ایک سروے کے مطابق برطانیہ میں وزن کم کرنے والے انجکشن استعمال کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ، ہوا ہے، جبکہ گروسری پر خرچ کم ہوگیا۔
EPAPER
Updated: June 14, 2026, 2:11 PM IST | London
ایک سروے کے مطابق برطانیہ میں وزن کم کرنے والے انجکشن استعمال کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ، ہوا ہے، جبکہ گروسری پر خرچ کم ہوگیا۔
برطانیہ میں کی گئی نئی تحقیق کے مطابق، جن گھرانوں میں وزن کم کرنے والے انجیکشن (GLP-1 ادویات) استعمال کرنے والے افراد موجود ہیں، وہ گروسری پر نمایاں طور پر کم خرچ کر رہے ہیں۔ نیریٹر کے عالمی ادارے ورلڈپینل کی جانب سے۱۱۶۰۰؍ سے زائد گھرانوں پر کئے گئے سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ برطانیہ میں تقریباً۱۹؍ لاکھ بالغ افراد یہ ادویات استعمال کر رہے ہیں، اور گزشتہ دو سالوں میں ان کے استعمال میں تقریباً تین گنا اضافہ ہوا ہے۔تحقیق کے مطابق، اب ۶؍ اعشاریہ ۳؍ فیصد گھرانوں میں کم از کم ایک فرد GLP-1 استعمال کر رہا ہے، جبکہ۲۰۲۵ء میں یہ شرح۴؍ اعشاریہ ایک فیصد اور۲۰۲۴ء میں ۲؍ اعشاریہ ۳؍ فیصد تھی۔
یہ بھی پڑھئے: تھائی شہزادی بجراکیتیابھا کا ۳؍ سال کومے میں رہنے کے بعد انتقال، خاندان سوگوار
بعد ازاں علاج شروع کرنے کے بعد ایک سال کے اندر، ایسے گھرانوں نے اسی طرح کے دیگر گھرانوں کے مقابلے میں گروسری پر۷۸۰؍ ملین پاؤنڈ کم خرچ کئے۔ جبکہ اوسطاً، فی گھرانہ گروسری کے اخراجات میں تقریباً۴۱۸؍ پاؤنڈ کی کمی واقع ہوئی۔سروے کے دوران فروری میں مجموعی طور پر ۲۹؍ کروڑ کم گروسری اشیاء خریدی گئیں۔
یہ بھی پڑھئے: مشرق وسطیٰ تنازع عالمی ترقی کو کورونا کے بعد کی نچلی سطح پر لے آئےگا: ورلڈ بینک
واضح رہے کہ یہ تحقیق ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب Mounjaro اور Wegovy جیسی ادویات کا استعمال بڑھ رہا ہے، جو بھوک میں کمی اور کھانے کی عادات میں تبدیلی کا باعث بنتی ہیں۔ نصف سے زیادہ (۵۲؍ فیصد) GLP-1 استعمال کرنے والوں نے اپنے کھانے کے انداز کو ’’ذہانت پر مبنی‘‘ قرار دیا، یعنی وہ بھوک کی بنیاد پر کھانا منتخب کرتے ہیں، نہ کہ عادت یا مجبوری سے۔ جبکہ۵۴؍ فیصد نے کہا کہ انہیں کھانے کی کم خواہش ہوتی ہے اور کھانے کے بارے میں ذہنی مشغولیت (فوڈ نوائز) کم ہوگئی ہے، جبکہ۱۱؍ فیصد نے بتایا کہ انہیں اب اپنی پسندیدہ غذا یا مشروبات میں پہلے جیسا لطف نہیں آتا۔