• Mon, 19 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نوبیل امن انعام منتقل نہیں ہو سکتا، علامتی طور پر بھی: نوبیل فاؤنڈیشن

Updated: January 19, 2026, 8:02 PM IST | Stockholm

نوبیل فاؤنڈیشن نے واضح کیا ہے کہ نوبیل امن انعام کسی اور کو نہ قانونی طور پر اور نہ ہی علامتی طور پر دیا جا سکتا ہے، چاہے انعام یافتہ خود ایسا کرنے کی خواہش ہی کیوں نہ رکھتا ہو۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

نوبیل فاؤنڈیشن نے ایک بار پھر اپنے اصولوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نوبیل امن انعام کسی دوسرے فرد کو منتقل نہیں کیا جا سکتا، حتیٰ کہ علامتی طور پر بھی نہیں۔ یہ وضاحت اس وقت سامنے آئی جب وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر ماریہ کورینا ماشاڈو نے اپنے نوبیل امن انعام کا تمغہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پیش کیا۔ فاؤنڈیشن کے مطابق نوبیل انعام ایک ذاتی اعزاز ہوتا ہے، جو صرف اسی فرد سے منسلک رہتا ہے جسے نوبیل کمیٹی منتخب کرتی ہے۔ اس اعزاز کو نہ تو کسی اور کے نام کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اسے علامتی طور پر منتقل کرنے کی کوئی گنجائش موجود ہے۔ فاؤنڈیشن نے کہا کہ انعام کا مقصد کسی شخصیت کی مخصوص خدمات کو تسلیم کرنا ہوتا ہے، نہ کہ سیاسی یا ذاتی اظہار کے طور پر استعمال ہونا۔

یہ بھی پڑھئے: سپریم لیڈر پر کسی بھی قسم کا حملہ ایران کے خلاف اعلان جنگ ہے: صدر پزشکیان

البتہ نوبیل فاؤنڈیشن نے یہ بھی واضح کیا کہ انعام کے ساتھ ملنے والا تمغہ یا رقم انعام یافتہ کی ذاتی ملکیت ہوتی ہے، جسے وہ تحفے کے طور پر کسی کو بھی دے سکتا ہے۔ تاہم اس عمل سے انعام کا اصل اعزاز، اس کی پہچان یا اس کی قانونی حیثیت تبدیل نہیں ہوتی۔ ماریہ کورینا ماشاڈو کو نوبیل امن انعام وینزویلا میں جمہوری جدوجہد، انسانی حقوق کے تحفظ اور پرامن سیاسی مزاحمت کے اعتراف میں دیا گیا تھا۔ انہوں نے ڈونالڈ ٹرمپ کو تمغہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام عالمی امن کے لیے ان کی کوششوں کے اعتراف کے طور پر ہے۔ اس پیشکش کو ٹرمپ نے خوش دلی سے قبول کیا اور اسے باہمی احترام کی علامت قرار دیا۔

یہ بھی پڑھئے: نئے لیبر قوانین سے نجی بینکوں اور انشورنس کمپنیوں کے اخراجات میں اضافہ

تاہم نوبیل فاؤنڈیشن نے فوری طور پر یہ مؤقف اختیار کیا کہ اس اقدام کا نوبیل انعام کی حیثیت یا اس کی ملکیت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ فاؤنڈیشن کے مطابق ٹرمپ کو نوبیل امن انعام یافتہ نہیں کہا جا سکتا، کیونکہ انعام صرف اسی فرد کے نام سے جانا جاتا ہے جسے نوبیل کمیٹی منتخب کرے۔ اس معاملے نے عالمی سطح پر بحث کو جنم دیا ہے۔ کچھ حلقے اسے محض ایک علامتی اقدام قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات نوبیل انعام کی غیرجانبدارانہ اور سنجیدہ روایت کو متاثر کر سکتے ہیں۔ نوبیل فاؤنڈیشن نے دو ٹوک انداز میں کہا ہے کہ انعام کے اصول ناقابلِ تبدیل ہیں اور ان پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK