Updated: November 07, 2026, 1:11 PM IST
| New Delhi
امریکی ادارے FDA کو موصول ہونے والی ۲۸؍ ہزار سے زائد مضر اثرات کی رپورٹوں کے تجزیے میں کیفین اور دیگر محرک اجزا والے مشروبات اور سپلیمنٹس کا سنگین قلبی مسائل سے تعلق سامنے آیا ہے۔ ۱۸؍ سے ۳۴؍ سال کے نوجوانوں سے متعلق رپورٹوں نے ڈاکٹروں کی تشویش بڑھا دی ہے، تاہم محققین نے واضح کیا ہے کہ یہ نتائج براہِ راست سبب اور اثر ثابت نہیں کرتے۔
امتحانات کی تیاری، طویل دفتری اوقات، رات بھر جاگنے اور جم میں بہتر کارکردگی کے لیے انرجی ڈرنکس استعمال کرنے والے نوجوانوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ کیفین اور دیگر محرک اجزا سے بھرپور یہ مصنوعات دل کی صحت کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ امریکی تحقیق کے مطابق انرجی ڈرنکس اور ورزش سے پہلے استعمال کیے جانے والے بعض سپلیمنٹس سے متعلق مضر اثرات کی رپورٹوں میں ہارٹ اٹیک، دل کی دھڑکن بے ترتیب ہونے اور اچانک دل بند ہونے جیسے واقعات کا تناسب دیگر مصنوعات کے مقابلے میں کہیں زیادہ پایا گیا ہے۔ یہ تحقیق یونیورسٹی آف ورجینیا اسکول آف میڈیسن کے محققین نے امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (FDA) کے حفاظتی ڈیٹا بیس میں ۲۰۱۷ء سے ۲۰۲۵ء کے دوران درج ہونے والی ۲۸۳۴۵؍ مضر اثرات کی رپورٹوں کا جائزہ لے کر کی۔ ان میں ۸۵۴؍ رپورٹیں کیفین یا دیگر محرک اجزا پر مشتمل انرجی ڈرنکس اور غذائی سپلیمنٹس سے متعلق تھیں، جبکہ ۲۷۴۹۱؍ رپورٹیں ایسی مصنوعات کے بارے میں تھیں جن میں یہ اجزا شامل نہیں تھے۔ تحقیق کے نتائج ۶؍ سے ۹؍ نومبر ۲۰۲۶ء کے دوران شکاگو میں منعقد ہونے والے امریکن ہارٹ اسوسی ایشن (AHA) کے سائنسی اجلاس میں پیش کیے جانے کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق کیفین اور محرک اجزا والی مصنوعات سے متعلق رپورٹوں میں دل کا اچانک بند ہونا (Cardiac Arrest) تقریباً ۱۱؍ گنا زیادہ درج کیا گیا۔ انرجی ڈرنکس اور سپلیمنٹس سے متعلق رپورٹوں میں ہارٹ اٹیک کا ذکر تقریباً ۵ء۴؍ گنا زیادہ تھا، جبکہ دل کی غیر معمولی دھڑکن یا دھڑکن محسوس ہونے (Arrhythmia and Palpitations) کے واقعات تقریباً ۴؍ گنا زیادہ رپورٹ ہوئے۔ اس کے علاوہ دل کی رفتار بڑھنے کے واقعات تقریباً ۳؍ گنا، سینے میں درد ۷۱ء۲؍ گنا اور بے ہوشی کے واقعات تقریباً ۲؍ گنا زیادہ سامنے آئے۔
یہ بھی پڑھئے: رائے گڑھ کے مانڈوا میں ایل ای ڈی کے ذریعے ماہی گیری پرسخت کارروائی
تحقیق میں ایک اہم پہلو یہ بھی سامنے آیا کہ کیفین اور محرک اجزا سے متعلق قلبی مسائل کی رپورٹوں میں تقریباً ۴۵؍ فیصد واقعات ۱۸؍ سے ۳۴؍ سال کی عمر کے افراد سے متعلق تھے۔ یہ عمر کا وہ گروپ ہے جسے عام طور پر دل کی بیماریوں کے بلند خطرے والے طبقات میں شمار نہیں کیا جاتا۔ محققین کے مطابق نوجوانوں میں ان مصنوعات کے استعمال کے انداز، ورزش سے پہلے ان کا استعمال، دیگر محرک مادوں کے ساتھ امتزاج اور پہلے سے موجود مگر تشخیص نہ ہونے والی قلبی کیفیت اس رجحان کی ممکنہ وجوہات ہو سکتی ہیں۔ تاہم تحقیق کے نتائج کو اس معنی میں نہیں لیا جا سکتا کہ انرجی ڈرنکس لازماً ہارٹ اٹیک کا سبب بنتی ہیں۔ امریکن ہارٹ اسوسی ایشن کے چیئرمین ڈاکٹر گریگوری مارکس نے کہا کہ ’’یہ تحقیق اس تشویش کو جنم دیتی ہے کہ کیفین کی بہت زیادہ مقدار رکھنے والی مصنوعات قلبی نظام کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہیں۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ اس تجزیے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کیفین والی مصنوعات ہی ان واقعات کی وجہ تھیں، کیونکہ دیگر عوامل بھی نتائج پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ یہ تحقیق ابتدائی نوعیت کی ہے اور سائنسی اجلاس میں پیش کیے جانے والے اس کے خلاصے کو ابھی کسی مکمل، ہم مرتبہ جائزہ شدہ تحقیقی جریدے میں شائع شدہ مطالعے کا درجہ حاصل نہیں۔ ماہرین کی تشویش صرف عام انرجی ڈرنکس تک محدود نہیں بلکہ جم میں استعمال ہونے والے پری ورک آؤٹ پاؤڈرز اور دیگر محرک سپلیمنٹس بھی اس میں شامل ہیں۔ بعض انرجی ڈرنکس میں فی اونس کیفین کی مقدار عام کافی کے مقابلے میں ۳؍ گنا تک ہو سکتی ہے، جبکہ بعض پری ورک آؤٹ سپلیمنٹس میں فی اونس یہ مقدار ۱۲؍ گنا سے بھی زیادہ بتائی گئی ہے۔ بعض مصنوعات میں گوارانا (Guarana) جیسے اجزا بھی شامل ہوتے ہیں، جو اضافی کیفین فراہم کرتے ہیں۔ نتیجتاً صارفین کو اندازہ نہیں ہو پاتا کہ وہ دن بھر میں کیفین کی کتنی مجموعی مقدار لے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ’’اقلیتوں کے حقوق کی بات کرنا جرم نہیں ہے‘‘، الٰہ آباد ہائی کورٹ
دبئی میں ماہر امراض قلب ڈاکٹر ہشام طیّل نے ’دی نیشنل‘ سے گفتگو میں کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران انہیں کیفین کے استعمال سے متعلق قلبی شکایات کے ساتھ زیادہ نوجوان مریض نظر آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق زیادہ تر مریضوں کے معاملات براہِ راست ہارٹ اٹیک یا اچانک دل بند ہونے جیسے نہیں ہوتے، بلکہ انہیں انرجی ڈرنکس کے زیادہ استعمال، پری ورک آؤٹ سپلیمنٹس، نکوٹین مصنوعات، نیند کی کمی اور سخت ورزش کے بعد دل کی دھڑکن اور دیگر مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان مشروبات کو محض ڈبے میں بند کافی سمجھنا درست نہیں، کیونکہ ان میں کئی محرک اجزا بیک وقت موجود ہو سکتے ہیں۔ ڈاکٹر زیدون حجالی، کنسلٹنٹ انٹروینشنل کارڈیولوجسٹ، نے بھی اس جانب توجہ دلائی کہ نوجوان اکثر کافی، آئسڈ کافی، انرجی ڈرنکس اور پری ورک آؤٹ سپلیمنٹس کو الگ الگ چیزیں سمجھ کر استعمال کرتے ہیں اور مجموعی کیفین کا حساب نہیں رکھتے۔ ان کے مطابق بعض نوجوانوں کو دل کی تیز دھڑکن، سینے میں بے آرامی، بے چینی اور نیند کی خرابی جیسی علامات کا سامنا ہوتا ہے۔ امریکن ہارٹ اسوسی ایشن کے مطابق زیادہ تر صحت مند بالغ افراد کے لیے روزانہ ۴۰۰؍ملی گرام تک کیفین عمومی طور پر قابلِ قبول سمجھی جاتی ہے، لیکن یہ حد بچوں اور نوعمر افراد کے لیے نہیں ہے۔ امریکی اکیڈمی آف پیڈیاٹرکس نوعمروں کو انرجی ڈرنکس سے اجتناب کا مشورہ دیتی ہے۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ سینے میں درد، بے ہوشی، شدید سانس پھولنے یا مسلسل بے ترتیب دھڑکن کی علامات کو محض کیفین کا عارضی اثر سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ خاص طور پر انرجی ڈرنک یا پری ورک آؤٹ سپلیمنٹ استعمال کرنے کے بعد ایسی علامات ظاہر ہوں تو فوری طبی معائنہ ضروری ہے۔ مناسب نیند، متوازن غذا، پانی کا کافی استعمال اور ورزش کے ساتھ جسم کو مناسب آرام دینا توانائی برقرار رکھنے کے زیادہ محفوظ طریقے ہیں۔ انرجی ڈرنک وقتی چستی تو پیدا کر سکتی ہے، لیکن تھکن کی بنیادی وجہ کا علاج نہیں کرتی۔