Inquilab Logo Happiest Places to Work

جنوبی کوریا نے جوہری پروگرام کو ’ناقابلِ واپسی‘ قرار دیا، ’بے رحمانہ‘ جوابی کارروائی کی وارننگ

Updated: March 24, 2026, 10:02 PM IST | Pyongyang

کم جونگ ان نے پڑوسی ملک کو خاص طور پر نشانہ بناتے ہوئے اسے ”سب سے بڑی دشمن ریاست“ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ شمالی کوریا کی جانب سے ہماری خودمختاری کی کسی بھی خلاف ورزی کا جواب ”کسی ادنیٰ غور و خوض یا ہچکچاہٹ کے بغیر، بے رحمی سے“ دیا جائے گا۔

Kim Jong Un. Photo: X
کم جونگ ان۔ تصویر: ایکس

مشرقِ وسطیٰ میں جاری ایران جنگ کے دوران، شمالی کوریا کے سپریم لیڈر کم جونگ ان نے اپنے دیرینہ عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ان کا ملک جوہری ہتھیاروں کا پروگرام کبھی ترک نہیں کرے گا۔ انہوں نے شمالی کوریا کی ایٹمی طاقت کی حیثیت کو ”ناقابلِ واپسی“ قرار دیتے ہوئے علاقائی حریفوں کو سخت وارننگ جاری کی ہے۔

شمالی کوریا کی مقننہ (جسے اکثر ربڑ اسٹیمپ پارلیمنٹ کہا جاتا ہے) سے خطاب کرتے ہوئے کم جونگ ان نے کہا کہ پیانگ یانگ اپنے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے کو مضبوط بنانا جاری رکھے گا۔ انہوں نے اسے آئینی ذمہ داری قرار دیا۔ ان کا یہ بیان ۲۴ مارچ کو ملک کے قومی میڈیا ادارے کورین سینٹرل نیوز ایجنسی (کے سی این اے) نے جاری کیا۔

یہ بھی پڑھئے: ایران کی واضح شرائط، امریکی اڈے بند ہوں، ہرمز پر مکمل کنٹرول کی مانگ

جوہری توسیع پر ’کوئی سمجھوتہ نہیں‘

کم جونگ ان نے مزید کہا کہ شمالی کوریا، ایٹمی مسلح ریاست کے طور پر اپنی پوزیشن کو ”مضبوطی سے مستحکم“ کرے گا اور معاندانہ قوتوں کا مقابلہ کرنے کیلئے اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کرے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ پالیسی مذاکرات کیلئے کھلی نہیں ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ”ہم اپنے دفاعی جوہری ڈیٹرنٹ (deterrent) کو مزید وسعت دیں گے اور اسے جدید بنائیں گے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ملک کی جوہری افواج کسی بھی اسٹریٹجک خطرے کا جواب دینے کیلئے ”درست تیاری“ کی حالت میں رہیں گی۔ سپریم لیڈر نے اس پروگرام کو قومی سلامتی کیلئے ناگزیر قرار دیا۔

کم جونگ ان کا بیان، ان کے اسٹیٹ افیئرز کمیشن (ملک کا اعلیٰ ترین فیصلہ ساز ادارہ) کے سربراہ کے طور پر دوبارہ تقرر کے ایک دن بعد سامنے آئے ہیں، جس سے اقتدار پر ان کی گرفت مزید مضبوط ہوگئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی فوجیوں نے ۱۸؍ ماہ کے بچے کو تشدد کا نشانہ بنایا

جنوبی کوریا کو براہِ راست وارننگ

اپنے خطاب میں کم جونگ ان نے پڑوسی ملک جنوبی کوریا کو خاص طور پر نشانہ بناتے ہوئے اسے ”سب سے بڑی دشمن ریاست“ قرار دیا اور کسی بھی ایسی کارروائی کے خلاف سخت انتقام کی وارننگ دی جسے ان کا ملک خطرہ تصور کرتا ہو۔ انہوں نے کہا کہ شمالی کوریا کی جانب سے ہماری خودمختاری کی کسی بھی خلاف ورزی کا جواب ”کسی ادنیٰ غور و خوض یا ہچکچاہٹ کے بغیر، بے رحمی سے“ دیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK