Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’تھانے میونسپل کارپوریشن کے اجلاس میں بحث کے بغیر تجویز منظور نہ کی جائے ‘‘

Updated: May 07, 2026, 2:06 PM IST | Iqbal Ansari | Thane

ایم آئی ایم کےگروپ لیڈر سیف پٹھان کا میئر اور کمشنر کو مکتوب ، مطالبہ کیا کہ جمہوری طریقے سے ہاؤس چلایاجائے۔

AIMIM Group Leader Saif Pathan Handing Over A Letter To Mayor Sharmila Pampolkar.Photo:INN
ایم آئی ایم کے گروپ لیڈر سیف پٹھان میئر شرمیلا پمپولکر کومکتوب دیتے ہوئے- تصویر:آئی این این
ممبرا،(اقبال انصاری): تھانے میونسپل کارپوریشن (ٹی ایم سی)  میں مجلس اتحاد المسلمین ( ایم آئی ایم ) کے گروپ لیڈر سرفراز خان عرف سیف پٹھان نے میونسپل کارپوریشن کے عام اجلاس( ہاؤس ) میں ہونے والی کارروائی پر سوال اٹھائے ہیں ۔انہوںنے کہا کہ عام اجلاس   میں جمہوریت کا گلا گھونٹا جا رہا ہے۔ تقریباً  ۳۰۰؍  تجاویز پر مشتمل ایجنڈا پیش کیا جاتا ہے لیکن اپوزیشن پارٹیوں کے اراکین کو ان پر اظہار رائے کی اجازت نہیںدی جاتی  ۔ ایجنڈے میں شامل تجاویزکو بغیر بحث کے زیادہ ووٹوں سے منظور کیا جارہا ہے۔ یہ  جمہوریت کیلئے نقصاندہ  ہے اور تمام مسائل پر ایوان میں بحث کی جانی چاہئے۔ انہوں نے میئر اور میونسپل کمشنر کو ایک مکتوب دے کر مطالبہ کیا کہ جمہوریت کو بچایا جائے۔
اس سلسلے میں سیف پٹھان نے انقلاب سے گفتگو کرتے ہوئے بتایاکہ ’’فروری۲۰۲۶ء میں پہلے عام اجلاس میں مہاراشٹر ممبئی میونسپل کارپوریشن ایکٹ۱۹۴۹ءکے سیکشن ۷۲؍ (بی) کے تحت تمام تجاویز کو ایک ساتھ پڑھا گیا اور بغیر کسی بحث کےمنظوری دے دی گئی۔ اس وقت نومنتخب کارپوریٹروں کو اس عمل کو سمجھنے کا موقع بھی نہیں دیا گیا تھا۔ مارچ ۲۰۲۶ءکی جنرل باڈی   میٹنگ میں تقریباً  ۲۸؍سے ۲۹۳؍تجاویز پیش کی گئیں۔تاہم صرف ۶؍ تا ۸؍تجاویز پر  بحث ہوئی اور بقیہ کو بغیر کسی تفصیلی بحث کے منظور کر لیا گیا۔ اسی طرح اپریل۲۰۲۶ءمیں ہونے والے اجلاس میں تقریباً۳۰۰؍تجاویز پیش کی گئیں ،ان میں سے صرف۱۱؍تجاویز  زیر بحث آئیں اور بقیہ کو اجتماعی طور پر منظور کر لیا گیا۔ 
 
 
سرفراز خان عرف سیف پٹھان نے اپنے خط میں افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ طریقہ کارپوریٹروںکے حقوق میں مداخلت  ہے اور جنرل باڈی  م یٹنگ کو صرف رسمی ربڑ اسٹیمپ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔انہوںنے مزید کہاکہ خاص طور پر مہاراشٹر ممبئی میونسپل کارپوریشن ایکٹ، ۱۹۴۹ء  کے سیکشن ۳۵(اے) کے تحت، ’منظوری کیلئے‘ اور ’معلومات/ تجویز‘  ان دونوں موضوعات کو ایک ہی انداز میں پیش کیا جاتا ہے اور بغیر کسی بحث کے منظوری دی جاتی ہے۔ ’معلومات کیلئے ‘ کے تحت پیش کی گئی معلومات کو جنرل باڈی کی اطلاع کیلئے پیش کیا جاتا ہے جبکہ ’منظوری‘ کے تحت پیش کی جانے والی تجاویز پر تفصیلی بحث اور اس کے بعد فیصلے کی ضرورت ہوتی ہے۔ 
 
 
ایم آئی ایم کے گروپ لیڈر نے کہا کہ ’’جنرل باڈی کی میٹنگ میں بغیر کسی بحث کے بڑی تعداد میں تجاویزکو منظوری دینا شفافیت کے اصولوں کے خلاف ہے۔ انہوں نےاپنے لیٹر میں جو بنیادی مطالبات کئے ہیں، ان میںعام اجلاس میں پیش کئے جانے والے ہر معاملے پر بحث لازمی ہونی چاہئے، کسی بھی معاملے پر بحث کےبغیر بھاری اکثریت سے منظوری دینے کا رواج فوری طور پر بند کیا جائے، سیکشن۳۵؍ اے کے تحت ’منظوری‘ اور’معلومات‘ کی صورت میں مسائل کو واضح طور پر الگ کرکے اس کے مطابق عمل درآمد کیا جائے اور دیگرمطالبے شامل ہیں۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK