Inquilab Logo Happiest Places to Work

نیدرلینڈز میں ڈونالڈ ٹرمپ کی شکل والی ایکسٹیسی گولیوں پر ’ریڈ الرٹ‘ جاری: ’ہرگز استعمال نہ کریں‘

Updated: August 29, 2026, 10:04 PM IST | Amsterdam

ٹرمبوس انسٹیٹیوٹ (Trimbos Institute) کے مطابق، ان گولیوں میں پیرا میتھوکسی میتھ ایمفیٹامائن (PMMA) کی زیادہ مقدار شامل ہے، جو کیمیائی طور پر ایکسٹیسی کے بنیادی فعال جزو MDMA سے مشابہت رکھنے والا مادہ ہے۔ ٹرمبوس نے متنبہ کیا کہ پی ایم ایم اے (PMMA) کو اپنا اثر دکھانے میں ایم ڈی ایم اے (MDMA) کے مقابلے زیادہ وقت لگ سکتا ہے اور یہ تاخیر صارفین کو یہ سوچ کر مزید گولیاں لینے پر مجبور کر سکتی ہے کہ پہلی خوراک نے کام نہیں کیا، جس سے ممکنہ طور پر جان لیوا اوور ڈوز کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

Donald Trump. Photo: X
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: ایکس

منشیات اور دماغی صحت کے ایک سرکردہ ڈچ ادارے نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے چہرے کی شکل میں بنی ایکسٹیسی گولیوں پر ”ریڈ الرٹ“ جاری کرکے متنبہ کیا ہے کہ یہ گولیاں ممکنہ طور پر جان لیوا ہو سکتی ہیں۔ ٹرمبوس انسٹیٹیوٹ (Trimbos Institute) نے جمعہ کے روز بتایا کہ حال ہی میں نیدرلینڈز میں منشیات کے معائنے کے مراکز کے نیٹ ورک میں ایسی متعدد گولیاں جمع کرائی گئی تھیں، جہاں صارفین استعمال سے پہلے اشیاء کی جانچ کروا سکتے ہیں۔ ادارے نے خبردار کیا کہ ”ان گولیوں کو ہرگز استعمال نہ کریں۔“

ٹرمبوس کی جانب سے جاری کردہ تصاویر میں ان گولیوں کے ایک طرف ٹرمپ کے چہرے کا خاکہ دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ دوسری طرف ایک عمودی لکیر کے ذریعے الگ کئے گئے الفاظ ”NL“ اور ”Trump“ کندہ ہیں۔ یہ گولیاں فی الحال سبز اور پیلے رنگوں میں پائی گئیں۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ نے اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے’ لیک امریکہ‘ رکھ دیا

ادارے کے مطابق، ان گولیوں میں پیرا میتھوکسی میتھ ایمفیٹامائن (PMMA) کی زیادہ مقدار شامل ہے، جو کیمیائی طور پر ایکسٹیسی کے بنیادی فعال جزو MDMA سے مشابہت رکھنے والا مادہ ہے۔ ٹرمبوس نے متنبہ کیا کہ پی ایم ایم اے (PMMA) کو اپنا اثر دکھانے میں ایم ڈی ایم اے (MDMA) کے مقابلے زیادہ وقت لگ سکتا ہے اور یہ تاخیر صارفین کو یہ سوچ کر مزید گولیاں لینے پر مجبور کر سکتی ہے کہ پہلی خوراک نے کام نہیں کیا، جس سے ممکنہ طور پر جان لیوا اوور ڈوز کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ادارے نے کہا کہ ان گولیوں کا استعمال ”جسم کے درجہ حرارت میں شدید اضافے (اوور ہیٹنگ) کا سبب بن سکتا ہے جس کے ممکنہ طور پر مہلک نتائج نکل سکتے ہیں۔“

اس انتباہ کے باوجود، ٹرمبوس کی ترجمان انیک گروتھوئس نے کہا کہ اب تک ٹرمپ کی شکل والی ان گولیوں سے متعلق شدید بیماری یا اموات کی کوئی تصدیق شدہ رپورٹ موصول نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ”ہمیں ایسے کسی متاثرہ شخص کا علم نہیں ہے جس کے خون میں پی ایم ایم اے پایا گیا ہو۔“

یہ بھی پڑھئے: ایران نے ٹرمپ کے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے پر ذہنی مریض قرار دیا

واضح رہے کہ نیدرلینڈز میں ایکسٹیسی بدستور غیر قانونی ہے، اس کا استعمال بالخصوص نائٹ کلبوں اور میوزک فیسٹیولز میں بڑے پیمانے پر پایا جاتا ہے۔ ۲۰۲۴ء کی ایک حکومتی رپورٹ کے مطابق اس سال تقریباً ۵۵۰۰۰۰ صارفین کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔ یہ ایسی گولیوں کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔ ۲۰۱۷ء میں، جرمن پولیس نے ٹرمپ کے سر کی شکل میں ڈھلی ہوئی ہزاروں نارنجی رنگ کی ایکسٹیسی گولیاں ضبط کی تھیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK