ممبئی سمیت پوری ریاست میں ۳۰؍ جون سے ۲۹؍ جولائی تک ووٹروں کی تصدیق اور ’انومریشن فارم‘ بھرنے کا عمل جاری رہے گا، اس دوران ذمہ داری کا ثبوت دیجئے اور پوری طرح تیار رہئے۔
EPAPER
Updated: June 29, 2026, 10:04 AM IST | Shahab Ansari | Mumbai
ممبئی سمیت پوری ریاست میں ۳۰؍ جون سے ۲۹؍ جولائی تک ووٹروں کی تصدیق اور ’انومریشن فارم‘ بھرنے کا عمل جاری رہے گا، اس دوران ذمہ داری کا ثبوت دیجئے اور پوری طرح تیار رہئے۔
ممبئی سمیت پوری ریاست میں کل، ۳۰؍ جون سے ووٹروں کی فہرست کا باریکی سے جانچ کا سروے ’ایس آئی آر‘ (اسپیشل انٹینسیو ریویژن) شروع ہوجائے گا جو ۲۹؍ جولائی ۲۰۲۶ء تک جاری رہے گا۔ اس سروے میں ’بی ایل او‘ (بوتھ لیول آفیسر) گھر گھر جاکر ووٹروں کی موجودگی اور ووٹروں کی فہرست میں ان کے نام موجود ہونے کی تصدیق کریں گے۔یہ آخری موقع ہے جس کی بنیاد پر ووٹر لسٹ میں نام رکھنے یا نکالنے کا فیصلہ ہوگا۔
منگل سے گھر گھر جاکر شروع ہونے والے سروے کی کارروائی کے بعد ۵؍ اگست کو مجوزہ فہرست ظاہر کی جائے گی اور حتمی فہرست ۱۰؍ اکتوبر کو شائع کی جائے گی۔ رائے دہندگان کو ۵؍ اگست سے ۱۰؍ اکتوبر کے درمیان ایک مہینے کا وقت دیا جائے گا تاکہ وہ حسب ضرورت فہرست کے تعلق سے دعوے اور اعتراضات داخل کرسکیں اور متعلقہ افسران کو ان اعتراضات پر ۳؍ اکتوبر تک فیصلہ کرنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے: زیبرا فنچز کی ’زبان‘ سمجھنے میں بڑی پیش رفت، سائنسداں کو ایک لاکھ ڈالر کا انعام
جو بی ایل او تفصیلات حاصل کرنے گھر پر آئیں گے وہ ووٹروں کو ’انومریشن فارم‘ بھرنے کو دیں گے۔ اس فارم کو صفائی کے ساتھ بغیر کوئی غلطی کئے بھرنا ہے اور ’اوور رائٹنگ‘ (تحریر پر تحریر) بھی نہیں کرنا ہے۔
فارم میں کیاکیا پُر کرنا ہے؟
فارم کے دائیں جانب ووٹر کی پاسپورٹ سائز کی کلر فوٹو چپکانی ہے۔ یاد رہے کہ پرانی تصویر استعمال نہیں کرنی ہے اور یہ تصویر سفید رنگ کے بیک گراؤنڈ والی ہونا چاہئے۔ اس کے نیچے رائے دہندہ کی موجودہ ووٹر لسٹ کی تفصیل درج کرنا ہے جس میں تاریخ پیدائش، آدھار نمبر، موبائل نمبر، والد/ سرپرست کا نام، اگر والد / سرپرست کا الیکشن کارڈ کا نمبر ( ایپک نمبر) ہے تو وہ، والدہ کا نام، اگر ممکن ہو تو والدہ کا ایپک نمبر بھی لکھنا ہے۔ اگر شادی شدہ ہو تو بیوی کا نام، اگر ممکن ہو تو بیوی کا اپیک نمبرلکھنا ہے۔ اس کے نیچے والے کالم میں ووٹر کی گزشتہ ایس آئی آر کی تفصیل لکھنا ہے۔ اس میں ووٹر کا نام، ایپک نمبر، رشتہ دار کا نام اگر ووٹر کا نام گزشتہ ایس آئی آر میں موجود تھا تو اس کالم میں اسے’ سیلف‘ لکھنا ہوگا۔ اگر اس کانام درج نہیں تھا لیکن والد، والدہ، دادا، دادی ، نانا یا نانی میں سے کسی ایک کا بھی نام درج تھا تو ان کانام ’رشتہ دار کی تفصیل ‘کے کالم میں درج کرنا ہوگا اور ان سے ووٹر کا کیا رشتہ ہے، وہ بھی لکھنا ہوگا۔ آخر میں اسمبلی حلقہ (اے سی) نمبر، پارٹ نمبر (یادی نمبر) اور نمبر شمارلکھنا ہوگا۔
پیشگی کرنے کے کام
ضروری دستاویز کی ایک ایک زیراکس کرواکر پیشگی رکھ لیں۔ ۲۰۰۲ء کی ووٹر لسٹ میں جس صفحہ پر آپ کا یا آپ کے والدین یا دادا دادی کا نام درج ہے اس کا پرنٹ آئوٹ یا زیراکس رکھ لیں۔میپنگ کرنے کے بعد بی ایل او ہرے رنگ کا میسیج بھیجے گا ،اس کابھی گھر کے تمام افراد کا پرنٹ آئوٹ نکال لیں۔
یہ بھی پڑھئے: ڈونالڈ ٹرمپ کی ڈجیٹل ٹیکس لگانے والوں کو ٹیریف کی دھمکی
ضروری دستاویز کی تفصیلات
جن دستاویز کے بغیر کام نہیں چلے گا ان میں ووٹر کی ۲؍ تصاویر، خواتین کی تصویروں میں خاتون کے دونوں کان نظر آنے چاہئیں۔ آدھار کارڈ، موبائل فون نمبر، تاریخ پیدائش کا کوئی ایک ثبوت: برتھ سرٹیفکیٹ یا اسکول لیونگ (خارجہ) سرٹیفکیٹ یا دسویں بورڈ کا سرٹیفکیٹ یا پاسپورٹ یا پھر پین کارڈ۔ اس کے علاوہ پرانا خاندانی ریکارڈ (۲۰۰۲ء یا ۲۰۰۴ء کی ووٹر لسٹ) جس میں اپنا یا اپنے والد، والدہ، دادا یا دادی کا نام ہو۔ جن ووٹروں کا نام ۲۰۲۴ء کی حتمی فہرست میں شامل ہے بی ایل او ان ووٹروں کا پہلے سے شائع شدہ فارم لے کر آسکتے ہیں۔ اس فارم پر رائے دہندہ کی تصویر، کیو آر کوڈ، نام اور پتہ پہلے سے چھپا ہوسکتا ہے۔ فارم پر موبائل نمبر ضرور لکھیں تاکہ ’ای سی آئی‘ (الیکشن کمیشن آف انڈیا) آپ کو ایس ایم ایس کے ذریعہ اطلاع دے سکے۔
نام وغیرہ میں تصحیح (کریکشن) ہو تو؟
اگر نام کے املے (اسپیلنگ)، عمر، رشتہ میں غلطی ہے تو فارم نمبر ۸؍ والا حصہ پُر کریں اور جس دستاویز (ڈاکیومنٹ) میں نام، عمر، رشتہ وغیرہ صحیح درج ہے اس کی فوٹو کاپی (زیراکس) لازماً ساتھ میں جوڑ دیں۔مثلاً اگر آدھار میں نام صحیح درج ہے اور ووٹر لسٹ میں غلط تحریر ہے تو آدھار کارڈ کی کاپی ساتھ میں لگا دیں۔
دستاویز نہ ہونے پرپریشانی ہوسکتی ہے
اگر کوئی دستاویز دستیاب نہیں ہے تو بی ایل او فارم پر ’ڈاکیومنٹ ناٹ اویلیبل‘ لکھ دے گا جس سے پریشانی ہوسکتی ہے۔
شبہ کی وجوہات
ووٹر لسٹ میں اگر ووٹر کا نام، پتہ یا عمر میں بہت زیادہ فرق یا غلطی ہے تو بی ایل او کو شبہ ہوسکتا ہے کہ آپ فرضی یا ’ڈپلیکیٹ‘ ووٹر ہیں۔ ایسی صورت میں لازماً ثبوت کے طور پر کوئی دستاویز پیش کرنا ہوگا جس میں پرانا لیونگ سرٹیفکیٹ، پرانا راشن کارڈ، آپ کی ملازمت کا کارڈ، پرانا بجلی کا بل جو آپ کے نام پر ہو یا دیگر کوئی دستاویز جو ۲۰۰۲ء یا اس سے پہلے کا ہو جس پر ووٹر کا نام درج ہو۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: ٹرمپ نے ڈیموکریٹ کو ’’بے دین کمیونسٹ‘‘ قرار دیا
کوئی دستاویز نہ دینے پر کیا ہوگا؟
اگر آپ ثبوت کے طور پر کوئی دستاویز نہیں دے سکے تو بی ایل او فارم پر ’سسپیکٹیڈ یا ڈائوٹ فُل‘ لکھ سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو ’ای آر او‘ (الیکشن رجسٹریشن آفیسر) آپ کو نوٹس بھیج کر کسی تاریخ کو ان کے بتائے ہوئے پتہ پر بلائے گا جہاں آپ کو ’ہیئرنگ‘ (سماعت) کیلئے حاضرہونا پڑے گا۔ اس ہیئرنگ میں متعلقہ دستاویز مثلاً آدھار کارڈ، برتھ سرٹیفکیٹ، لیونگ سرٹیفکیٹ، راشن کارڈ، بجلی کا پرانا بل (جو آپ کے نام، پتے، عمر کو صحیح ثابت کرسکے) کی اصل اور زیراکس کاپی دونوں لے کر جانا ہوگا۔ فارم جمع کرنے کے بعد اگر ہیئرنگ کیلئے نوٹس موصول ہوتا ہے تو نوٹس میں درج تاریخ اور پتہ پر متعلقہ دستاویز کے ساتھ ضرور حاضر ہوں، اگر آپ ہیئرنگ میں نہیں گئے تو آپ کا نام ووٹروں کی فہرست سے خارج کردیا جائے گا۔