار کیا ہے کہ اگر وہ بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے جاری کردہ گرفتاری وارنٹ کے تحت بیرون ملک حراست میں لیے گئے تو اسرائیلی اسپیشل فورسیز جوابی کارروائی کے لیے تیار ہیں، اور انہوں نے اس بات پر اصرار کیا کہ وہ ان ممالک کا سفر کرنے سے نہیں ڈرتے جو عدالت کے دائرہ اختیار کو تسلیم کرتے ہیں۔امریکہ کے دورے کے دوران فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں نیتن یاہو نے کہا کہ انہوں نے سفر کے دوران گرفتاری کے امکان پر غور کیا ہے، بشمول طبی ایمرجنسی کی صورت میں۔جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے اس بارے میں سوچا ہے کہ اگر وہ کسی ایسے ملک میں جائیں جو آئی سی سی وارنٹ پر عملدرآمد کرتا ہے تو انہیں حراست میں لیا جا سکتا ہے، تو نیتن یاہو نے جواب دیا، ’’ہاں، میں اس کے بارے میں سوچتا ہوں۔ آپ جانتے ہیں، ہمارے پاس اسپیشل فورسیز موجود ہیں۔ میں نے پانچ سال خدمات انجام دیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ سفارتکاری کے حق میں تو یاہو کا جنگ پر زور

واضح رہے کہ آئی سی سی نے نومبر۲۰۲۴ء میں نیتن یاہو اور سابق اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائی سے متعلق مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں گرفتاری وارنٹ جاری کیے تھے۔جبکہ اسرائیل نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے اور وہ عدالت کے دائرہ اختیار کو تسلیم نہیں کرتا۔بعد ازاں وارنٹ کے باوجود، نیتن یاہو نے کہا کہ وہ آئی سی سی کے رکن ممالک کا دورہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کی جانب سے وارنٹ پر کارروائی کے مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ وہ نیویارک جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔نیتن یاہو نے ممدانی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ’’میں اس نفرت پھیلانے والے منتخب اہلکار کے سامنے سچ بولوں گا۔ وہ نیویارک کے ایک گروہ کو دوسرے کے خلاف کھڑا کر رہا ہے۔ وہ انہیں نیویارک کے یہودیوں کے خلاف کر رہا ہے۔‘‘
یاد رہے کہ ممدانی اس سے قبل نیتن یاہو کو ’’جنگی مجرم‘‘ قرار دے چکے ہیں جو آئی سی سی میں مقدمے کا سامنا کر رہے ہیں اور کہا تھا کہ وارنٹ غزہ تنازع کے دوران اسرائیلی اقدامات پر بہت سے لوگوں کے خدشات کی عکاسی کرتا ہے۔ تاہم، انہوں نے تسلیم کیا کہ نیویارک شہر کو آئی سی سی وارنٹ پر عملدرآمد کا کوئی قانونی اختیار نہیں ہے اور انہوں نے امریکی وفاقی حکومت سے اس سلسلے میں اقدام کرنے کی اپیل کی۔ جبکہ یتن یاہو کے قریبی اتحادی امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اس قسم کی کسی بھی کارروائی کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی لیڈر کو اگر وہ امریکہ میں داخل ہوتے ہیں تو گرفتار نہیں کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی مقبولیت کم ترین سطح پر، اکثریت ایران پر فوجی کارروائی کے خلاف: سروے

حالانکہ آئی سی سی وارنٹ نے نیتن یاہو کے سامنے سفارتی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے، کیونکہ عدالت کے رکن ممالک نظریاتی طور پر اسے گرفتار کرنے کے پابند ہیں اگر وہ ان کی سرزمین میں داخل ہوتےہیں۔تاہم کئی ممالک نے عوامی طور پر یہ بتانے سے گریز کیا ہے کہ آیا وہ وارنٹ پر عملدرآمد کریں گے، جبکہ دیگر نے اشارہ دیا ہے کہ وہ روم معاہدےکے تحت اپنی ذمہ داریوں کا احترام کریں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK